مسلم یونیورسٹیوں میں ٹرانسجینڈرازم کی تعلیم
یاسر ندیم الواجدی
حکومت ہند نے سپریم کورٹ میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ہم جنس پرستوں کی شادی مذہب وفطرت اور بھارتی معاشرے کے خلاف ہے۔ عدالتیں اس وقت "ووک” کلچر سے متاثر ہیں، اس لیے اس بات کا امکان ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہم جنس پرستوں کے حق میں آئے گا۔
لیکن حکومتی موقف اور اس کے عمل میں ایک بڑا تضاد بھی پایا جاتا ہے۔ بھارت کے کالج اور یونیورسٹیوں میں ٹرانسجینڈرازم کو فروغ دینے والے مضامین شامل نصاب ہیں اور طلبہ کو یہ پڑھایا جارہا ہے کہ انسان کا ایک بائیولوجیکل سیکس ہوتا ہے جس کی بنیاد پر اس کو مذکر یا مونث کے خانوں میں ڈالا جا سکتا ہے، لیکن اس کے علاوہ جینڈر بھی ہوتا ہے، جو کہ انسانی معاشرے کی تشکیل ہے۔ واضح رہے کہ اس سال تک 103 جینڈرز کی فہرست سازی کی جاچکی ہے۔
تہافت الملاحدہ پروگرام کے تحت ہونے والی کلاس میں مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے مجھے بتایا کہ اس کی ٹیچر نے بی ایڈ کورس کے طلبہ کو یہی رٹوایا ہے کہ جنس الگ ہے اور جینڈر الگ۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ مسلم یونیورسٹیوں کا یہ حال ہے تو عام اداروں کا کیا حال ہوگا۔ یونیورسٹی کا مسلم اقلیتی کردار در حقیقت اس بات سے طے ہونا چاہیے کہ وہاں اسلامی عقائد سے مداہنت کی تعلیم تو نہیں دی جارہی ہے، یہ معیار نہیں ہے کہ وہاں کتنے مسلم بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
ٹرانسجینڈرازم کا سارا فلسفہ یہی ہے کہ بچے کی پیدائش کے وقت اس کے اعضا کی بنیاد پر اس کی بایولوجیکل جنس تو متعین کی جا سکتی ہے، لیکن بڑا ہونے پر وہ بچہ خود اپنے جذبات واحساسات کی بنیاد پر اپنا جینڈر طے کرتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ بڑے ہوکر لڑکے کو لڑکی ہونے کا احساس ہو، یا لڑکی کو لڑکے ہونے کا۔ یہ ایک طویل بحث ہے کہ آیا یہ نقطہ نظر سائنسی اعتبار سے درست ہے یا نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ایک طرف حکومت ہم جنس پرستوں کی شادی کے خلاف موقف اختیار کیے ہوئے ہے، تو دوسری طرف ملک میں یونیورسٹیوں کا نصاب تعلیم ہی ایسا ہے کہ جس سے ہم جنس پرستی کو فروغ ملتا ہے۔
رہی بات مسلمانوں کی، تو اس موضوع پر مولانا محمود مدنی کی جمعیت علمائے ہند کے علاوہ کسی تنظیم کا موقف کم از کم میری نظر سے نہیں گزرا۔ مسلم تنظیموں اور دانشوروں کو اس تعلق سے روڈ میپ بنانا ہوگا۔ اس لیے کہ بہت سے مغربی ممالک میں اس وقت یہ مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے کہ مسجد کے امام صاحب کے پاس اگر مسلم ٹرانسجینڈر جوڑا نکاح کے لیے آتا ہے اور امام صاحب نکاح پڑھانے سے انکار کردیں، تو وہ قانونی مسائل کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اگر ہم ایسی تعلیم یافتہ نسل اپنے اداروں سے تیار کررہے ہیں، جس کا ایمان مغربی فکر وفلسفے پر ہے تو مستقبل میں یہی نام نہاد مسلم نوجوان ہم جنس پرستی کی تحریک کا ہراول دستے ہوں گے۔
Comments are closed.