صرف چاۓ پر،ایک اور مثالی نکاح

از: ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی

 

مسلم پرسنل لا بورڈ کے اصلاح معاشرہ کمیٹی کے بینر تلے "آسان اور مسنون نکاح مہم”بورڈ کے سکریٹری حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی نے حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کے ایماء پرسوشل میڈیا پر شروع کیا تھا جس کے مثبت اثرات اور اچھے نتائج ملک اور بیرون ملک میں دیکھنے کو ملے۔آج کل یہ مہم ذرا سست رفتاری سے چل رہی ہے۔ لیکن اب بھی اس مہم سے جڑے افراد بعض علاقوں میں سرگرم عمل ہیں خصوصاً مہاراشٹر کے لوگ زمینی سطح پر اہتمام کے ساتھ اس مہم کو کامیاب بنانے میں جٹے ہوئے ہیں جس کے نتائج اور اثرات سامنے آتےرہتے ہیں۔ابھی حال ہی میں ایک دوروزپہلےکا واقعہ ہےکہ مومن پورہ سلوڑ کے شیخ شفیق نے اپنے فرزند شیخ سہیل کے لیے لڑکی دیکھنے کے لئے اپنے قریبی رشتہ داروں کے ہمراہ واشم ضلع تعلقہ رسوڑ کے واکد گاؤں پہنچے۔لڑکی پسند آگئی۔لیکن اس کے بعد جب کچھ خیرخواہ اور ملی درد رکھنے والے افراد جو اس مہم سے جڑے ہیں خصوصاً سید انیس،سید عقیل شیخ امان وغیرہ کو جب خبر لگی تو یہ لوگ دولہا دولہن کے گھر والوں کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے آسان مسنون نکاح مہم کا تعارف کرایا اور انہیں سنت و شریعت کے مطابق عقد نکاح منعقد کرنے کی صلاح دی،جس کو لڑکا اور لڑکی دونوں کے ذمہ داروں نے خوش دلی کے ساتھ قبول کرتے ہوئے اس کار خیر کے لیے راضی ہوگئے۔ پھر اسی دن بعد نماز مغرب واکد گاؤں کی مسجد میں شیخ سہیل کا نکاح شیخ ثانیہ بنت راجو کے ہمراہ نہایت سادگی کے ساتھ سنت و شریعت کے مطابق صرف چاۓ کے خرچہ پر ہوگیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے بابرکت اس نکاح کو قرار دیا ہے جس میں سب سے کم خرچ ہو۔لیکن آج کل شادیوں میں ایسی ایسی فضول، بیہودہ، فرسودہ اور ہندوانہ رسمیں ہوتی ہیں جن کا دین اسلام سے کوئی تعلق ہے نہ مسلمانیت سے، نہ اخلاق سے اور نہ ہی ہماری تہذیب و ثقافت سے۔

اسلامی معاشرہ ‌میں شادی بیاہ کی بیشتر رسومات ہندوانہ کلچر سے مستعار لی گئی ہیں۔ ہندوستان میں زیادہ تر مغل فرمانروا شہنشاہ اکبر اور دکن میں سلطان محمد قلی قطب شاہ نے مسلمانوں اور ہندوؤں کو آپس میں ملانے،اتحاد اوراتفاق پیدا کرنے اور یگانگت کی فضا قائم کرنے کے لئے بہت سی ہندوانہ رسومات کو آپس میں ملا دیا تھا۔

ورنہ اسلامی تہذیب اور مسلمانوں کے معاشرہ میں نکاح اور شادی کے موقع پر رسم منگنی، مہندی،رتجگا،مانجھا،تیل چڑھانا،ناچ گانے،بری وغیرہ جیسی رسموں کا کہیں دور تک کا واسطہ نہ تھا۔ انہی رسومات سے ایک رسم جہیز کی تھی چونکہ ہندو، لڑکیوں کو اپنی جائیداد میں سے حصہ نہیں دیتےتھےاس لیے شادی کے وقت اکٹھا ہی جو میسر ہو سکا جہیز کے نام سے لڑکی کے حوالے کردیا۔ ہندوؤں کی دیکھا دیکھی مسلمانوں نے بھی آہستہ آہستہ اس رسم بد کو اپنا لیا۔

ایسے پر آشوب ماحول میں جب کہ ہر طرف فرسودہ رسومات،مسرفانہ اور مشرکانہ مراسم کا بول بالا ہے سنت و شریعت کے مطابق نکاح کرنا باعثِ سعادت ہے۔

Comments are closed.