عیدالاضحی، فضائل، مسائل اور احکامات
مفتی محمد قمر عالم قاسمی
خادم التدریس والافتاء مدرسہ حسینیہ کڈرو رانچی
شہر قاضی رانچی جھارکھنڈ سرکار
خطیب حواری مسجد کربلا چوک رانچی
اللہ تبارک و تعالی نے اپنی کتاب قرآن مقدس کے سورہ فجر میں ذی الحجہ کے 10 راتوں کی قسم کھائی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام میں ذی الحجہ کے ابتدائی عشرہ کی خاص اہمیت و فضیلت ہے حج کا اہم رکن یوم عرفہ بھی اسی عشرہ میں ادا کیا جاتا ہے رمضان المبارک کے بعد ان ایام میں آخرت کی کامیابی حاصل کرنے کا سنہرا موقع ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ ان ایام میں اللہ تعالی کی زیادہ سے زیادہ عبادت کریں، روزہ رکھیں، تلاوت کریں، ذکر و اذکار میں مشغول رہیں اور قربانی کریں۔ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی دن ایسا نہیں جس میں نیک عمل اللہ کے یہاں ان دس دنوں سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہو۔ (سنن ترمذی ابواب الصوم حدیث نمبر 757) ایک دوسری حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالی کے نزدیک عشرہ ذی الحجہ سے زیادہ عظمت و رفعت والا دوسرا کوئی دن نہیں لہذا تم ان دنوں میں تسبیح و تہلیل اور تکبیر و تہلیل زیادہ سے زیادہ کیا کرو(معجم طبرانی)۔یوم عرفہ کا روزہ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی آخرالزماں تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عرفہ کے دن کا روزہ سے متعلق میں اللہ تعالی سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ اس کی وجہ سے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے (صغیرہ) گناہوں کو معاف فرما دیں گے( صحیح مسلم) لہذا ہمیں بھی نویں ذی الحجہ یوم عرفہ کا روزہ رکھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔اس سلسلے میں ایک ضروری وضاحت یہ ہے کہ مطالع کے اختلاف کے سبب مختلف ملکوں میں عرفہ کا دن الگ الگ دنوں میں ہو سکتا ہے کیونکہ عید الفطر ،عید الاضحی، شب قدر اوریوم عاشورہ کی طرح ہر جگہ کے اعتبار سے جو دن عرفہ کا قرار پائے گا اس جگہ اسی دن روزہ رکھنے کی فضیلت حاصل ہوگی۔
قربانی کی اہمیت و فضیلت قربانی ایک عظیم الشان عبادت ہے اور یہ ہر امت کے لیے مشروع رہی ہے جیساکہ اللہ تبارک و تعالی نے ارشاد فرمایا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ” ہم نے ہر امت کے لئے قربانی مقرر کی تاکہ وہ چوپایوں کے مخصوص جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالی نے عطا فرمایا ہے”(سورہ حج آیت 34)۔ قربانی سے ایک فرمانبردار مسلمان کو یہ سبق ملتا ہے کہ وہ رب کی اطاعت و فرماں برداری میں ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہے اور دنیا کی محبت کو چھوڑ کر خالص اللہ تعالی کی محبت دل میں پیدا کرے اور قربانی کا مقصد صرف اور صرف رضائے الہی ہو گویا کہ ہماری زندگی اس آیت کریمہ کی عملی زندگی بن جائے کہ "میری نماز میری قربانی میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ تعالی کی رضا مندی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے”(سورہ انعام آیت 162) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر تواتر کے ساتھ عمل کیا جیسا کہ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں اقام رسول الله صلى الله عليه وسلم بالمدينه عشر سنين يضحي( ترمذی شریف جلد ایک صفحہ 409 ابواب الاضاخی)
قربانی کے فضائل
اس سلسلے میں کئی احادیث وارد ہیں ایک حدیث یہاں نقل کی جاتی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے "حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صل وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! یہ قربانی کیا ہے؟( قربانی کی حیثیت کیا ہے) آپ صل وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ ہمیں اس قربانی کے بدلے کیا ملے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملے گی، صحابہ رضی اللہ عنھم نے پھر سوال کیا یارسول اللہ! اون کے بدلے میں کیا ملے گا؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ہر اون کے بدلے میں بھی ایک نیکی ملے گی (سنن ابن ماجہ) مسائل قربانی:
ہر صاحب نصاب پر قربانی کرنا واجب ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "جس شخص کو قربانی کی وسعت ہو اور وہ اس کے باوجود قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ بھٹکے” وسعت کے باوجود قربانی نہ کرنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت وعید بیان فرمائی اور وعید ترک واجب پر ہی ہوتی ہے_قربانی کا نصاب:
قربانی کا نصاب یہ ہے کہ جو شخص ساڑھے 52 تولہ چاندی موجودہ وزن 612گرام 360 ملی گرام یا ساڑھے سات تولہ سونا موجودہ 87 گرام 480 ملی گرام یا ان دونوں میں سے کسی ایک کی مالیت کے برابر رقم یا سامان تجارت یا حاجت اصلیہ سے زائد ایسے سامان زمین و جائداد ہو، جس کی قیمت نصاب کو پہنچ جائے۔حاجت اصلیہ سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کی عموما انسان کو اپنی زندگی میں ضرورت ہوتی ہے ان کے بغیر زندگی گزارنے میں سخت دشواری محسوس ہوتی ہو جیسے رہنے کا گھر پہننے کے کپڑے، سواری، گھریلو سازو سامان، ہتھیار، اہل علم کے لئے کتابیں اور پیشہ وروں کے لیے اوزار وغیرہ، اگر حاجت اصلیہ کی تعریف مد نظر رہے تو معلوم ہو جائے گا کہ ہمارے گھروں میں بہت سی چیزیں اور ایسے سامان ہیں جو ہماری ضروریات زندگی سے زائد ہیں اگر ان زائد چیزوں کی قیمت تنہا یا سونے، چاندی روپے اور سامان تجارت کے ساتھ ملا کر نصاب شرعی کو پہنچ جائیں تو اس پر بھی قربانی واجب ہوگی یاد رہے کہ وہ اشیاء جو ضرورت و حاجت کی نہ ہوں بلکہ محض نمود و نمائش اور دکھاوے کے لیے ہوں اور گھروں میں رکھی ہوئی ہوں اور پورے سال استعمال میں نہ آتی ہوں وہ بھی نصاب میں شامل ہوں گی۔قربانی کے ایام :
قربانی کے صرف تین دن ہیں دس گیارہ اور بارہ جیسا کہ قرآن کریم سورہ حج کی آیت نمبر 28 "ایام معلومات” کی تفسیر علامہ ابن ابی حاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے کہ "فالمعلومات یوم النحر و یومان بعدہ” یعنی ایام معلومات سے مراد یوم نحر دس ذی الحجہ اور اس کے بعد کے دو دن ہیں۔(تفسیر ابن ابی حاتم رازی جلد 6 صفحہ 261) حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "من ضحى منكم فلا يصبحن بعد ثالثة وبقي في بيتي منه شيء”(بخاری شریف جلد 2صفحہ835حدیث نمبر 5569باب مایوکل من لحوم الاضاحی)کہ تم میں سے جو شخص قربانی کرے تو تیسرے دن کے بعد اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ نہ رہنا چاہیے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قربانی کے تین ہی دن ہیں اس لئے کہ جب چوتھے دن قربانی کا بچا ہوا گوشت رکھنے کی اجازت نہیں تو چوتھے دن پورا جانور ذبح کرنے کی اجازت کیسے ہوگی۔ واضح رہے کہ تین دن کے بعد قربانی کا گوشت رکھنے کی ممانعت ابتدائے اسلام میں تھی بعد میں اجازت دی گئی کہ اسے تین دن کے بعد تک بھی رکھا جا سکتا ہے جیسا کہ حضرت سلمہ ابن عقبہ کی روایت میں اگے ہے "فلما كان العام المقبل قالوا يا رسول الله نفعل كما فعلنا العام المقبل قال كلوا واطعموا وادخروا فان ذلك العام كان بالناس جهد فاردت ان تعينوا فيها”دوسرے سال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم اس سال بھی وہی کریں جو پچھلے سال کیا تھا کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت نہ رکھیں نبی کریم صل وسلم نے فرمایا کہ اب کھاؤ، کھلاؤ اور جمع کرو پچھلے سال تو لوگ چوں کہ تنگی میں مبتلا تھے اس لیے میں نے چاہا کہ تم لوگوں کی مشکلات میں ان کی مدد کرو(بخاری شریف جلد 2صفحہ 835)
چند ضروری مسائل :
۱۔ خصّی جانور کی قربانی کرنا افضل اور بہتر ہے۔
۲۔ جس جانور کا پیدائشی سینگ نہ ہو ں اس کی قربانی بھی درست ہے۔ سینگ اگر جڑ سے اکھڑنے کے بعد زخم بھر چکا ہو اور دماغ پر زخم کا کوئی اثر نہ ہو یا سینگ جڑ سے اکھاڑے بغیر جڑ کے پاس سے کاٹ دیا گیا ہو یا داغ دے کر سینگ نکلنے نہ دیاگیا ہو تو ایسے جانور کی بھی قربانی درست ہے۔ البتہ وہ جانور جس کے سینگ جڑ سے اکھڑ گئے ہوں یا اکھاڑ دیئے گئے ہوں اور اس کا اثر دماغ تک جاپہنچا ہو ، اس کی قربانی درست نہیں ۔
۳۔ ایسا لنگڑا جانور جو چلتے وقت پائوں زمین پر بالکل نہ رکھتا ہو اس کی قربانی جائز نہیں اور اگر چلنے میں اس پائوں سے کچھ سہارا لیتا ہو تو قربانی درست ہے۔
۴۔ اگر جانور کے اکثر دانت ٹوٹے ہوئے ہو ں کہ چارہ بھی نہ کھا سکتا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں، ہاں اگر چارہ کھا سکتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔
۵۔ جس جانور کی پیدائشی طور پر ایک یا دونوں کان نہ ہوں یا تہائی سے زائد کٹا ہوا ہو تو اس کی قربانی درست نہیں ورنہ درست ہے۔
۶۔ جس جانور کی دُم تہائی سے کم کٹی ہو تو قربانی جائز ہے اور اگر تہائی یا اس سے زائد کٹی ہو تو جائز نہیں (کیوں کہ دُم ایک کامل عضو ہے )
۷۔ گائے ، بھینس وغیرہ کا ایک تھن سوکھ گیا ہو اور باقی تین ٹھیک ہوں تو اس کی قربانی جائز ہے اور اگر دو تھن یہ اس سے زائد سوکھ گئے ہوںاسی طرح بکری کا ایک تھن سوکھ گیا ہو تو قربانی جائز نہیں۔
۸۔ جانور اگر اندھا ہویا کانا ہو یا ایک آنکھ کی تہائی یا اس سے زائد روشنی نہ ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں ہے۔البتہ اگر روشنی تہائی سے کم گئی ہوتو اس کی قربانی جائز ہے۔
قربانی کے جانور میں عقیقہ :
قربانی کے بڑے جانور کے سات حصوں میں عقیقہ کی نیت سے حصہ شامل کیاجاسکتا ہے۔ جو حصہ عقیقہ کی نیت کا ہوگا وہ عقیقہ شمار ہوگا باقی حصے قربانی کے شمار ہوں گے ۔ بہتر یہ ہے کہ لڑکا کے لیے دو حصے اور لڑکی کے لیے ایک حصہ رکھے ۔
جیسا کہ فقہ کی کتاب حنفی کی مشہور و معروف کتاب (بدائع الصنائع جلد نمبر ۔۵، صفحہ نمبر ۷۲پر ہے )
ترجمہ : ( ایک جانور میں شریک ) لوگوں نے ( اس جانور میں )قربانی کی قربت کی نیت کی ہو یا قربانی کے علاوہ کسی اور قربت کی نیت ہو ، تو یہ نیت کرنا ان کو کافی ہوجائے گا ۔ چاہے وہ قربتِ واجبہ ہو یا نفلی قربت ہو یا بعض پر واجب ہو اور بعض پر واجب نہ ہو ، چاہے قربت کی جہت ایک ہی ہو یا مختلف ہو ۔۔۔۔ اسی طرح اگر ( ایک جانور میں شریک ) لوگوں میں سے بعض نے اِس سے پہلے پیدا ہونے والے بچے کے عقیقے کی نیت کی ( تو بھی جائز ہے ۔ )
( حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار ، کتاب الاضحیۃ ، جلد 4 ، صفحہ 166 ، مطبوعہ کوئٹہ )
پورے گھر والے کی طرف سے ایک قربانی کافی ہے ؟
جی نہیں ! بلکہ ہر صاحب نصاب ، عاقل بالغ مسلمان مردو عورت کے ذمہ قربانی کرنا واجب ہے۔ اگر ایک گھر میں متعدد صاحب نصاب لوگ ہوں تو ایک قربانی سارے گھر والوں کی طرف سے کافی نہیں ہو گی۔ بلکہ گھر میں رہنے والے ہر ہر صاحب نصاب شخص پر الگ الگ قربانی لازم ہوگی۔ کیوں کہ حدیث گذر چکی ہے کہ جو شخص صاحب حیثیت ہونے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر صاحبِ نصاب پر مستقل علیحدہ قربانی واجب ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ قربانی ایک عبادت ہے۔ لہٰذا دیگر عبادات ، نماز ، روزہ، زکوۃ ، حج وغیرہ کی طرح قربانی بھی ہر مکلف صاحبِ نصاب کے ذمہ واجب ہو گی۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا عمل مبارک یہ تھا کہ آپ ﷺ اپنی قربانی الگ فرمایا کرتے تھے اور ازواجِ مطہرات کی طر ف سے الگ قربانی فرمایا کرتے تھے ۔
باقی رہی ترمذی شریف کی وہ روایت جس سے پتہ چلتا ہے کہ حضور اقدس ﷺ کے زمانے میں ایک شخص اپنی طرف سے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرتا تھا اور اس بکری سے خود بھی کھاتا اور دوسروں کو بھی کھلاتا تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث شریف ثواب میں شرکت پر محمول ہے کہ اگر کوئی آدمی اپنی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرے اور اس کے ثواب میں ا پنے ساتھ سارے گھر والوں کو شریک کرلے تو یہ جائز ہے ۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مینڈھا اپنی طرف سے قربان فرمایا اور دوسرا مینڈھا قربانی کرکے فرمایا کہ میں یہ قربانی اپنی امت کے اُن لوگوں کی طرف سے کررہا ہوں جو قربانی نہ کرسکیں۔
Comments are closed.