جہاں میں انقلاب آیا ہے کتاب ہدایت سے
مظفراحسن رحمانی
ایڈیٹر بصیرت آن لائن
زندگی کی کامیاب رہنمائی کے لئے سب سے زیادہ رہنما کتاب اس دنیا میں اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب قرآن کریم ہے ، یہی وہ کتاب ہے جس نے عرب و عجم میں ایک ایسا انقلاب برپا کیا جس کا تصور اس سے قبل کسی قوم نے نہیں کیا تھا ،یہی وجہ ہیکہ عرب کی سنگلاخ وادیوں میں میں سنگ دل انسانوں نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے کے بجائے قرآنی احکامات و فرمودات پر لبیک کہتے ہوئے عمل کرنے کو اپنے لئے سعادت سمجھا ، تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ ہادی برحق فخر رسل تاجدار مدینہ رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کردیا کرتے تھے ،بےکسوں پر بے دریغ ظلم کیا جاتا تھا ،بیواوؤں اور مسکینوں کو ستانا عیب نہیں سمجھا جاتا تھا ،معبودان باطلہ کے سامنے سر کو ٹیکنا عبادت سمجھا جاتا تھا ،بڑوں اور بوڑھوں کی ناقدری کو روا جانا جاتا تھا ،یتیم بچوں کے ساتھ زیادتی عام بات تھی ،عورتوں کی قدر وعزت کو پاؤں کے تلے روندا جاتا تھا ،بیٹیوں اور بہنوں کو جائداد سے محروم رکھا جاتا تھا ،ایسے ماحول میں جب قرآن جیسی عظیم الشان کتاب نازل ہوئی تو پیغمبر اسلام ،ہادی برحق ،اور انسانوں میں سب سے قابل قدر انسان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کتاب کے رہنما خطوط پر عمل کرواکر پوری نوع انسانیت کو زندگی کی خوبصورت شاہراہ پر چلنے کا ڈھنگ سکھایا انہوں نے بتایا کہ بیٹی تمہارے لئے رحمت ہے ،عورتیں اللہ کی بہترین اور قابل قدر نعمت ہیں ،بےکسوں اور بے سہاروں کو تمہاری مدد کی ضرورت ہے ،بڑے بوڑھے کی قدر کر کے تم اپنی قدر کو بڑھا سکتے ہو ،یتیموں کا مال کھانا تمہارے لئے درست نہیں ہے ہے ،شراب پینے سے تمہاری زندگی تباہ ہوجائیگی ،جوا اور سود تمہارے خاندانی نظام کو تباہ و برباد کر کے رکھ دے گا ، قرآن کریم کے ذریعہ یہ احکامات و فرمودات پوری انسانیت کے سامنے پیش کئے گئے تو پوری دنیا میں ایک بڑا انقلاب بپا ہوا اور جو لوگ بیٹیوں کو اپنے لئے عار اور شرم کی بات سمجھتے تھے انہوں نے انہی بیٹیوں کو اپنے کلیجے سے لگا کرعزت وافتخار کا تاج پہنایا ، جناب محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے بعد، قرآن وحدیث کے احکامات پر عمل کرنے والے لوگوں کے ساتھ ساتھ سنجیدہ فکر رکھنے والے انسانوں نے چاہے وہ جس مذہب کے ماننے والے ہوں نے بیٹیوں کو اپنے سر کا تاج اور اپنی آنکھوں کا سرمہ بناکر اس کو وہ عزت و وقار دیا جس کا آدمی قرآن کے نزول اور ہادی برحق کی آمد سے قبل تصور بھی نہیں کرتا تھا،حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے دو یاتین بیٹیوں یا دو یا تین بہنوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں یا مر گئیں تو میں اور وہ جنت میں ایسے ہوں گے جس طرح دو انگلیاں آپس میں ملی ہوئی ہوتی ہیں۔‘‘(صحیح ابن حبان)ایک دوسری حدیث میں آتا ہے حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جس شخص نے دو بیٹیوں کی پرورش کی تو وہ اور میں اِس طرح جنت میں داخل ہوں گے جس طرح یہ دو انگلیاں آپس میں ملی ہوئی ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں اُنگلیوں کو ملاکربھی دکھایا۔(جامع ترمذی).
تاریخ کے اس سچ سے کون انکار کرے گا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایمان لانے سے قبل اسلام کے خلاف وہ تمام ہتھکنڈے اپناچکے تھے جس کے تصور سے کلیجہ منہ کو آتا ہے ،لیکن جب انہوں نے قرآن کریم کو اپنے کانوں سے سنا اور اپنی بہن اور بہنوئی کو اسے سیکھتے ہوئے دیکھا تو اول مرحلے میں اسلام دشمنی نے انہیں وہ کرنے پر مجبور کیا جسے شریف انسان کبھی بھی گوارا نہیں کرے گا لیکن جب قرآن کی عظمت نے ان کے دل میں جگہ بنائی تو وہ دار ارقم میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس طرح گئے کہ جیسے ایک غلام اپنے آقا کے پاس بے شمار غلطیوں کی وجہ کر سر جھکا کرپیشانی کے بل جاتا ہے ، حضور نے پوچھا عمر کیسے آنا ہوا ندامت سے جھکا ہوا سر اٹھا اور کہا لاالہ الااللہ محمد الرسول اللہ اور پھر دنیا کی تاریخ نے وہ دیکھا جسے بہت کم آنکھوں کو دیکھنا نصیب ہوتی ہے۔
گزشتہ دنوں اسلام دشمنی میں معروف ملک سویڈن میں ایک بدمست ،بددماغ ،عقل سے ماؤف شخص نے حکومت کی اجازت کے بعد کتاب ہدایت قرآن کریم کی بے حرمتی کر کے اپنی سفاکیت اور اسلام دشمنی کا مظاہرہ جس انداز سے کیا ہے یقینا یہ دنیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ گھناؤنی حرکت ہے ، عالم اسلام کے ساتھ پوری دنیا کے مسلمانوں نے اس پر جو ردعمل ظاہر کیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت کم ہے ، اس ملک کے خلاف پوری شدو مد کے ساتھ احتجاج جاری رہنا چاہئے اور یہ احتجاج اس وقت تک ہو جب تک کہ اس سفاک شخص کو کیفر کردار تک نہ پہونچادیا جائے تاکہ پوری دنیا تک یہ پیغام پہونچے کہ جو کوئی بھی قرآن کی عظمت کے ساتھ کھلواڑ کرے گا اس کا انجام دنیا میں بد سے بدتر ہوگا ، سویڈن کے خلاف ہم اپنا احتجاج درج کراتے ہیں اور پوری دنیا کے مسلمانوں سیکولر ذہن رکھنے والے انسانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ایسے، بدبخت، کم تر، نیچ، گمراہ، سفاک شخص اور آزادی اظہار رائے کی بنیاد پر کسی بھی مقدس کتاب کی توہین کرنے والے ملک کے خلاف احتجاج کریں اور متحدہ طور پر ایسے اقدامات اٹھائیں جس سے ایسے کاموں کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کا ناطقہ بند کیا جاسکے۔
Comments are closed.