جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے "یکساں سول کوڈ کے حوالے سے”
مظفراحسن رحمانی
ایڈیٹر بصیرت آن لائن
2014کے بعد اس ملک کے مسلمانوں نے اپنی کھلی آنکھوں سے خود پر ہونے والے بے شمار مظالم دیکھے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ یہ رکنے کی بجائے دراز ہوتا جارہا ہے اور اس مظلوم کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، چاہے وہ بابری مسجد کی جگہ پر آستھا کی بنیاد پر رام مندر کی تعمیر ہو یا پھر تین طلاق کے قانون کے نفاذ کا مسئلہ ہو، موجودہ مرکزی حکومت کسی کی پرواہ کئے بغیر اپنے منشور پر عمل کے لئے بضد ہے.
تین طلاق سے متعلق جب لاء کمیشن نے اس کے نفاذ اور عدم نفاذ سے متعلق ملک کے شہریوں سے رائے مانگی تھی ، تاریخ گواہ ہے کہ اس موقع سے مسلم پرسنل لا بورڈ کی تحریک پراس وقت کے جنرل سکریٹری مفکر اسلام امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی پیرانہ سالی کے باوجود پوری قوت کے ساتھ ملک کے ایک ایک مسلمان مردو عورت سے طلاق ثلاثہ کے نفاذ کے خلاف دستخطی مہم چلایا تھا اور بہار میں امارت شرعیہ کے پلیٹ فارم سے ایک ایک گھر پہونچ کر ہر بالغ مردو خواتین سےدستخط لئے گئےتھے اور ہر شہر میں اس کے خلاف عورتوں کی ریلیاں نکالی گئی تھیں، تاریخ نے شاید اس سے قبل اپنی آنکھوں سے اس بڑی تعداد میں عورتوں کو سڑکوں پر نکلتے نہیں دیکھا ہوگا، اس موقع پر لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر اتری عورتوں نے اپنے ہاتھ میں بینر لئے ایک زبان میں کہاتھا” مودی جی ہمیں آپ کی ہمدردی نہیں چاہئے ہمیں ہماری شریعت پر عمل کرنے دیں ہم اپنی شریعت کے مطابق عمل کرکے خوش رہ پائیں گے ".
مصدقہ رپورٹ کے مطابق تقریبا 80/لاکھ سے زائد دستخطی کاغذ لاء کمیشن کو بھیجے گئے تھے ،لیکن وہی ہوا جس کا ڈر اورخدشہ تھا ، سارے دستخط شدہ کاغذات ردی کی ٹوکری میں پھینک دیئے گئے اور ان کاغذات نے اپنی حیثیت کھودی ۔
آخر کار فسطائی طاقت اور آر ایس ایس کے اشاروں پر کام کرنے والی حکومت نے اپنے منشور پر عمل کرتے ہوئے تین طلاق سے متعلق قانون کو نافذ کر کے اپنے آقاؤں کو تالیاں پیٹنے کا موقعہ دے ہی دیا ، جب کہ اس سلسلہ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور ہندوستان کی دیگر بڑی تنظیموں نےاپنی پوری قوت جھونک دی تھی.
جب جب الیکشن کا موقعہ آتا ہے تو حکومت کچھ نہ کچھ ایسا شوشہ چھوڑ دیتی ہے جس سے ایک طبقہ کو متحد کئے جانے پر تیار کیا جاسکتا ہو، ابھی جب کہ 2024 کا الیکشن سامنے ہے اس موقع پر مرکز کی مودی حکومت یکساں سول کوڈ کے مسئلہ کو لاکر ملک کے تمام شہریوں کو خاص طور پر مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کر رہی ہے، حالانکہ جب ملک آزاد ہوا اور ملک کا نیا دستور بنا تو اس میں بھی مسلم پرسنل لا کی قانونی حیثیت تسلیم کی گئی اور طویل ترین ماضی کی روایت اور عوامی رجحان جس کی بنیاد مذہب پر ہے کا احترام کیا گیا اور قانون سازوں نے صاف طور پر دستور ساز اسمبلی میں اعلان کیا کہ "مسلم پرسنل لا” میں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائیگی ،اس وقت قانون ساز کے چیئرمین ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے یہ کہا تھا کہ "یکساں سول کوڈ "نافذ کر کے کوئی حکومت اپنے اختیارات کو استعمال کر کے مسلمانوں کو بغاوت پر آمادہ نہیں کر سکتی میرے خیال میں اگر کسی نے ایسا کیا تو ایسی حکومت پاگل ہی ہوگی ”
سب کو معلوم ہے کہ یکساں سول کوڈ اس ملک کے لئے ہر گز مفید نہیں ہوسکتی لیکن اس کے باوجود موجودہ مرکزی حکومت کا اس سلسلہ میں کسی بھی طرح کا اقدام پاگل پن نہیں تو اور کیا ہے ؟
ہندوستان میں "یونیفارم سول کوڈ "کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کو اپنی مذہبی ہدایات کے خلاف نکاح و طلاق جیسے معاملات انجام دینا ہونگے ،وصیت اور وراثت کے معاملے میں بھی انہیں مذہبی قانون کے بجائے دوسرے قوانین پر عمل کرنا ہوگا ،اسی طرح دوسرے مذہب اور رسم و رواج کے پابند لوگوں کو بھی اپنا مذہب چھوڑنا ہوگا، اپنے رواج کو مٹانا ہوگا اور نئے قانون کا پابند ہونا پڑے گا ،اس طرح "یونیفارم سول کوڈ ” واضح طور پر "مسلم پرسنل لا” سے مختلف ایک قانون ہے ،جن کے نفاذ کے بعد "مسلم پرسنل لا "کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ،گویا "مسلم پرسنل لا جس کی بنیاد قران وسنت ہے اور یونیفارم سول کوڈ کو یکجا نہیں کیا جاسکتا، اس سے متعلق مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی نے ایک موقعہ سے فرمایا تھا کہ "میں پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ "یونیفارم سول کوڈ کا شوشہ اہل سیاست کی زبان ہے اور دلی کے دربار کو قبضہ میں لانے کی ایک نامناسب جسارت ہے ، ہندوستان کسی ایک مذہب کے ماننے والوں کا ملک نہیں ہے یقین مانئے اگر یکساں سول کوڈ نافذ ہوگا تو ہندوستان چرمرا جائیگا ،ملک میں بے چینی پھیل جائیگی ،یہ ملک کسی ایک مذہب کا ملک نہیں ہے ،یہ ملک کسی ایک تہذیب کا ملک نہیں ہے ،اللہ کا بڑا کرم ہیکہ اس ملک میں اللہ نے الگ الگ مذہب دیئے ہیں ہر قسم کی تہذیب دی ہے ،ہر رنگ کا سماج دیا ہے ،الگ الگ قوانین ہیں اور سب لوگ خوشی خوشی ان قوانین پر عمل کرتے ہیں ،ان سارے قوانین کو ختم کر کے اگر ایک قانون کو نافذ کرنے کی کوشش کی گئی اور اگر ایک قانون اس ملک میں لاگو کیا گیا تو دوسرے قانون پر عمل کر نے والے اور دوسرے قانون کو ماننے والے یہ سمجھیں گے کہ ان کا حق چھینا جارہا ہے ،ان کا مذہب چھینا جارہا ہے ،ان کی تہذیب چھینی جارہی ہے اور انسان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے ،اپنے مذہب کی تبدیلی اپنے کلچر کی تبدیلی اور اپنی زبان کی تبدیلی کسی قیمت میں بھی برداشت نہیں کر سکتا،
موجودہ ملک کے پس منظر میں ہندوستانی مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس وقت مسلم پرسنل لا بورڈ کے احکامات پر عمل کریں اور جو حکم ہمیں بورڈ سے ملے اس پر عمل کی پوری کوشش کریں ،اس وقت یکساں سول کوڈ کے نفاذ اور عدم نفاذ سے متعلق لاکمیشن نے ملک کے شہریوں سے رائے مانگی ہے اور بورڈ نے رائے بھیجنے کے لئے لنک بھی تیار کئے ہیں اور اور QRکورڈ بھی جاری کئے ہیں ،اوراس سلسلے میں ہدایات بھی جاری کئے گئے ہیں ہماری اور سب کی ذمہ داری بھی ہے ، اسے ضروری جان کر کرنا چاہئے
اللہ اس ملک میں مسلمانوں کا حامی اور مددگار ہو.
Comments are closed.