یکساں سول کوڈ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ، مگر اس سے نظر بچا کر چپ بیٹھ جانا بھی دانشمندی نہیں ہے

 

میرا مطالعہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

ہندوستان ایک بڑا ملک ہے ، اس میں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے بستے ہیں ، یہاں جمہوری نظام قائم ہے ، آئین کو بالادستی حاصل ہے ، ہمارے ملک کا آئین ملک کے بسنے والے تمام شہریوں کو مذہبی آزادی دیتا ہے ، یہاں کے تمام شہری آزاد ہیں کہ وہ آئین کی روشنی میں اپنے اپنے مذہب پر عمل کریں ، حکومت یا کسی کی طرف سے روکا نہیں جائے گا

ملک میں بسنے والے تمام مذاہب کے ماننے والوں کے مذاہب الگ الگ ہیں ، مسلمانوں کو چھوڑ کر برادران وطن میں سے ہندو ،سکھ ،عیسائی ،لنگائیت وغیرہ سب کے مذہبی اصول و ضوابط الگ الگ ہیں ، پھر بھی ووٹ کی سیاست کے پیش نظر فرقہ پرست طاقتیں ان تمام مذاہب کے ماننے والوں کو ایک نظر سے دیکھتی ہیں ، اور نفرت کا ماحول بناکر مسلمانوں کو الگ کردیا جاتا ہے ، جس کا مشاہدہ اکثر ہوتا ہے ، افسوس کی بات ھے کہ جمہوری ملک کی حکومت بھی فرقہ پرست لوگوں کی بات کرنے لگی ہے ، اور مسلمان اور ان کے دین و شریعت کے خلاف نفرت پھیلانے والوں کا ساتھ دے کر ان ہی کی بولی بولنے لگی ہے ،

ہندوستان ایک جمہوری ملک ھے ، یہاں ہر شہری کو مذہبی آزادی حاصل ھے ، اس کے باوجود ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کا شوشہ چھوڑا جاتا ھے ، پہلے تو فرقہ پرست طاقتوں کی جانب سے ایسا کہا جاتا تھا ، اب ان کے دباؤ میں حکومت بھی ایسا کہنے لگی ہے کہ ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کیا جائے گا ، حالانکہ ملک میں مختلف مذاہب کے ماننے والے بستے ہیں ، ہر ایک کا دھرم اور مذہب الگ الگ ھے ، اور حکومت کا یکساں سول کوڈ کے نفاز کرنا مذہبی اقلیتوں کے دین و شریعت اور دھرم کے ساتھ کھلواڑ ہے ، جس سے ملک میں انتشار پیدا ہوگا ، جو ملک کے لئے نقصاندہ ہے

ہندوستان میں ملکی قانون دو طرح کے نافذ ہیں ، ایک کریمنل کوڈ ہے اور دوسرا سول کوڈ ہے ، کریمنل کوڈ میں وہ جرائم آتے ہیں ، جن پر جرم ثابت ہو جانے پر عدالت کی جانب سے سزا سنائی جاتی ہے ، جیسے کسی نے کسی آدمی کو قتل کردیا ، تو یہ قتل جرم ہے ، اس کے خلاف عدالت میں کیس چلے گا ، جرم ثابت ہونے پر عدالت کی جانب سے سزا سنائی جائے گی ، اسی کو کریمنل کوڈ کہتے ہیں ، اور یہ قانون ملک کے ہر شہری پر لاگو ہے ، دوسرا سول کوڈ ہے ، سول کوڈ میں شخصی اور عائلی قوانین آتے ہیں ، یہ عائلی قوانین تمام مذہبی طبقات کے ان کے مذہب کے اعتبار سے الگ الگ ہیں ، سول کوڈ میں شادی بیاہ ، طلاق ، وراثت ، اوقاف جیسے قوانین ہیں ، ملک کے آئین نے ملک کے ہر مذہب کے ماننے والوں کو اپنے اپنے مذہب کے مطابق عمل کرنے کا اختیار دیا ہے ، اسی کو سول کوڈ کہتے ہیں ، مسلمانوں کے نکاح ،طلاق ،عدت ،اوقاف ،ھبہ جیسے قوانین کو مسلم پرسنل لا کہتے ہیں ،

یہ مسلم پرسنل لا انگریزی حکومت کے دور سے جاری ہے ، ملک کی آزادی کے بعد اس کو ہندوستان کی حکومت نے بھی برقرار رکھا ،اور آئین کے ذریعہ ان کو تحفظ عطا کیا ، یہ سول کوڈ ہر مذاہب کے الگ الگ ہیں ، ہندوؤں کا الگ ، مسلمانوں کا الگ ، سکھ اور عیسائیوں کے الگ الگ ہیں ، ان کو ایک نہیں کیا جاسکتا ہے ، اگر ایک کرنے کی کوشش کی گئی ،تو تمام مذہبی طبقات کے دین و دھرم میں مداخلت ہوگی ،اور کوئی دوسرے مذہب کے قانون کو ماننے کے لئے تیار نہیں ھوگا ، جیسے فرض کیجئے کہ حکومت ہندو دھرم کے قوانین کو نافذ کرے گی تو یہ مسلمان ، سکھ ،عیسائی ،لنگائیت وغیرہ کے دھرم و مذہب کے خلاف ھوگا ،اور دیگر مذاہب کے ماننے والے ملک کے آئین کی روشنی میں اس کو قبول نہیں کریں گے

مذکورہ تحریر سے یہ حقیقت واضح ہوگئی ہے کہ سول کوڈ صرف رسم و رواج نہیں ، اور نہ اس کا تعلق کسی تہذیب و ثقافت سے ہے ، بلکہ سول کوڈ مذہب اور دھرم کے قوانین پر مشتمل ہیں ، تقریبا ایسا ہر مذہب میں ھے ، البتہ مسلمانوں کا سول کوڈ دین و شریعت کا حصہ ہے ، یہ قرآن کریم اور احادیث پر مبنی ہیں ، اور اللہ کے کلمات میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی ہے ،

مذکورہ وضاحت سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ یکساں سول کوڈ کا مطلب یہ نہیں ھے کہ صرف رسم و رواج کو بدل کر یکساں کردیا جائے گا ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے سول کوڈ جو دھرم اور مذہب کی بنیاد پر ہے ، اس میں تبدیلی کر دی جائے گی ، جیسے مسلمانوں کا مسلم پرسنل لا دین و شریعت سے ماخوذ ہے ، اس میں تبدیلی کردی جائے گی ، جس کا مطلب یہ ہے کہ دین و شریعت میں مداخلت کی جائے گی ، چونکہ مسلم پرسنل لا دین و شریعت سے ماخوذ ہے اور دین و شریعت کا حصہ ہے

موجودہ وقت میں مرکزی حکومت نے ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے ، اس کے لئے لاکمیشن نے ملک کی تنظیموں اور عوام سے اس پر مشورہ طلب کیا ہے ، یہ ایک جمہوری طریقہ ہے ، لاکمیشن کے اعلان کے مطابق یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے سلسلہ میں مسلم سماج میں چہ میگوئیاں شروع ہی۔ ، کوئی دانشور یہ کہتے ہیں کہ یہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے ، اس لئے یکساں سول کوڈ کو مختلف انداز پر سمجھا کر یہ کہتے ہیں کہ اس اعلان سے سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے ، اس لئے مسلمان خاموشی اختیار کرلیں ، چپ چاپ بیٹھ جائیں ، ادھر ملی تنظیموں میں سے سبھی اس پر متفق ہیں کہ معاملہ رائے بھیجنے کا ھے ، اس لئے بغیر کسی ہنگامہ اور شور شرابہ کے یہ رائے بھیج دی جائے کہ یکساں سول کوڈ ملک کے آئین میں درج بنیادی حقوق کے خلاف ہے ، یہ ملک کے لئے نقصاندہ ہے ،یہ ہمیں منظور نہیں ھے ، اور بس ۔ اس کے لئے نہ کوئی جلسہ جلوس کیا جائے ، نہ احتجاج کیا جائے ، بلکہ خاموشی سے رائے بھیج دی جائے ، اس پر ملک کی بڑی ملی تنظیموں کا اتفاقِ ھے ،

میرے خیال سے بھی یقینا یکساں سول کوڈ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے ، اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی جانب سے بالکل توجہ ہٹالی جائے ، اور مسلمان چپ چاپ بیٹھ کر تماشائی بنے رہیں ، لاکمیشن کو اپنی رائے بھی نہ بھیجیں ، یہ دانشمندی کے خلاف ہے ، یہ فکر صحیح نہیں ھے ، بلکہ اس پر ہمارا طرزِ عمل یہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنی قوم کو سلانے کے بجائے انہیں یہ تعلیم دیں کہ مسلم سماج کے لوگ بڑی اقلیت ہونے کے ناطے دیگر مذہبی اقلیتوں کو ساتھ لیں ، اور متفقہ طور پر حکومت کے سامنے یہ رائے پیش کریں کہ یکساں سول کوڈ مناسب نہیں ہے ، چنانچہ قبائلیوں اور سکھوں کی جانب سے اس طرح کی آواز اٹھنے لگی ہے ،ہم سب کو مل کر اس کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ، نیز چپ بیٹھنے کا مشورہ انفرادی رائے ہے ، اس کے مقابلہ میں تمام ملی تنظیموں کا اتفاقِ ھے کہ رائے بھیجی جائے ، جمہوری نظام میں کثرت رائے کا اعتبار ہوتا ھے ، انفرادی رائے کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ھے ، اس لئے ہم سب کی ذمہ داری ھے کہ ملی تنظیموں کے متفقہ فیصلہ کے مطابق بغیر کسی جلسہ جلوس اور شور شرابہ کے مسلم سماج کے لوگ لاکمیشن کو اپنی رائے بھیجیں ، اور برادران وطن میں سے مذہبی اقلیتوں کے ساتھ اتحاد بنائیں ، ملی تنظیموں کی جانب سے لنک شیئر کیا گیا ہے ، اپنی رائے بھیجنے کے لیے لنک کا استعمال کریں ، تاکہ رائے بھیجنے میں آسانی ہو ،وقت بہت کم ہے ، جلدی کریں ، مسلم سماج میں بیداری بہت کم ھے ، گاؤں دیہات میں بیداری کی بہت کمی ہے ، اس کے لئے بیداری پیدا کی جائے ، نوجوانوں کی ٹیم تیار کی جائے ، وہ ٹیم گھر گھر جاکر جائزہ لے ، اور رائے بھیجنے میں تعاون کرے.

Comments are closed.