موجودہ تناظر میں ہماری سوچ کا محور کیاہونا چاہئیے!

 

مفتی محمد احمد نادر القاسمی

اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا

 

سوال یہ ہے کہ یکساں سول کوڈ ملک کے لٸے نقصان دہ ہے یا نہیں ہے اس بات کو سنگھ اچھی طرح جانتا ہے۔ وہ اپنے مذھب کے حساب سے جینے کا راستہ اورملک کے 85%لوگوں کو کس طرح بے وقوف بناکر ان کو اپنے ماتحت رکھناہے۔ اس کے پاس اسکی بھی اسٹریٹجی ہے۔ وہ اس کے نفع نقصان کو مد نظر رکھ کر یکساں سول کوڈ بل لاہی نہیں رہاہے وہ تو محض یہ سوچ کر لارہاہے کہ مسلمانوں کا مذھبی تشخص اور اس کی آئیڈنٹیٹی متاثر اورنابود ہورہی ہے یا نہیں اورہورہی ہے تو کتنا فیصد ہورہی ہے؟ اسی تناسب سے رفتہ رفتہ قانون کی شقیں طے کرتاہے، ماضی میں کیا ہے، کررہاہے، کرتاجارہاہے اور آٸندہ بھی کرے گا. کچھ ابھی اورکچھ بعد میں والی پالیسی پر بڑی ہوشیاری سے عمل پیرا ہے۔ اس کو بھارت کے غیر مسلموں سے کوئی مزاحمت نہیں ہے، وہ بہ آسانی ہندوراشٹر کا حصہ بن جاٸیں گے یابنے ہوٸے ہیں۔

”ہے اگر ان کوکوٸی خطرہ تو اس امت سے ہے

جس کی خاکستر میں ہےاب تک شرارآرزو “

انھوں نے نیا راج بھون، راج دھرم کے پالن کے لٸے بنایاہے۔وہ پارلیمنٹ نہیں ہے وہ راج بھون ہے، اس میں قانون کے اوتھ کی کوٸی حیثیت نہیں، وہاں سینگول رکھاگیاہے ۔ وہ مشرکانہ فکر کے آگے آتم سمرپن بھارت کا خواب دیکھ کر بیٹھے ہیں۔ وہ اس کو اپنے سپنوں کا بھارت یعنی ہندو ابھیمانی بھارت کہتے ہیں۔ اس کو دیکھٸے ملک کی روپ ریکھا اورفکر سب تبدیل ہوچکی ہے۔ بھارت کی پوری غیر مسلم آبادی اس کے ہم خیال ہے ۔الاماشا اللہ جو اب تک نہیں ہے وہ بھی 2024 کے بعد ہوجائیں گے۔ ہمیں اس پر غور کرناہے کہ ہم اپنے مذھبی حقوق کے دفاع کے لٸے کیا کرسکتے ہیں اوراس پرمحنت کی جاٸے ۔۔”فلا تطع الکافرین وجاھدھم بہ جھاداکبیرا“ ہم دین حق پر عمل اوردفع دین کی خاطر مزاحمت کے لٸے برپاہوٸے ہیں اوراس کے بغیر دفاع کاحق ادا بھی نہیں ہو پاتا۔ اللہ تعالی ہماری فکر میں اتحاد، عمل میں استحکام اوردین حق کے دفاع کی ذہنی، فکری، ظاہری اورباطنی قوت عطافرماٸے اورملک میں امن وامان قاٸم رہے۔

Comments are closed.