جن کے کردار سے آتی تھی صداقت کی مہک

   پروفیسر احمد دانش صاحب کے حوالے سے

مظفر احسن رحمانی

ایڈیٹر بصیرت آن لائن

پروفیسر احمد دانش صاحب اردو اور فارسی کے ایک اچھے اور باکمال ادیب تھے ،ادب و انشا ان کی خمیر کا ایک حصہ تھا ،انہوں نےاپنی زندگی کو پڑھنے پڑھانے کے لئے وقف کردیا تھا ، اپنے شاگردوں سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور ان کے علمی مشکلات کے حل کے لئے ہمیشہ کھڑے نظر آتے تھے ،بسا اوقات تو وہ اپنے اہم کام کو چھوڑ کر دوسروں کے علمی کا موں کے کرنے کو فوقیت دیتے تھے ،شعرو شاعری کا بھی بہت صاف ستھرا ذوق رکھتے تھے لیکن انہوں نے کبھی اسے اپنا پیشہ نہیں بنایا ،سیمانچل کا ہر ادبی پروگرام پروفیسر احمد دانش کے بغیر نامکمل اور ادھورا سمجھا جاتا تھا ،

 

مجھ سے ان کا رشتہ برادرانہ تھا ،میرے ابو کو وہ ماموں کہ کر پکارتے تھے اور بہت احترام کا تعلق تھا ،جب کبھی ابا بیمار ہوکر پور نیہ علاج کے لئے جاتے تو وہ اپنا سارا کام چھوڑ کر ان سے ملنے ضرور جاتے اور ایک ایک بات کا خیال رکھتے ،

 

وہ مجھ سے بھی بے حد محبت کا سلوک رکھتے تھے اور ہمارے علمی کاموں کے بارے میں پوچھ گچھ کرتے رہتے تھے ،میرے بارے میں جب ان کو یہ علم ہوا کہ "میں للت نارائن متھلا یونیورسٹی”سے عالمی شہرت یافتہ عالم دین فقیہ عصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ پر "مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی علمی وصحافتی خدمات اور ان کے معاصرین ” کے عنوان پر کام کر رہا ہوں تو وہ بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ اب میرا چھوٹا بھائی بھی بہت جلد ڈاکٹر بنے گا ،ہمارے نگراں پروفیسر الحاج آفتاب اشرف صاحب سے بار بار میرے مقالے سے متعلق پوچھتے ،

ایک موقعہ سے جب وہ وائیوا کے لئے "للت نارائن متھلا یونیورسٹی دربھنگہ آئے تو آنے سے قبل مجھ سے رابطہ کیا اور کہنے لگے کہ میں اس مرتبہ جالے آونگا تم اپنا مکمل پتہ روانہ کرو ،

میں نے آنے کی تاریخ معلوم کرنی چاہی تو انہوں نے اپنی آمد کی تاریخ کے بتانے سے سختی سے منع کردیا اور کہنے لگے کہ میں خود آجاؤنگا ،

ہم نے ان کے بہت عزیز شاگرد پروفیسر شکوہ فاران یزدانی صاحب سے ان کے آمد کی تاریخ معلوم کیا اور اس تاریخ میں ان سے قبل پہونچ گیا ،انہوں نے مجھے دیکھا بہت خوش ہوئے اور پھر شام میں میرے ساتھ جالے آئے ایک روز قیام فرمایا یہاں کے علمی شخصیات سے ملاقات کی ہمارے علمی کاموں کو دیکھا صبح اٹھے اور بے شمار دعاؤں کے ساتھ پورنیہ کے لئے روانہ ہوگئے

پورنیہ پہونچنے کے بعد مجھ سےفون پر کہنے لگے کہ میں اپنے عزیزوں کے بارے میں بہت خوش فہمی میں نہیں رہتا ہوں اور نہ ہی ان کے کاموں کی تعریف کرتا ہوں ،لیکن سچ جانو تمہارے کام کو جان کر دیکھ کر مجھے بے حد خوشی ہوئی ،

 

پروفیسر احمد دانش صاحب بھاگلپور ضلع کے نوگھچیا سے قریب مکھہ تکیہ کے رہنے والے تھے ،ان کا پورا خاندان ہمیشہ سے پڑھا لکھا رہا ہے ، اپنے بچوں کی تربیت بھی انہوں نے ایک خاص انداز سے کیا ہے ،

اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے ،ہمارے خاندان کا ایک عظیم سرمایہ رخصت ہو گیا.

Comments are closed.