ملیانہ سے گجرات اور دہلی تا ممبئی فسادات کے قاتل آزادکیوں؟
جاوید جمال الدین
ملک میں آزادی کے بعد لاتعداد فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ہیں،ان خونریز دنگوں کے قصورواروں کو ان کے سنگین جرم کی سزا کم ہی ملی ہے۔ممبئی ،جمشید پور،بھیونڈی اور دیگر فسادات میں ملوث افراد معمولی سزائیں ملی ہیں،لیکن ملک کی شمالی ریاست اترپردیش کے شہر میرٹھ ضلع کے ملیانہ اور گجرات 2000 کے تشدد کے مظلومین اور ان کے ورثاء اب تک انصاف سے محروم ہیں۔میرٹھ کے ملیانہ قصبہ اور گجرات کے گلبرگ سوسائٹی اور نرودیا پاٹیا کے قصوروار آزاد ہیں ،بلکہ عدلیہ نے شک کی بنیاد پر انہیں بری کردیا ہے۔عدلیہ کے عجیب وغریب رویہ کی وجہ سے قانون وعدلیہ پر یقین اور بھروسہ کرنے والے کم ہوتے جارہے ہیں۔حالانکہ۔ایک عام آدمی ان پر ہی بھروسہ کرتا رہا ہے۔
ممبئی ،بھیونڈی ،جمشید،مرادآباد وغیرہ کے خونریز فسادات کی طویل فہرست میں میرٹھ(ملیانہ) اورگجرات اوّل نمبرپر ہیں ،جہاں فرقہ پرستوں کو لوٹ مار اورخون خرابے کی کھلی چھوٹ دی گئی تھی،پھر انہیں بری بھی کردیا گیا۔یہی حال میرٹھ کے قصبہ ملیانہ میں ہوا جہاں تو محافظ ہی قاتل بن گئے اور انہیں کچھ عرصہ قبل بی جے پی حکومت کی عدم دلچسپی کے نتیجے میں رہائی بھی نصیب ہوگئی۔
اتر پردیش کے شہر میرٹھ میں واقع قصبہ ملیانہ میں تقریباً 36 سال قبل 23 مئی 1987 کوفرقہ وارانہ فسادات کے دوران 72 مسلمانوں کی ہلاکت کے بعدایک مقامی عدالت نے حیرت انگیز طور پرحال میں قتل، لوٹ مار اور آتش زنی کے ایک دو نہیں بلکہ تمام 40 قاتلوں کو بری کردیاگیا۔ اس کیس میں 90 افراد کو ملزم بنایا گیا تھا تاہم ان میں سے 40 کی موت ہوچکی ہے ،جب کہ بقیہ کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ان میں اکثریت پولیس اہلکاروں کی ہے۔ملیانہ فسادات کے سلسلے میں کیس دائر کرنے والے عرض گزار یعقوب علی کے مطابق پولیس نے انہیں بری طرح مارا پیٹا تھا اور بعض کاغذات پر دستخط کروالیے تھے۔ انہیں بعد میں پتہ چلا کہ دراصل پولیس نے اسی معاملہ کو ایف آئی آر کی بنیاد بنادیا.اب تک نچلی عدالت میں مقدمہ زیر سماعت رہا اور عدالتی فیصلہ کو مجبوری میں ریاستی حکومت نے ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
اس کیس میں تین عشرے میں 800 سے زائد سماعتیں ہوئیں۔ ملزمان کے وکیل سی ایل بنسل کا دعویٰ ہے بکہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج لکھوندر سود نے ثبوتوں کے فقدان میں ملزمین کو بری کر دیاہے۔بلکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ تفتیشی ایجنسیوں نے ایمانداری سے کام نہیں کیا۔
ہندوستان میں۔ایک سروے اور اعداد وشمار سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آزادی کے بعد ستر ہزار سے زائد فسادات ہوئے ہیں،لیکن بدقسمتی سے کبھی بھی شرپسندوں کو سزا نہیں ملی ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں ،لیکن پہلا سبب یہی بتایا جاتا ہے کہ ملک میں فسادات نہیں رک سکے ہیں۔اگر وقت رہتے انہیں سزا دے دی جاتی تو شاید صورت حال مختلف ہوتی۔
سوال یہ ہے کہ شواہد کے فقدان کے نام پر ملزمان کو بری کردیا گیاہے اس کا مطلب یہ ہے کہ تفتیشی ایجنسیوں نے اپنا کام ایمانداری سے انجام نہیں دیا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، دوسال قبل دہلی فساد میں شرپسندوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی اور پولیس نے بے قصوروارافراد کونشانہ بنایا جوکہ گھر میں پناہ لیے تھے۔یہ بھی عجیب بات ہے کہ بابری مسجد کے انہدام کے ملزمین عدالت میں کٹہرے میں کھڑے رہ کر اپنا جرم۔قبول کررہے تھے اور جج صاحب فرماتے رہے ” ان کے خلاف شواہد موجود نہیں ہیں۔” اسے اتفاق کہیں گے یا انصاف سے آنکھ مچولی کھیلنا کہ اقبال جرم۔کے باوجود جج چشم۔پوشی کرتے رہے۔اگر اسی طرح سے انصاف کیا جائے گا اور بالخصوص مسلمانوں کو انصاف دیا ہی نہیں جائے گا تو اس کی وجہ سے بے چینی اور عدم اعتماد کی فضا قائم ہوگی۔جوکہ جمہوری نظام کے لیے ٹھیک نہیں ہے،اس طرح انصاف کو پس پشت ڈالا جارہا ہے۔دراصل۔انہیں پتہ نہیں ہے کہ انصاف میں تاخیر کا مطلب ،انصاف سے منہ پھیرنا ہوتا ہے۔قدم قدم۔پر انصاف سے محروم کیا جارہا ہے ۔اگر انصاف قائم نہیں ہوگا تو امن قائم نہیں ہوسکتا اور حالیہ برسوں میں دیکھا گیا ہے کہ نچلی عدالتوں سے جو فیصلے ہو رہے ہیں ان سے صاف ظاہر ہے کہ انصاف کو پس پشت ڈالا جا رہا ہے۔ حالات واثر ورسوخ کو فوقیت دی جارہی ہے ۔دوسری طرف
گجرات میں بھی ملزمان کو بری کیا گیا ہے،لیکن۔انصاف کی دہائی دینے والے اس وقت خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں جب ایسے معاملہ میں اگر اقلیتی فرقہ کا نوجوان ۔ملوث ہو تو انہیں فوراً سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے۔
گجرات کے پنچ محل ضلع کی عدالت نے بھی تقریباً 21برس قبل 2002 کے گجرات فسادات کے دوران اجتماعی عصمت دری اور 12 افراد کے قتل کے تمام 27 قاتلوں کو’ثبوتوں کے فقدان’ کے بہانے سے بری کردیاہے۔ اس کیس میں 39 افراد کو ملزم بنایا گیا تھا لیکن ان میں سے 12سماعت کے دوران چل بسے۔
ایڈیشنل سیشن جج ایل جی چداسما نے کہا کہ اس کیس میں 190گواہوں سے جرح کی گئی۔ وہ یا تو مکر گئے یا پھر ٹھوس ثبوت نہیں پیش کرسکے۔ اس لیے عدالت نے کہاکہ "یہ کیس کسی شواہد کے بغیر صرف قیاس آرائی پر مبنی ہے۔ خیال رہے کہ 27فروری 2002 کو گودھرا ٹرین میں آتش زدگی کے واقعے کے بعد گجرات میں فسادات پھوٹ بڑے تھے۔اس وقت وزیراعظم نریندر مودی ریاست کے وزیر اعلیٰ تھے۔لیکن الزام ہے کہ انہوں نے امن۔وامان۔ کے لیے کوئی۔پیش رفت نہیں کی تھی۔واضح رہے کہ فسادات کے دوران دو ہزار سے زائد افراد مارے گئے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ فسادات کے دوران لوگوں کو زندہ جلادینے کے درجنوں واقعات پیش آئے تھے۔عام طور پرعدالتوں کاسرکاری سطح پر ناجائز استعمال کیا جارہا ہے’
اس معاملہ میں یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ حکومت کی تبدیلی کے باوجود فرقہ وارانہ فسادات کے سلسلے میں کبھی بھی انصاف قائم نہیں ہوا۔” حکومتیں عدالتوں کا سرکاری طورپر ناجائز استعمال کررہی ہیں تاکہ مسلمانوں کی حوصلہ شکنی کی جائے اور انہیں دوسرے درجے کا شہری بنا دیا جائے۔
بھاگلپور کے فسادات، میرٹھ کے فسادات ہوں یامرادآباد کے فسادات۔ ممبئی فسادات پر سری کرشنا کمیشن نے اپنی رپورٹ میں بہت سی اہم سیاسی شخصیات کے نام بھی ظاہر کیے گئے ،لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ لبراہن کمیشن نے بابری مسجد کے ملزمان کے نام بتائے تھے لیکن عدالت نے انہیں بری کردیا۔ چاہے بلقیس بانو کا کیس ہو یا سب کے سامنے ہے ملزمان کو سزا ملی لیکن عدالت نے انہیں بھی رہا کردیا۔میں نے سری کرشنا کمیشن کی سماعت میں برسوں حصہ لیا ،بلکہ۔اس کا اردو ترجمہ بھی کیا ہے ،لیکن۔یہ۔محسوس کیا ہے کہ منوہر جوشی حکومت نے رپورٹ کو۔مسترد کردیا تھااور صرف ان کی۔سرکار اور کانگریس – این۔سی۔پی۔حکومت نے منشور میں اعلان کے باوجود کبھی سفارشات پر۔عمل۔نہیں۔کیا،صرف پولیس کی جدیدکاری کی سفارش پر عمل۔آوری۔ہوئی۔ہے۔
javedjamaluddin@gmail.com
9868647741
Comments are closed.