سال کا آخری دن،یوم احتساب ہوتا ہے
ابو معاویہ محمد معین الدین ندوی قاسمی
ادارہ تسلیم ورضا سمری دربھنگہ (بہار)
آج اسلامی کلینڈر کے مطابق 30/ذی الحجہ،1444/ھجری کا آخری دن ہے، اور کل(اسلامی اعتبار سے آج ہی بعد نماز مغرب) سے یکم محرم الحرام 1445/ ھ،لکھا پڑھا جائے گا۔
سال قمری(اسلامی) ہو یا شمسی (انگریزی)دونوں ہی کا تعلق اسلام سے ہے،بعض اسلامی اعمال کا تعلق چاند سے ہے تو بعض کا تعلق سورج سے بھی ہے اس لیے شمسی قمری دونوں ہی تقویم کو اسلامی تقویم کہہ سکتے ہیں حضرت مولانا روح اللہ نقشبندی صاحب لکھتے ہیں:
*”ولبثوا في كهفهم ثلث مأئة سنين وازدادوا تسعا”*(الكهف:25)
اور وہ(اصحاب کہف) اپنے غار میں تین سو سال اور مزید نو سال (سوتے)رہے۔ *اس میں تین سو سال بحساب شمسی ہی فرمایا گیا ہے "وازدادوا تسعا”یعنی نو برس اور فرما کر تقویم کی طرف اشارہ ہے، اس لیے کہ تین سال کا فرق ہر صدی میں سنہ شمسی اور سنہ قمری کے درمیان ہو ہی جایا کرتا ہے ،تاہم اس تشریح سے اتنی بات ضرور کھل کر سامنے آگئی کہ”شمسی تقویم کو غیر اسلامی تقویم نہیں کہا جا سکتا بلکہ وہ بھی اسلامی ہی ہے۔”*(اسلامی مہینوں کے فضائل و احکام:17)
دونوں ہی (شمسی و قمری) تقویم کے آخری دن حقیقی معنی میں”یوم احتساب کا دن” ہوتا ہے، اس لئے آج ہم اور آپ اپنے آپ کا محاسبہ کریں کہ سال 1444/ہجری ہمارا کیسے گزرا، ہم اس میں کتنے احکام خداوندی کی اتباع و پیروی کئے ہیں، سال بھر میں ہم پر جو فرائض (خواہ حقوق اللہ یا حقوق العباد) تھے جیسے نماز روزہ حج زکوٰۃ وغیرہ ان چیزوں کو ہم کیسے ادا کئے اس کے جو حقوق تھے ہم اس کی پاسداری کہاں تک کئے ہیں، سال بھر میں ہماری کوئی نماز چھوٹی تو نہیں ہے، سال بھر میں صرف ایک ماہ روزہ رکھنا تھا ہمارا کوئی روزہ تو چھوٹا نہیں ہے، زکوٰۃ ہم ادا کئے ہیں یا نہیں کئے ہیں، ہم پر حج فرض ہوا تھا یا نہیں اگر ہوا تھا تو ہم اس فریضہ کو انجام دے لیۓ، یا ادا کرنے سے رہے۔
سال بھر میں ہم نے قرآن مجید کی کتنی تلاوت کئے، سال بھر میں کتنے مرتبہ ہم نے قرآن مجید میں غور و فکر اور تدبر کئے، سال بھر میں نبی کریم ﷺ کی سنتوں پر ہمارا کتنا عمل ہوا، سال بھر میں ہم نے نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ سے متعلق کون کون سی کتابیں پڑھیں، سال بھر رشتہ داروں اور عزیز و اقارب کے ساتھ ہمارا کیسا برتاؤ رہا۔
اگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہم نے مذکورہ بالا اعمال خیر کئے ہیں، رشتہ داروں کے ساتھ ہمارا اچھا برتاؤ رہا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں تاکہ اللہ تعالیٰ مزید کی توفیق عطا فرمائیں گے،ارشاد ربانی ہے:
*”لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ”*(ابراهيم:7) اگر تم نے واقعی شکر ادا کیا تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔
اور اگر معاملہ اس کا برعکس رہا ہے تو بھی ہمیں گھبرانے کی بات نہیں ہے، ہمیں ناامید ہونے کی ضرورت نہیں ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
*قُلۡ يٰعِبَادِىَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ۞*(الزمر:53)
کہہ دو کہ : ”اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر رکھی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ یقین جانو اللہ سارے کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے۔ (18) یقینا وہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔
حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم العالی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
*یعنی اگر کسی شخص نے ساری زندگی کفر، شرک یا گناہوں میں گزاری ہے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ اب اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسی ہے کہ مرنے سے پہلے پہلے جس وقت بھی انسان اپنی اصلاح کا پختہ ارادہ کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنی پچھلی زندگی کی معافی مانگے اور توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرمادے گا۔*
اس لیے آج ہی ہم اللہ تعالی سے یہ عہد اور پختہ عزم کریں کہ سن 1445/ھ کی ایک ایک ساعت کی قدر کریں گے کوئی بھی فرائض واجبات اور سنن و مستحبات کو نہیں چھوڑیں گے ،روزانہ قرآن مجید کی تلاوت اور پھر اس میں غور و خوض کریں گے، نبی کریم ﷺ کی ایک ایک سنت کو حرز جاں بنائیں گے ، تمام حقوق اللہ اور حقوق العباد کی مکمل طور پر پاسداری کریں گے ۔
اگر ہم یہ عزم و ارادہ کرتے ہیں تو یقیناً رب کریم بھی ہمارے لیے ساری راہیں ہموار اور آسان کردیں گے ،اللہ تعالیٰ ہمارے عزائم کو شرف قبولیت بخشے ۔(آمین)
(نوٹ) قرآن مجید سے مسلمان عوام تو دور ہیں ہی خواص بھی دور ہی نہیں بلکہ بہت ہی دور ہیں،الحمدللہ! پچھلے دس سال سے علماء و حفاظ کے درمیان میں رہ رہا ہوں(اللہ تعالیٰ آخری سانس تک یہ سلسلہ باقی رکھے۔آمین) تجربہ یہی ہے کہ ہم پڑھے لکھے بھی قرآن مجید سے بہت دور ہیں۔
اس لیے علماء و حفاظ اور پڑھے لکھے حضرات سے بصد خلوص درخواست ہے کہ روزانہ تلاوت قرآن مجید کی تلاوت کا معمول بنائیں، علماء و حفاظ مہینہ میں کم از کم ایک قرآن تو ضرور تلاوت کریں، اور غور و فکر بھی کریں۔
Comments are closed.