منی پور سے مدھیہ پردیش، یوپی اور بنگلور تک
از: مولانا آفتاب اظہرؔ صدیقی
ایک طرف دن بدن اپوزیشن مضبوط ہوتا جارہا ہے، سوشل میڈیاسے لے کر زمینی سطح پر مرکزی حکومت کی جم کر مخالفت کی جارہی ہے، موجودہ سرکار اپنے دور حکومت کے آئینے میں ہر ناحیے سے ناکام نظر آرہی ہے، بھاجپا کے دور اقتدار میں نفرت، لو جہاد، موب لنچنگ، غریبوں پر ظلم و ستم، پچھڑوں پر اتیاچار، مہنگائی، بے روزگاری، جملہ بازی اور ہاہاکار کے علاوہ کچھ دیکھنے کو نہیں ملا اور اب حکومت کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے لوگوں کو 2024ء کے انتخابات سے پہلے ایک طرح کا ڈر بھی ستانے لگا ہے، لیکن کہاوت مشہور ہے کہ کتے کی پونچھ کو اگر گھی میں ڈبوکر بھی رکھا جائے تو وہ سیدھی نہیں ہوتی۔ یہی حال بھاجپا حکومت کا ہے، بھاجپا حکومت والے صوبہ مدھیہ پردیش کے اجین میں 3/مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلایا گیا؛ اس سے بھی حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ بلڈوزر کی کاررائی سے پہلے وہاں ڈھول بجایا گیا۔ ڈھول بجانے کے بعد مسلم گھروں پر بلڈوزر چلا دیا گیا، جن گھروں پر بلڈوزر چلایاگیا ان میں رہنے والے تین الگ الگ لڑکوں پر الزام تھا کہ انہوں نے مہاکال کی سواری پر کلی پھینکی تھی، ابھی یہ کیس نہ عدالت پہنچا، نہ جج نے کوئی فیصلہ سنایا اور نہ الزام ثابت ہوا، اجین پولیس انتظامیہ نے خود ہی عدالت، جج، وکیل اور گواہ بن کر فیصلہ صادر کردیا اور ان تینوں کے گھروں پر بلڈوژر چلا دیا، بلڈوژر کارروائی سے پہلے ڈھول بجاکر تماشا کیا گیا، شاید ڈھول بجاکر پولیس انتظامیہ یہ بتانا چاہ رہی ہو کہ اس ڈھول کی آواز کے سامنے نہ جمہوریت کی آواز سنی جائے گی، نہ عدالت کی، نہ قانون کی اور نہ آئین کی، اس ڈھول کی آواز اتنی بلند کیوں ہے، اس لیے کہ یہ ڈھول بھاجپا کی حکومت والے صوبے مدھیہ پردیش میں بجایا جارہا ہے۔
دوسری طرف بھاجپا حکومت والے صوبہ اتراکھنڈ سے بھی بلڈوژر کاررائی کی خبر سامنے آئی ہے، جہاں لکسر کے قریب ٹوڈہ کلاں گاؤں میں دس سے زیادہ مسلمانوں کے گھروں کو سرکار نے تعصب کی بنیاد پر بلڈوژ کردیا ہے، کہیں مجرم بتاکر تو کہیں غیرقانونی قبضہ بتاکر مسلمانوں کے گھروں کو بلڈوژرکے نیچے ایسے روند دیا جاتا ہے کہ گویا سرکار سے ان کی کوئی پشتینی دشمنی چلی آرہی ہو، سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک میں صرف مسلمان جرم کرتے ہیں، ظاہر ہے کہ ہر طبقے میں جرم کرنے والے لوگ موجود ہیں، پھر ان کے گھروں پر تو بلڈوژر نہیں چلایا جاتا، دہلی سمیت تمام بڑے شہروں میں سرکاری زمینوں پر زیادہ تر قبضہ غیر مسلموں کا ہے؛ لیکن ان کی عمارتوں کو تو زمیں بوس نہیں کیا جاتا۔
برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر
منی پور کی ایک دل دہلادینے والی ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہورہی ہے، جس کو دیکھ کر لوگ سرکار کے خلاف اپنے غصے اور ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں، ویڈیو 4/ مئی 2023ء کی بتائی جارہی ہے جس میں ایک کمیونٹی کی دو عورتوں کو دوسری کمیونٹی کے کچھ لوگ مکمل برہنہ کر کے سڑکوں پر گھما رہے ہیں، کچھ لوگ ان لڑکیوں کے پرائیویٹ پارٹس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بھی کر رہے ہیں، ویڈیو میں نظر آرہے منظر میں حیوانیت اور درندگی کی ساری حدیں پار کردی گئی ہیں، ان لڑکیوں کے آگے پیچھے تقریباً سینکڑوں ظالم لوگوں کی بھیڑ ہے، جن کے ہاتھوں میں لاٹھی ڈنڈے ہیں، ان لڑکیوں کو کہاں لے جایا گیا، ان کے ساتھ کیا ہوا، کچھ معلوم نہیں۔
اس واقعہ کے منظر عام پر آنے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ہے۔ حکام نے بتایا کہ یہ ویڈیو جمعرات کو (آئی ٹی ایل ایف) کے مظاہرے سے صرف ایک دن پہلے نشر کیا جا رہا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ ویڈیو اسی وجہ سے وائرل کیا جا رہا ہے، تاکہ اس کمیونٹی کی حالت زار کو اجاگر کیا جا سکے۔ پولیس نے بتایا کہ تھوبل ضلع کے نونگ پوک سیکمائی پولیس اسٹیشن میں نامعلوم مسلح بدمعاشوں کے خلاف اغوا، اجتماعی عصمت دری اور قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کے لیے تمام کوششیں جاری ہیں۔
ایک ٹویٹر یوزر نے اس واقعے کے بارے میں لکھا ہے کہ منی پور کی 2 لڑکیوں کی برہنہ پریڈ کی ویڈیو دل دہلا دینے والی ہے۔کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ 2014ء کے بعد ہندوستان اتنا بدل جائے گا، وزیر اعظم! آپ کیسے سکون سے سو سکتے ہیں، جب کہ ہندوستانی کلچر میں خواتین کو دیوی کا روپ دیا جاتا ہے اور منی پور میں انہیں کھلے عام برہنہ کرکے ان کے ساتھ گھناؤنا فعل کیا جارہا ہے۔وزیر اعظم یہ بتائیں کہ منی پور میں لوگوں پر تشدد کیا جا رہا ہے اور آپ اب تک خاموش ہیں؟جناب وزیر اعظم! آپ چین کی نیند کیسے سو سکتے ہیں جبکہ منی پور کے لوگ خوفناک جنگلوں میں راتیں گزارنے پر مجبور ہیں۔
اب میرٹھ سے آنے والی ایک ویڈیو کی بات سنیے، ایک ٹویٹر یوزرایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ میرٹھ میں…ایک لڑکا انسپکٹر سے کہتا ہے، ‘اگر کوئی شکایت ہے تو میں پولیس کے پاس ہی تو جاؤں گا۔’انسپکٹر بگڑتے ہوئے کہتا ہے، ‘یہیں ٹھوک دوں گا، ابھی ایک منٹ لگے گی، یہیں ٹھوک دوں گا۔اس دوران بیچ بچاؤ کرنے والی ایک خاتون کو بھی انسپکٹر چلا کر کہتا ہے، ‘مجھ سے بات کرے گا۔بابا کی پولیس بچے بوڑھے سب کو مارنے کا ہی سوچتی رہتی ہے۔یوپی کے رہنے والو! تاناشاہی کا اس سے سخت چہرہ کیا ہو گا کہ کوئی سوال پوچھ لیا یا کچھ بات کہہ دی تو آپ کو ٹھوکا بھی جاسکتا ہے۔ یوپی کی یوگی سرکار نے غنڈوں کی وردی میں پولیس یا پولیس کی وردی میں غنڈے پال رکھے ہیں سمجھ سے باہر کی بات ہے۔
اب بات کرتے ہیں ہریانہ کے روہتک کی، جہاں ہندو تنظیم کے لوگوں نے مسلمانوں کا ہوٹل بند کروا دیا، اس لیے کہ آستھا کے نام پر مسلمانوں کے ہاتھوں مٹن بریانی کھانے اور بیچنے سے ان کا دھرم خطرے میں پڑ رہا تھا؛ لہذا ایک ہجوم نے ہوٹل میں گھس کر ہوٹل کا سارا سامان پھینک دیا۔ اس واقعے پر اس کے علاوہ کیا کہا جاسکتا ہے کہ گودی میڈیا کے ذریعے پھیلایا ہوا اسلامو فوبیا اب ایک خطرناک کینسر بن چکا ہے۔
قارئین! یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کوئی بھی حکومت جس نے رعایا پر ظلم کیا یا ظلم ہوتے ہوئے دیکھا تو اس کی سرکار بہت دنوں تک نہیں چل سکی اور بہت جلد اس حکومت کا خاتمہ ہوگیا، اس لیے کہ حکومتیں ظلم کے ساتھ نہیں چلا کرتیں، آج پورا ہندوستان دیکھ رہا ہے کہ جب سے بھاجپا کا دور اقتدار شروع ہوا ہے ملک میں نفرت کا ماحول بڑھتا جارہا ہے، خانہ جنگی کے حالات پیدا کیے جارہے ہیں، پچھڑوں، اقلیتوں اور غریبوں پر ظلم و ستم عام ہوچکا ہے، جمہوریت کو بلڈوژر تلے کچلا جارہا ہے، گؤ رکشا اور لو جہاد کے نام پر سیکولرزم کا گلا گھوٹا جارہاہے، ایک طرف یہ سب کچھ ہورہا ہے اور دوسری طرف زرخرید اور بکاؤ میڈیا کے ذریعے سرکار کا جھوٹا پرچارکیا جارہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ملک کے عوام آنے والے 2024ء کے پارلیمانی الیکشن میں بھاجپا کے چال چلن کو پہچان کر اس کو حکومت سے بے دخل کرنے میں کامیاب ہوپاتے ہیں یا نہیں۔
اتوار کو بنگلور میں دو درجن سے زیادہ پارٹیوں کا اجلاس ہوا جس میں حزب اختلاف کے اتحاد کو ’آئی این ڈی آئی اے‘ یعنی ’انڈیا‘ نام دیا گیا۔ یہ ’انڈین نیشنل ڈیولپمنٹل انکلوسیو الائنس‘ کا مخفف ہے۔ بنگلور میں ہونے والے دو روزہ اجلاس کے اختتام پر اس کا اعلان کیا گیا۔ اجلاس میں شرکت کرنے والی ایک اہم پارٹی ترنمول کانگریس کی رہنما اور مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے کہا: ’این ڈی اے، کیا تم انڈیا کو چیلنج کر سکتے ہو؟‘ انھوں نے کہا کہ ’کیا اب بی جے پی انڈیا کی مخالفت کرے گی۔ چھبیس اپوزیش جماعتوں کے اتحاد ‘انڈیا’ نے ایک اجتماعی قرارداد جاری کی، بنگلور میں اپوزیشن میٹنگ میں تشکیل پانے والے اتحاد ‘انڈیا’ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا اجتماعی عہد کیا اور کہا کہ سبھی اپوزیشن جماعتیں بی جے پی کے نظریہئ تقسیم کے خلاف متحد ہیں۔
اس اتحاد کی جہاں ایک طرف خوب ستائش کی جارہی ہے، وہیں دوسری طرف مسلم قیادت والی سیاسی جماعتیں اور مسلم دانشوران اس بات سے ناراض نظر آرہے ہیں کہ اس میں ایک بھی ایسی سیاسی جماعت کو شامل نہیں کیاگیا ہے جو مسلم لیڈران کی قیادت میں چل رہی ہیں، دانشوران کا کہنا ہے کہ ان سیکولر پارٹیوں کو صرف مسلمانوں کا ووٹ چاہیے، مسلمانوں کی قیادت نہیں، آخر کیا وجہ ہے کہ یہ سیکولر جماعتیں کسی طور بھی مسلم قیادت کو قبول نہیں کرنا چاہتیں، یہ لوگ مسلمانوں کو حصہ داری دینے کی بات نہیں کرتے اور مسلم قیادت والی پارٹیوں کو شجر ممنوعہ سمجھ کر ان سے اتحاد بھی نہیں کرنا چاہتے، اس کی ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہوں کہ اگر ہم مسلم پارٹیوں سے اتحاد کریں گے تو ہمارا ہندو ووٹ خراب ہوگا یا پھر وہ یہ سمجھ کر کہ مسلمانوں میں اب تک سیاسی شعور پیدا نہیں ہوا ہے، انہیں اپنی قیادت اور لیڈرشپ کی سمجھ ہی نہیں ہے، وہ آخر کار مجبور ہوکر ہمیں ہی ووٹ دیں گے، شاید اس لیے بھی وہ مسلم جماعتوں سے اتحاد اور گٹھ بندھن کی بات نہ کرتے ہوں، جبکہ کیرل کی مسلم لیگ، آسام کی اے آئی یو ڈی ایف اور تلنگانہ کی اے آئی ایم آئی ایم ایسی مشہور اور بڑی جماعتیں ہیں کہ جن سے اتحاد کیا جاسکتا تھا۔
Comments are closed.