بارش نعمت یا زحمت
نعمت اللہ عقیل
شعبہ اسلامک اسٹڈیز
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد
بارش کا زمین پر برسنا ایک بڑی نعمت ہے، جس کا تصور غور و فکر کرنے والا ہی کر سکتا ہے،بارش کا خوش نما صورت ہر کسی کو پسند ہوتی ہے،کبھی سورج کا بادلوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنا،کبھی قوس و قزح کا آسماں پر بکھرنا، کبھی موسلا دھار بارش کا برسنا، کبھی بادلوں کا گرجنا اور روشنی بکھیرنا،کتنا خوبصورت و دلکش منظر ہوتا ہے ۔
آپ جب کھیت کھلیان میں جاتے ہیں تو دیکھتے کہ کس طرح مردہ زمین زندہ ہو چکی ہوتی ہے۔ پرندوں کی آوازیں چہار سو گونج رہی ہوتی ہیں۔ پھول کھل رہے ہوتے ہیں،درختوں پر ہریالی آچکی ہوتی ہے، ایک عجیب سا خوش نما منظر ہوتا ہے ۔
اللہ تعالی نے قرآن کریم کے اندر کئی مقامات پر بارش کا تذکرہ کیا ہے اور اس کے فوائد بتلائے ہیں، اللہ تعالٰی نے سورہ بقرہ آیت کریمہ 22 میں فرمایا:
"الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۖ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَندَادًا وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ”
( پھر تم دیکھ رھے ھو کہ وھی ہے ) جو آسمان سے پانی برساتا ہے جس سے زمین شاداب ھو جاتی ھے اور طرح طرح کے پھل تمہارے غذا کے لیے پیدا ھو جاتے ھیں۔ پس( جب خالقیت اسی کی خالقیت ھے اور ربوبیت اسی کی ربوبیت تو ) ایسا نہ کرو کہ اس کے ساتھ کسی دوسری ھستی کو شریک اور ھم پایہ بناؤ اور تم جانتے ھو ( کہ اس کے سوا کوئی نہیں ھے) ( ترجمان القرآن )
مذکورہ آیت کریمہ میں غور و فکر کی جائے تو بارش کا برسنا زمیں کو شاداب اور زندہ کرنا ہے اور انسانوں کے لیے غذا تیار کرنا ہے ،تو اس حیثیت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بارش کتنی بڑی نعمت ہے۔
اسی طرح اللہ تعالی سورہ بقرہ آیت کریمہ 126 میں بیان فرمایا کہ
"إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ الله مِنَ السَّمَاءِ مِن مَّاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ”
بلاشبہ آسمان و زمین کے پیدا کرنے میں اور رات دن کے ایک کے بعد ایک آتے رہنے میں اور جہاز میں جو انسان کی کارباریوں کے لیے سمندر میں چلتا ہے، اور برسات میں جسے اللہ آسمان سے برساتا ہے اور اس کی (آب پاشی) وجہ سے زمین مرنے کے بعد پھر جی اٹھتی ہے اور اس بات میں کہ ہر قسم کے جانور زمین کے پھیلاؤ میں پھیلے ہوئے ہیں اور ہواؤں کے (مختلف رخ) پھرنے میں اور بادلوں میں جو آسمان و زمین کے درمیان (اپنی مقررہ جگہ کے اندر) بندھے ہوئے ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھنے والے ہیں (اللہ کی ہستی و یگانگی اور اس کے قوانین رحمت کی) بڑی ہی نشانیاں ہیں( ترجمان القرآن )
اللہ تعالی نے مذکورہ آیت کریمہ کے اندر سات اہم امور کا تذکرہ کیا ہے، ان سات امور میں پانچ کا تعلق بارش اور پانی سے جس میں انسان کو غوروفکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔
آپ غور کریں اور دیکھیں کہ کس طرح پانی کا موج مارتا سمندر جس سے ایک انسان فائدہ اٹھاتا ہے ، سمندروں میں طغیانی کا آنا ، کبھی جہاز کا چلنا ،کبھی کشتی کا چلنا ، تجارتی سامان کا ایک طرف سے دوسری طرف لے جانا، اور بارش کے موسم میں بارش کا آنا اور ان بارش کے ذریعے مردہ زمین کو زندہ و تابندہ کرنا ،اور بادلوں کو ہوا کا ادھر سے ادھر لیے پھرنا ، ان ساری چیزوں میں اللہ تعالٰی نے عقلمند کے لیے نشانیاں رکھی ہیں۔
قارئین کرام!
کبھی کبھی یہی بارش انسان کے لیے مضر اور نقصان کا باعث ہو جاتی ہے،ہم دیکھتے ہیں کہ بارش زور و شور سے ہو رہی ہے، سمندروں میں طغیانی و طوفان برپا ہے ، کھیت کے اناج درہم برہم ہونے کو ہے ،سڑکوں اور نالوں میں پانی کا بہاؤ ہے، گھر زمیں بوس ہو چکی ہے، درختوں کے تنے راستوں اور چوراہوں پر پڑے ہیں، اسکول و کالجز مقفل ہو رہے ہیں ، لوگ پریشان حال ہیں، تو معلوم یہ ہوتا ہے کہ جہاں ایک طرف یہ بارش ایک نعمت ہے وہیں دوسری جانب زحمت بھی ہو جاتی ہے۔
اللہ تعالی نے قرآن کریم کے اندر کئی جگہوں پر اس کا تذکرہ بھی کیا کہ کئی قوموں کو ان بارش اور ہواؤں کے ذریعے سے ہلاک و برباد کیا گیا،قوم نوح کو دیکھ لیں کہ اللہ تعالٰی نے قوم نوح علیہ السلام کو بارش اور چشموں کے ذریعے ہلاک و برباد کیا، قوم عاد کو دیکھ لیں کہ اللہ تعالٰی نے ایک تیز و تند آندھی کے ذریعے ہلاک و برباد کر دیا، جو کہ سات رات اور آٹھ دن تک چلتا رہا، اسی طرح فرعونیوں کو سمندر کے پانی کے حوالے کر دیا گیا اور اسی طرح جنگ خندق کے دوران کفار مکہ کو اسی بارش اور ہواؤں نے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔
مذکورہ قوموں کو ہلاک و برباد کرنے کے دو اسباب ہیں۔ ایک تو ان قوموں نے اللہ کے بھیجے گئے پیغمبر اور نبیوں کو جھٹلایا،دوسرا یہ کہ بت پرستی ان لوگوں میں عام تھی۔ ایسے حالات میں ہمیں توحید کی طرف پلٹنا چاہیے اور توحید پر ثابت قدم رہنے کی بھر پور کوشش کرنی چاہیے ، اس لئے کہ جس ملک و قوم میں بت پرستی اور شرک پھیل جاتی ہے اور نبی اور رسول کی تکذیب کی جاتی ہے تو ایسی قوم اور ایسے ملک میں اللہ تعالٰی کا غیظ و غضب نازل ہوتا ہے،کبھی بارش کی شکل میں تو کبھی تیز و تند ہواؤں کی شکل میں تو کبھی طوفان اور سیلاب کی شکل میں، جس کا مشاہدہ ہم نے پچھلے سال بھی کیا ہے۔
ایسے حالات میں رسول اکرم کا جو معمول تھا اسے اپنی زندگی میں لانے اور شامل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صحیح مسلم کتاب الاستسقاء میں ایک روایت لائے ہیں کہ ” جعفر بن محمد نے عطاء بن ابی ر باح سے روایت کی انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھیں کہ جب آندھی یا بادل کا دن ہوتا تو آپ کے چہرہ مبارک پر اس کا اثر پہچانا جاسکتا تھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اضطراب کے عالم میں)کبھی آگے جاتے اور کبھی پیچھے ہٹتے،پھر جب بارش برسناشروع ہوجاتی تو آپ اس سے خوش ہوجاتے اور وہ(پہلی کیفیت) آ پ سے دور ہوجاتی،حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا:میں نے(ایک بار) آپ سے(اس کا سبب) پوچھا تو آپ نے فرمایا:”میں ڈر گیا کہ یہ عذاب نہ ہو جو میری امت پر مسلط کردیا گیا ہو”اور بارش کو دیکھ لیتے تو فرماتے”رحمت ہے۔”
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اچھی اور رحمت والی بارش کی دعا فرماتے۔
امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صحیح مسلم کے کتاب الاستسقاء میں نقل کرتے ہیں کہ "ابن جریج عطاء بن ابی رباح سے حدیث بیان کرتے ہیں،انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہ انھوں نے کہا:جب تیز ہوا چلتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے:”اے اللہ!میں تجھ سے اس کی خیر اور بھلائی کا سوا ل کرتا ہوں۔اور جو اس میں ہے اس کی اور جو کچھ اس کے ذریعے بھیجا گیا ہے اس کی خیر(کا طلبگار ہوں) اور اس کے شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اور جو اس میں بھیجا گیا ہے ا س کے شر سے تیری پناہ چاہتاہوں”( اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ)”
اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعا بھی ثابت ہےاللهم صيبا نافعا( اے اللہ فائدہ دینے والی بارش فرما) ( بخاری)
اللہ تعالی ہمیں عبرت و نصیحت حاصل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین۔
Comments are closed.