خواتین کی شخصیت سازی : مسلم معاشرہ کی ناگزیر ضرورت
مفتی احمدنادرالقاسمی
اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا
تجربہ بتاتاہے کہ خواتین میں یہ خوبی پاٸی جاتی ہے کہ وہ اپنی طبعی زود رنجی کی کمزوری کی وجہ سے میدان میں زیادہ دیر نہیں ٹک سکتی، مگر ماحول سازی میں اس کی طاقت مردوں سے کہیں زیادہ ہے۔وہ ڈھارس بندھانا خوب جانتی ہیں، حالات کو اپنے فیور میں کس طرح کیا جاتا ہے، ان میں اس کا ہنرخوب ہوتاہے۔ نٸی نسل کی تربیت کا بیش قیمت سلیقہ ان میں موجودہوتاہے۔ اسی عالمی مطالعہ کے بعد روضة االاطفال سے لیکر أٹھویں کلاس تک کے اسکول کے نظام دنیاکے اکثر ملکوں میں ان کے ہاتھوں میں ہیں اورخواتین بخوبی اسے نبھارہی ہیں۔ یہ جوجوہر آن کے اندرپایاجاتاہے اگر ان میں اسلامی شخصیت سازی کے ذریعہ دینی اور اخلاقی رنگ بھردیاجاٸے تو خواتین معاشرہ کی تعمیر میں انقلاب لاسکتی ہیں، اس کو سمجھنے کے لٸے دورجانے کی ضرورت نہیں ہے۔اسلامی تاریخ میں اس کی مثالیں بھری پڑی ہیں، مسلم معاشرہ کی بدقسمتی ہے کہ اسے سب کچھ یاد ہے مگر اسے خدیجة الکبری، اماں عاٸشہ، امام بخاری، حضرت انس۔، شیخ عبدالقادرجیلانی،صلاح الدین ایوبی، خواجہ بختیار کاکی اورمحمدعلی جوہر کی والدہ جیسی باشعور خواتین کا تربیتی اورشعری کردار یاد نہیں رہا جو انھوں نے انسان اوررجال سازی میں کردار اداکیاہے۔ پہلے ان کی تربیت ہوٸی، پھر انھوں نے امت کو ایسے عباقرہ اور غیور افراد پیداکرکے دیٸے۔ میں نے عربی میں ایک کتاب پڑھی تھی ۔” المرأة المسلمة ومسوٶلیتھا فی الأسرة المسملة“بڑی لاجواب کتاب ہے۔ أس کتاب میں مصنف نے خواتین کی ذمہ داریوں پر بھی روشنی ڈالی ہے اور ان میں پاٸی جانے والی صلاحیتوں کوبھی اجاگر کیاہے۔ جب میں اس کا پورا تربیتی گاٸڈ ترتیب دوں گا تو ان شاء اللہ اس سے ضرور استفادہ کروں گا۔
غرض یہ کہ اس وقت کایہ اہم موضوع ہے جس پر عملی کام کی ضرورت ہے ۔دعاکریں کہ اس کام کے لٸے کچھ دردمند حضرات کارواں میں شامل ہوجاٸیں ۔اللہ تعالی آسانی کا معاملہ فرماٸے ۔اورہم لوگ اس کام کے لٸے خود کو فارغ کرسکیں.
Comments are closed.