بائیلو پیرس کا پر تشدد احتجاج
از: ناظم الدین فاروقی
یورپ میں اسلامو فوبیا کے واقعات میں کوئی کمی ہوتی نظر نہیں آرہی ہے ۔کسی نہ کسی لغوغیر اہم مسئلہ کو لے کر میڈیا میں خوب پروپگنڈہ کیا جاتا ہے اور حکومتیں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑاتے ہوئے تارکانِ وطن مسلمانوں کو ظلم و استبداد کا شکار بناتے ہیں۔
3؍ جولائی 23 کو پیرس فرانس کے مضافاتی علاقے بائلیو میں 17 سالہ نہال مرزوق کو مقامی ایک پولیس کانسٹیبل نے کار میں گولی مار کر ہلاک کردیا۔ تفصیلات کے مطابق نہال مرزوق بس کی لائن میں کار چلا رہا تھا ۔ پولیس نے اسے روکنے کی کوشش کی وہ تیزی سے نکل گیا ۔ آگے اسٹاپ پر اسے روک کر بلا کسی اشتعال کے کانسٹیبل نے پہلے بندوق کی نوک پر لگے چاقو سے اسے مارا پھر دو راؤنڈ فائر کرکے اسے ہلاک کردیا۔ یہ 17 سالہ نوجوان اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا تھا جو واحد سرپرست کی حیثیت سے اس کی پرورش کر رہی تھی ۔ فرانس پولیس کی عرب و مسلم نسل کے ساتھ نفرت آمیز معاندانہ سلوک ایک عرصے سے جاری ہے ۔ اس بے گناہ کی ہلاکت کے خلاف پُر تشدد احتجاج پھوٹ پڑا ۔نہال مرزوق کے نمازِ جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اژدھام کا عالم یہ تھا کہ سڑکیں نمازیوں سے پُر ہوچکی تھیں ۔ گزشتہ ایک سال میں افریقی عرب نژاد مسلمانوں کے اس طرح مافرت کی بنا پر سے 17 قتل ہوئے ۔فرانسیسی معاشرہ میں افریقی نژاد مسلمانوں سے قابل مذمت سلوک کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ فرانسیسی انتہا پسند انھیں انتقام کا نشانہ بنا کر تعلیم ‘ معاشی ترقی اور سماجی مساوات سے ہمیشہ سے بے دخل کرتے رہتے ہیں ۔ سابقہ میں سوشل میڈیا پر جھوٹے پروپگنڈہ کرکے بعض مشہور عرب مسلمانوں کے تجارتی اداروں کو بند کرچکے ہیں ۔پیرس میں ایک مشہور بیکری سلامہ کی تھی سب سے زیادہ مشہور اور 24 گھنٹے چلنے والی بیکری تھی ۔ سوشل میڈیا پر کرسچن گروپس نے ایک سوشہ چھوڑ دیا کہ یہ بیکری کا مالک مراقشی ہے جو ہم سے پیسہ کما کر دنیا کے اسلامی دہشت گرد تنظیموں کو مالی امداد کرتا ہے ۔ اس پر کراک ڈاؤن ہوا اور آج تک بھی لغو جھوٹے الزامات کے تحت مقدمات دائر کئے جارہے ہیں ‘ اس طرح کئی اسلامی اسکالرس کو جھوٹے خطرناک مقدمات میں پھانس کر زندگی دوبھر کی جارہی ہے ۔
پہلی مرتبہ دکھا گیا کہ اس پُر تشدد احتجاج میں تمام ممالک کے مسلم نوجوان شریک ہوگئے ‘ یہ احتجاج کئی شہروں تک پھیل گیا۔ سیکڑوں دوکانیں ‘ 5600 کاریں ‘ لائبریریز ‘ پٹرول ٹینکس اور 250 پولیس اسٹیشنس جلا کر خاکستر کردیئے گئے ۔
نسلی امتیازات کے خلاف پہلی مرتبہ اتنا پُر تشدد غیر منظم احتجاج دیکھا گیا ۔ نہ کسی بھی پارٹی کا قائد ‘ لیڈر احتجاج کے پیچھے نہیں تھا ۔ یہ فی البدیلہر اچانک اٹھی اور آگ میں تبدیل ہوگئی ۔
3 دن سے زیادہ چو طرف توڑ پھوڑ ‘ آگ زنی جاری تھی ۔40 ہزار پولیس فورس کو تعینات کیا گیا ۔ 2000ہزار سے زیادہ نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔پولیس کانسٹیبل کو معطل کردیا گیا ۔ فرانس کی اکثریت گولی مارنے والے پولیس والے کی تائید میں کھڑے ہوگئی اس کے لئے مقدمات لڑنے کے لئے فوری 1.3 ملین پونڈ ڈالر کا چندہ جمع کرلیا گیا ۔ نہال مرزوق کی ماں کے لئے مسلمانوں نے 3 لاکھ یورو ڈالر چندہ جمع کیا ۔
پر تشدد احتجاج کا الزام مسلمانوں پر ڈالا جارہا ہے جب کہ اس طرح کے پر تشدد احتجاج اب فرانس سوسائٹی میں ایک عام بات ہوچکی ہے ۔ قارئین کو یاد ہوگا 2018 کے Gilets Jaunes Crises کے موقع پر بلیٹ گن کی وجہہ سے 24 احتجاجیوں کے آنکھ چلی گئی اور پانچ کے ہاتھ گولیوں سے چھنی ہوچکے تھے ‘ پھر حال میں2 ماہ قبل Macrons Pension Reform کے خلاف فرانس کے ہر شہر میں پر تشدد احتجاجات کئی ہفتوں تک جاری رہے ان احتجاجات میں تقریباً ڈیڑھ ملین فرانسیسیوں نے حصہ لیا تھا۔
نہال مرزوق کے قتل پر کئے جانے والے احتجاج کو لے کر یورپی میڈیا میں مسلمانوں کے خلاف زہر آلود بیانات اور اشتعال انگیزی کی جارہی ہے ۔ اسلام دشمنی میں یہ کہا جارہا ہے کہ جہادی اور اسلامی دہشت گردوں نے بدترین احتجاج کرکے یورپ کے پُر امن حالات کو خراب کردیئے ۔فرانس کی غلط پالیسیوں کی وجہہ سے جاہل ‘ وحشی عربوں کی نسلوں کے ہاتھوں میں ہمیں بھگتنا پڑ رہاہے ۔ وغیرہ۔
بعض مقامی دانشوروں اور سیاسی قائدین نے یہاں تک لکھا کہ 732 میں کس طرح مسلمان عربوں نے حملہ کرکے اسپین پر قبضہ کرلیا تھا یہ احتجاج نہیں بلکہ یہ دراصل دنیا کی اعلیٰ ترین مہذب ‘ مغربی تہذیب پر افریقی وحشیوں کا حملہ ہے ۔عصر حاضر میں الگ نوعیت کا اسی طرح کا حملہ منظم کیا گیا ہے اگر انھیں سخت سزائیں دے کر نہیں دبایا گیا یا واپس ان کے ممالک کو ملک بدر کردیا جاتا اس وقت تک ان دہشت گردوں سے ہماری قوموں کو چھٹکارا ملنا مشکل ہے ۔نہال مرزوق کی ہلاکت کے احتجاج پر امریکی صحافت میں کسی قدر متوازن اور محتاط موقف اختیار کیا اور فرانس کی نسلی امتیاز کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے غیر سفید اقوام کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ کرنے کی جانب توجہ مبذول کروائی۔
2005 میں بھی فرانس میں دو کم عمر بچوں کو گولی مار کر پولیس نے ہلاک کردیا تھا اس وقت بھی پر تشدد احتجاج بلند ہوا تھا ۔ 7؍ جنوری 2015 میں گستاخِ رسولؐ کا چارلی ہبڈوکے دفتر پر دہشت گرد حملے میں 12 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوگئے تھے ۔ پورے یورپ امریکہ میں مسلمانوں کی دہشت گردی کے خلاف زبردست پروپگنڈہ طویل عرصے تک کیا جاتا رہا ۔ اس کے بعد پھر خواتین کے اسکارف زیب تن کرنے اور اسکولوں میں اسلامی مضمون اور اسی طرح کے مسائل کو لے کر ہنگامہ آرائی مخالفین کی جانب سے کی جاتی رہی ۔ جس طرح سے عالمی میڈیا میں یہ پروپگنڈہ کیا جاتا رہا کہ فرانس میں مقیم افریقی عرب مسلمان تارکین وطن غیر قانونی عارضی طور پر فرانس میں داخل ہوئے تھے اور ان لوگوں نے پر تشدد احتجاج بلند کیا ۔ یہ سب باتیں جھوٹ اور کذب پر مبنی ہے مسلمان ایک صدی سے زیادہ عرصے سے فرانس میں شہری کے طور پر مقیم ہیں جس کی تفصیلات پیش ہیں:
فرانس میں مغرب و افریقی مسلمانوں کی آبادی :
فرانسیسی مسلمانوں کی جملہ آبادی 56 لاکھ ہے۔ 6کروڑ 70 لاکھ کی فرانس کی کل آبادی میں مسلمان 8.9% ہیں۔ مسلمانوں میں 82% مغرب ‘ افریقی نژاد اورباقی عرب و ترکی النسل ہیں ۔ ایک لاکھ اصل فرانسیسی گورے نسل کے نو مسلم شامل ہیں ۔
(1)۔تیونس11.4%۔(2)۔ الجیریا43%۔(3)۔مراکش27%۔(4)۔ماریطانیہ 4%۔(5)۔ساحلSub Serum 9.6% ۔(6)۔ترکی 8.6%۔ غربت اور جہالت کی وجہہ اکثر چھوٹی ملازمتوں پر زندگی گزر بسر کرتے ہیں۔ مسلمان آبادی کا بڑا حصہ 2017 میں حسین الفقرأ Slum Area میں رہتا ہے ۔ 57% مسلمان اسلام پسند ہیں ۔ پابند صوم و صلوۃ لوگوں کی تعداد 17% تھی اب بڑھ کر23% ہوگئی ہے ۔ 43% مسلمان مرد و خواتین Non Practicing Muslims ہیں ۔ ان میں حلال و حرام ‘ منکرات و منھات اور اخلاق سئو سے اجتناب و استنفکار کا تصور نہیں پایا جاتا۔ معاشی اور تعلیمی سطح عام فہرستوں کے مقابلہ بہت سست ہے۔ ایک فرانسیسی کی فی فرد آمدنی 43000 ڈالرہے جب کہ فی فرد مسلمان کی آمدنی 12 تا 17 ہزار ڈالر ہے ۔ فرانسیسی سماج کی ہر سطح پر کہیں نہ کہیں نفرت و عداوت پائی جاتی ہے ۔ 38%ردوں اور 46% مسلم عورتوں کو 14% کرایہ داروں کو ‘ پولیس میں3% اور ملازمتوں اور نوکریوں میں 17%امتیاز و نفرت برتی جاتی ہے۔ دوسرے جو غیر مسلم ‘ غیر فرانسیسی نژاد ہیں ان میں 17% افراد کو نفرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جہاں تک بنیادی شہری اور انسانی حقوق کی بات ہے ۔ وہ بلا کسی فرقے ‘ گروہ ‘ رنگ و نسل ‘ مذہب کے یکساں شوشل سیکوریٹی حاصل ہوتی ہے ۔ اگر مسلمان اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے تو کوئی ترقی کے دوڑ میں فرانسیسیوں کے شانہ بہ شانہ ہوتے۔
گودی میڈیا نے موقع کو غنیمت جان کر بائلیو پیرس کے پُر تشدد و احتجاج کو لے کر اسے یورپ پر اسلام کے علمبرداروں کا حملہ قرار دیا۔ اور کہا جارہا ہے کہ ہم کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہیئے ۔ اس طرح کی کوئی صورت ہمارے ملک میں بھی دہشت گرد پیدا کرسکتے ہیں ۔ پولیس اسٹیشن ‘ چرچس‘ لائبریری ‘ قومی آثار قدیمہ کے میوزیمس ‘ گھر بار سب کو جلا دیئے گئے پھر بھی میکرون ان کے خلاف کچھ کر رہا ہے کیوں خاموش ہے اس کے پیچھے کیا راض ہے ۔ یہ ڈھونگ رچا کر پہلے رفیوجی بن کر جاتے ہیں پھر اس ملک میں اس کے خلاف سے بغاوت کرکے دہشت گردی پھیلاتے ہیں ۔ چارلی ہبڈو کے وقت کیا ہوا 12 افراد کو قتل کردیا گیا وغیرہ۔ بات کرتے کرتے ہندوستان میں روہنگیا پناہ گزینوں کے ہندوستان میں غیر قانونی قیام پر لغو بکواس کی جارہی ہے ۔
گودی میڈیا کا ماننا ہے کہ دنیا میں مسلمانوں کا کہیں نہ کہیں مرکز سے دہشت گردی کنٹرول کی جاتی ہے‘پوری دنیا میں وقفے وقفے سے اس طرح سے امن درہم برہم کرتے ہیں اور ہمارے لئے خطرہ بن جاتے ہیں ۔ فرانس ان لوگوں کو کیوں مارتا ٹھوکتا نہیں (یعنی قتل نہیں کردیتا) فرانس کی فوج نے پولیس سے کہہ دیا ہے کہ دیکھو تم ان انتہا پسندوں کو کنٹرول نہیں کرسکتے تو ہم سب کچھ ٹھیک کردیں گے۔ ہوشیار ہوجائیے ۔
گودی میڈیا یہ بتلارہا ہے کہ ساری دنیا میں مسلمان اسی طرح سے پہلے بھیک مانگتے مانگتے غیر قانونی طور پر یورپی ممالک میں گھس جاتے ہیں اور پھر سوشل مراعات لے کر گھٹیوز بناتے ہیں اور قدم جماتے ہیں ان مقامی مہذب قوم کے ساتھ لڑتے اور فساد کرکے تباہی مچاتے رہتے ہیں ۔
فرانس کے معاملہ اور ان کی جھوٹ سامنے آئی ہے ۔ یہ افریقی نژاد مسلمانوں نے پہلی مرتبہ فرانس کی سرزمین پر پر تشدد احتجاج نہیں کیا بلکہ ابھی چند ماہ قبل انٹی گورنمنٹ پنشن ایجیٹیشن Anti-Government Pention Agitation پر تشدد فساد پھوٹ پڑا جو کئی ہفتوں تک جاری رہا اس میں 15 لاکھ فرانسیسیوں نے ملک کے مختلف شہروں میں حصہ لیا۔ دوکانات ‘ آفس ‘ مارکٹس لوٹے گئے اور بڑے پیمانے پر آتش زنی کے واقعات ہوئے ۔ یورپی اقوام نے پہلی مرتبہ دیکھا کہ گورے نسل کے فرانسیسیوں نے جو پُر تشدد احتجاج کیا اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ۔
اس پُر تشدد احتجاج کے صرف 2 ماہ بعد نبال مرزوق کی ہلاکت کے خلاف مسلم نوجوانوں نے احتجاج بلند کیا تو جہاد ‘ اسلامی دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی بدترین کاروائی پر من مانی باتیں کی جاتی رہیں۔ Pushpandra Kulhrestha نے فصیح اردو میں جو گالیاں دی ہیں وہ کوئی مہذب سماج میں برداشت کر نہیں سکتا ۔ وہ کہتا ہے کہ یہ رزیل لوگ ایسے گندے قوم یورپ کی سرگرم پر قدم رکھتے ہیں ۔ دوسرا کہتا ہے کہ منحوس بدترین مسلمان انھیں شرم بھی نہیں آتی کہ دوسروں کے ملک میں جا کر اس طرح دہشت گردی کرتے ہیں ۔ پھر سارے معاملے کو ہندوستان میں روہنگیا مہاجرین سے ملا دیا گیا ۔ جب انتقام کی آگ میں بکواس کرتے ہیں تو یہ ہندوتوا کے نام نہاد انتہا پسند دانشور بھول جاتے ہیں کہ ایسے مادر وطن بھارت میں بیچارے دلتوں ‘ آدی واسی عورتوں کا حشر بنا رکھا ہے۔ اگر سب کچھ ٹھیک ہے تو پھر 2016 تا 2020 ملک میں اتنے فسادات کیوں ہورہے ہیں ۔
منسٹر آف اسٹیٹ ہوم مسٹر نتن رائے نے پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ان چار سالوں کے درمیان ملک میں 3399 فسادات ہوئے وہ کانگریس کے M.Pششی تھرور کے ایک سوال کا جواب دے رہے تھے ۔
صرف ایک فرانس کے پر تشدد احتجاج پر ملک کی غیر مسلم عوام کو جھوٹ بول بول کر دماغوں کو مسلمانوں کے خلاف زہر آلود کر رہے ہیں ۔
وما علینا الا لبلاغ
Comments are closed.