ہلاکوخان کاانتظار؟

سمیع اللہ ملک
ایک طاقتوراورمرکزکی محافظ فوج معتصم بااللہ کاخواب تھا۔ایک ایسی فوج جووسیع وعریض عباسی سلطنت کواپنے رعب و دبدبے سے قائم رکھے،سب کومرکزکاباجگزاربنائے اوردلوں میں پیداہونے والی نفرتوں کوزوربازوسے کچل دے۔اب تک عباسی خلافت اپنے دواجزائے ترکیبی عرب اورایران سے سپاہیوں کوبھرتی کرتی یاپھرانہیں علاقوں کے لوگوں کی طاقت،ہمت بلکہ علم ودانش پربھی انحصارکرتی لیکن اپنے باپ ہارون اوربھائی مامون سے مختلف یہ شخص طاقت واقتدارکوبزورشمشیرنافذکرنے کا قائل تھا۔باپ نے اس کوعلم کی طرف راغب کرنے کیلئے ایک غلام اس کے ساتھ لگارکھاتھاجس کے پاس کوئی نہ کوئی کتاب ہوتی جواسے پڑھاتارہتالیکن کچھ عرصے بعداس غلام کاانتقال ہوگیاتوہارون الرشید نے کہا:معتصم تمہاراغلام مرگیاتواس نے جواب دیاکہ غلام بھی مرگیااورکتاب سے بھی مجھے چھٹکاراحاصل ہوگیا۔ہارون نے یہ جواب سناتوکہااسے پڑھانے لکھانے کی ضرورت نہیں کہ نہ اس کارجحان اس طرف ہے اورنہ ہی یہ اس قابل۔علم کیلئے میرے بیٹے مامون اورامین ہی بہترہیں۔یوں اپنے باپ کی عین پیشن گوئی کے مطابق وہ بادشاہ بننے تک علم کی دولت سے بہت حدتک محروم ہی تھا۔
ایسے کم علم لوگوں کاایک خاصاہوتاہے کہ وہ اقتدارمیں آتے ہی کچھ ایسے انوکھے اورنرالے کام ضرورکرتے ہیں کہ ان کی طرف لوگوں کی توجہ کھینچ آئے۔کبھی کبھی وہ ان غیرمقبول اور انوکھے نظریات رکھنے والے اصحاب کواس لیے بھی پذیرائی دیتے ہیں کہ ایساکرنے سے ان کی جہالت پردے میں چلی جاتی ہے۔معتصم نے بھی ایساہی کیااسی کے دورمیں مسلم امہ میں پہلی دفعہ روشن خیالی کی سرکاری سرپرستی شروع ہوئی۔مسئلہ خلق قرآن اس کے دورکی اختراتھی اوراس کی سرپرستی یوں کی گئی کہ تمام حکام کواحکام بھجوائے گئے کہ بچوں کامروجہ نصاب تبدیل کرکے کہاگیاکہ اس میں شامل کیاجائے کہ قرآن مخلوق ہے۔اس راستے میں جواللہ کانیک بندہ،عالم،فاضل یا فقہیہ آیااس کاراستہ اس طاقتورفوج سے روک دیاگیا جسے معتصم نے اقتدارمیں آتے ہی ترک غلاموں پرمشتمل ترتیب دیاتھا۔
اکثرکے سرقلم کردئیے گئے،اوربہت سے جیل خانوں کی تاریکیوں میں دم توڑگئے۔یہ فوجی سیکورٹی کے نام پرگھوڑوں پرسوار زناٹے بھرتے بازاروں میں گھومتے،لوگوں کواذیتیں دیتے اورراہ چلتوں کوعبرت کانشان بناتے۔یہی وہ دورتھاجب اہل بغدادنے معتصم سے کہاآپ ان اجڈاورگنوارترک فوجیوں کوروکیں ورنہ ہم آپ کے خلاف خروج کریں گے تو وہ زورسے مسکرادیااورکہا تم کس سے لڑوگے ،ہتھیارتوسارے شاہی فوج کے پاس ہیں۔بے بس اورنہتے اہل بغدادنے کہاہم آہ سحرگاہی کے تیروں سے تیرامقابلہ کریں گے۔ان آہ سحرگاہی کے تیروں میں سے ایک تیراحمدبن حنبل بھی تھے جولوگوں کی دعائے نیم شبی کے نتیجے میں اسلام کی اس بے لگام روشن خیالی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔یقیناآپ کی نظروں سے امام حنبل کے متعلق’’عزیمت یارخصت میں فرق‘‘کے عنوان سے میراخصوصی آرٹیکل ضرورگزراہوگا کہ کس طرح ان کوجیل،کوڑے،بازاروں میں گھسیٹنا،مارمارکرپورا بدن لہولہان کردینا،کیا کچھ نہ ہوا لیکن اس مردحر کے پایہ استقلال میں لرزش تک نہ آئی۔
لیکن اس طاقتوراورمرکزپرست فوج نے اوٓل اوٓل توتمام علاقے میں اپنی طاقت بزورشمشیردکھانے کیلئے ظلم کابازارگرم کردیا لیکن تاریخ اس بات پرشاہدہے کہ پھریہ مضبوط اور مستحکم فوج اس قدرمستحکم ہوگئی کہ انہوں نے خلیفہ کاحکم تک سننے سے بھی انکارکردیا۔جس علاقے کے لوگوں یاحاکم کوچاہتی غداراورخلافت کاباغی تصورکرتی اورایکشن کردیتی۔کتنے ہی خلیفہ ایسے تھے جنہیں اس فوج نے تخت سے اتارااوراپنی مرضی کاخلیفہ مقررکیا۔بعض کوتواس قدرسیکورٹی رسک سمجھاگیاکہ ان کوقتل کردیاگیا۔
طاقتور،فوج،روشن خیال درباری اشرافیہ اورمرکزکی مضبوطی اوراستحکام یہ تین ایسے تحفے تھے جومعتصم نے عباسی خلافت کوپیش کیے اوراس کے زوال کی بنیادرکھ دی اورپھردیکھتے ہی دیکھتے پوری امت مسلمہ پرحکمرانی کرنے والی عباسی خلافت کے ٹکڑے ہونے لگے۔جنوبی ایران میں یعقوب صفارکی سربراہی میں صفاری حکومت قائم کردی گئی۔جازندران کے علاقے میں علوی سیدوں نے طبرستانی حکومت کااعلان کردیا۔مصرمیں ایک ترک احمد بن طولون نے دولت طولونیہ کے نام پر مصراورشام میں خودمختاری حاصل کرلی۔موصل اور حلب میں عربوں کے صمرانی قبیلے نے آل صمدان کے نام سے سلطنت کی بنیادرکھ دی۔گورگان کے علاقوں میں دولت زیاریہ اورمصرکے کچھ علاقوں میں دولت شیدیہ قائم ہوگئیں اور طاقتورفوج بغداد تک محدودہوگئی اورروشن خیال مذہبی افکاربھی اسی دربارمیں زیربحث آتے رہے۔یہی مضبوط مرکزجس کولوگوں کی فلاح کی بجائے طاقتورفوج سے قائم رکھنے کی کوشش کی گئی تھی۔ایک تاتاریوں کے گھوڑوں کی سموں کے نیچے یوں کچلاگیاکہ دجلہ اورفرات کاپانی کئی دن تک خون سے رنگین ہوگیا،علم وادب کے مراکزجلاکرخاکسترکر دئیے گئے اورلاکھوں کتابوں کی راکھ بستیوں میں اڑتی رہی۔آہ سحرگاہی کے تیروں سے جنگ کرنے والوں پروہ قیامت ٹوٹی کہ بازاروں میں مسلمانوں کاخون اس قدر تھاکہ گھوڑوں کی ٹانگیں بھیگتی تھیں۔ایسے میں ہلاکوشہرمیں داخل ہواتوایک عورت نے جسے اپنی آہ سحرگاہی اوربددعاپریقین تھا،اس نے ہلاکوکے گھوڑے کی لگام تھام کرکہا:میں تمہیں بددعادیتی ہوں
کہ اللہ تم پراپنا عذاب نازل کرے۔ہلا کومسکرایااوربولا اے عورت اللہ کاعذاب تومیں خودہوں جوتم لوگوں پرنازل ہواہے۔تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ معتصم کوآہ سحرگاہی کے تیروں سے ہلاک کرنے والے اپنے نہتے ہاتھوں کوتلواراورسینوں کوڈھال بنالیتے توہلاکوکواس عورت کی بددعاپرہنسنے کاموقع نہ ملتا۔ قومیں جب ایسی طاقتورفوج،اس طرح کی روشن خیالی اورلوگوں کے دکھوں اورمصیبتوں سے بے نیازمضبوط مرکزکی خواہش پرصرف بددعااورآہ سحرگاہی تک محدود ہوجاتی ہیں توپھرہلاکوکاقول سچ ثابت ہوتاہے اوراس کی گواہی سید الانبیاکی مسند احمد کی یہ حدیث دیتی ہے:اللہ عام لوگوں پرخاص لوگوں کے عمل کے باعث اس وقت تک عذاب نہیں کرتاجب تک ان میں یہ عیب پیدا نہ ہوجائے کہ اپنے سامنے برے اعمال ہوتے دیکھیں اورانہیں روکنے کی قدرت رکھتے ہوں مگرنہ روکیں۔ جب وہ ایسا کرنے لگتے ہیں تواللہ عام اورخاص سب پرعذاب نازل کرتاہے۔
انتخابات کی آمدآمدہے اوراب یہ قوم نے فیصلہ کرناہے کہ وہ بندوں کوبندوں کی غلامی سے نکال کراللہ کی غلامی میں آناپسند کرتے ہیں یاکسی ہلاکوخان کے منتظرہیں۔

Comments are closed.