منی پور پر امریکہ ، برطانیہ اور سپریم کورٹ کی بے چینی
ڈاکٹر سلیم خان
وزیر اعظم مودی نے اپنے پاکھنڈی بیان میں فرمایا ’’منی پور میں جو کچھ ہوا ہے وہ انتہائی شرمناک ہے۔ یہ پورے ملک کو شرمندہ کرنے جیسا ہے۔ میں تمام وزرائے اعلیٰ سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی ریاست کی ماؤں اور بیٹیوں کی حفاظت اور نظم و نسق کی صورت حال کو مضبوط بنانے کے لیے ہمیشہ چوکس رہیں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ منی پور کے واقعہ میں قصورواروں کو سخت ترین سزا ملے گی۔ خواتین کے ساتھ جو ہوا وہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے درست نہیں ہے‘‘ وزیر اعظم کو یہ بتانا چاہیے کہ ملک کو تہذیب باختہ کرنے کے لیے کون سے عوامل ذمہ دار ہیں ؟ یہ ان کا اپنا لگایا ہوا پودا ہے جس کی شاخیں گجرات سے منی پور تک پھیل کر زہریلے پھل دے رہی ہیں ۔ گجرات کا فساد کوئی بھول چوک نہیں بلکہ ایک سازش کے ساتھ رچی جانے والی سیاست تھی۔ ا س کے طفیل آج بھی بلقیس بانو جیسی خواتین پر ظلم و ستم کرنے والوں کی تعریف و توصیف کی جاتی ہے۔ درندہ صفت ظالموں کی سزا میں تخفیف کرکے اس کا جشن منایا جاتا ہے۔ وزیر داخلہ اس کو سبق سکھانے کا نام دے کر ووٹ مانگتے ہیں ۔ وطن عزیز میں خواتین پر ظلم و ستم کے لیے یہی تہذیب و تمدن اور منو وادی تعلیمات ذمہ دار ہیں ۔
مودی سرکار میں ذکیہ جعفری کو انصاف دلانے کی جدوجہد کرنے والی تیستا سیتلواد کو ہراساں کیا جاتا ہے ۔ اسی سیاست کے تحت پہلوان خواتین کے ساتھ بدسلوکی کرنے والے برج بھوشن کو سرکاری تحفظ سے نوازہ جاتا ہے اور پلک جھپکتے ضمانت مل جاتی ہے۔ ہاتھرس میں عصمت دری کا شکار ہونے والی دلت کی سچائی عوام تک پہنچانے والے صدیق کپن کو پابندِ سلاسل کردیا جاتا ہے۔ بابا باگیشور نام کابدمعاش بھری محفل میں اعلان کرتا ہے کہ جو عورت منگل سوتر پہنتی ہے یا بندی لگاتی ہے وہ رو ریزرو(مختص) پلاٹ ہے اور جو نہیں لگاتی وہ اوپن (کھلا) پلاٹ ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوتا ہے کہ اوپن پلاٹ پر لوگ غاصبانہ قبضہ کرلیتے ہیں یا وہاں کچرا ڈالتے۔ ہندو خواتین کے لیے یہ بات باگیشور نے ان کی موجودگی میں کہی اور تالیاں بجا کر اس کی پذیرائی کی گئی۔ اس پر نہ تو انتظامیہ نے اورنہ خواتین کے کمیشن نے اعتراض کیا ، خواتین اور اطفال کی وزیر سمرتی ایرانی بھی اس پر کچھ نہیں بولیں کیونکہ باگیشور سے سیاسی فائدہ مقصود ہے۔ ایسے میں منی پور جیسے شرمناک واقعات وقوع پذیر نہیں ہوں گے تو کیا ہوگا؟مسلم خواتین کے لیے مگر مچھ کے آنسو بہانے والی مودی سرکار کا خود ہندو رائے دہندگان عورتوں کا توہین برداشت کرلینا منافقت کی انتہا ہے۔
منی پور کے معاملے میں اول تو موجودہ سرکار نے کمال بے حسی کا مظاہرہ کیا اور جب یوروپین یونین نے اس پر تشویش کا اظہار کیا تو وزارت خارجہ آگ بگولا ہوگیا۔ اس کو ملک کے داخلی معاملہ میں مداخلت کہہ کر مسترد کردیا گیا۔ وزیراعظم جی ٹوینٹی کے حوالے سے بار بار ’وسودھیو کٹمبکم‘ کا حوالہ دیتے ہیں اور ملک بھر میں یہ نعرہ لکھا ہوا ہے۔ پوری انسانیت اگر ایک کنبہ ہے تو یہاں رہنے والے افراد خانہ کی تکلیف پر ساری دنیا کا تڑپ جانا داخلی معاملات میں دخل اندازی کیونکر ہوگیا؟ یوروپی یونین کے وزراء سے کشمیر کا دورہ کرواکر ان کے ذریعہ اپنی پیٹھ تھپتھپانا مداخلت نہیں تھا مگر منی پور میں ان کی جانب سے مخالفت سے ملک کی خود مختاری میں مداخلت کا اعتراض منافقت نہیں تو کیا ہے؟ یوروپین یونین نے تو برسلز میں یہ کیا مگر اب تو امریکی سفیر ایرک گارسیٹی نے بھی منی پور میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے پر تبصرہ کردیا ۔بارسیٹی نے کہا کہ ان کی ہمدردیاں ہندوستان میں رہنے والے لوگوں کے ساتھ ہیں۔وہ بولے جب دنیا میں کہیں بھی کوئی انسانی المیہ ہوتا ہے تو ہمیں دکھ ہوتا ہے۔ یہ ہندوستان کا اندرونی مسئلہ ہے پھر بھی ہم بحیثیت انسان اس طرح کے درد اور تکلیف کے تئیں اپنی تعزیت کا اظہار کر رہے ہیں۔
منی پور کے معاملے میں گوں ناگوں وجوہات کی بنیاد پر امریکہ نے تو بہت احتیاط سے کام لیا مگر رشی سونک کے برطانیہ نےمودی سرکار کو بڑے بڑے جھٹکے دئیے۔ اس سے ایک ہندو کے وزیر اعظم بن جانے پر جو جشن منایا گیا تھا اس پر اوس پڑ گئی ۔ برطانیہ کی پارلیمنٹ میں یہ معاملہ بڑے شدو مد کے ساتھ اٹھایا گیا۔ برطانیہ کی خصوصی سفیربرائے مذہبی آزادی اور رکن پارلیمان فیونا بروس نے تو بی بی سی پر بھی منی پور تشدد کی صحیح رپورٹنگ نہ کرنے کا الزام لگادیا۔ بروس نے ایوانِ زیریں کے اندر کہا منی پور میں سو سے زیادہ لوگ مارے گئے ، پچاس ہزار سے زیادہ لوگوں کو گھر چھوڑنا پڑا۔ کئی سو چرچ جلائے گئے اور ان سے منسلک اسکولوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب منصوبہ بند طریقہ پر ہوا اور اس کے پیچھے مذہب بڑا فیکٹر ہے۔ بروس نے انگلینڈ کے چرچ سے پوچھا کہ منی پور کے لوگ گہار لگا رہے ہیں ایسے میں وہ ان کی جانب توجہ دینے کے لیے کیا کرسکتا ہے؟ انڈریو سیلوئس نامی رکن پارلیمان نے بروس کی تعریف میں کہا کہ انہوں اس معاملے کو اٹھا کر بڑا کام کیا ہے۔ انہوں بی بی سی کو بہتر خبر رسانی کی ترغیب دی۔ انڈریو نے کینٹر بیری کے آرچبشپ سے امید جتائی کہ وہ اس جانب توجہ دیں گے ۔ مودی جی میں اگر ہمت ہے تو برطانیہ میں اپنے ہم مذہب اور ہم منصب سے کہیں کہ ہمارے داخلی معاملات میں مداخلت کو روکیں ۔
منی پور کے اس ہولناک واقعہ پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے حکومت کو ضروری کارروائی کرنے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ نے کہاکہ ہم حکومت کو تھوڑا وقت دیں گے اور پھر خود قدم اٹھائیں گے۔ کسی بھی سرکار اور انتظامیہ کے لیے اس سے سخت تنقید بلکہ توہین کوئی اور نہیں ہوسکتی۔ سی جے آئی ڈی وائی چندرچوڑ نے اس واقعہ کی سنگینی کو بیان کرتے ہوئے اسے روح کو جھنجھوڑ دینے والا بتایا۔ وہ بولے جمہوری ملک میں اس طرح کے واقعات کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ریاستی حکومت کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت سے بھی کہا کہ وہ اس معاملے میں اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں عدالت کو مطلع کرے۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ وہ منی پور سے آنے والی خواتین کی تصاویر اور ویڈیو دیکھ کر بہت پریشان ہیں۔ یہ ویڈیو دل دہلا دینے والی ہے۔ وزیر اعظم اور سی جے آئی کے بیان کا موازنہ ان کی حساسیت کے فرق کو واضح کرتا ہے۔
جسٹس چندر چوڑ اس امید کا اظہار کیا کہ ریاستی حکومت اس پورے واقعہ کا فوری نوٹس لے گی کیونکہ انہیں میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر اس واقعہ کی اطلاع ملی ہے۔سی جی آئی نے یاد دلایا کہ پرانے وقت میں جس طرح خواتین کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، اب ایسا نہیں ہوگا۔ یہ آئینی حقوق کی خلاف ورزی کا معاملہ ہے۔ اس کے لیے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ آئندہ ایسے واقعات بند ہونے چاہئیں۔ ا س مقدمہ کی اگلی سماعت 28 جولائی کو ہوگی اور اس میں وزارت داخلہ اور وزیر اعلیٰ سے سوال ہوگا۔ کوئی خوددار سرکار ہوتی تو وزیر داخلہ کا استعفیٰ لے لیتی مگر سنگھ پریوار سے اس کی توقع کرنا ہی فضول ہے۔ ان کا تو فلسفۂ حیات ہے ’جان جائے مگر کرسی نہ جائے‘۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے نوسالوں میں کوئی استعفیٰ نہیں دیتا ۔ سیاسی ضرورتوں کے تحت جن وزرائے اعلیٰ یا مرکز وزیروں کی چھٹنی کی جاتی ہے تو بات اور ہے۔
سپریم کورٹ کےفیصلےاور سرکار ی اقدامات کا اصلی کریڈٹ تو ویڈیو بنانے والے اور اسے نشر کرنے والے ٹوئٹر کے سر جاتا ہے ۔ مودی جی کو چونکہ مظلوم کے بجائے ملک کی بدنامی کی فکر ستاتی ہے اس لیے وہ ظالموں سے زیادہ ویڈیو کی تشہیر کرنے والوں سے ناراض ہیں۔ ویڈیو کے حوالے سے حکومت سخت اقدامات کر رہی ہے۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ سرکار اس ویڈیو سے متعلق ٹوئٹر پر کارروائی کر سکتی ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ جس طرح سے اس ویڈیو کو پھیلانے کی اجازت دی گئی وہ قوانین کے خلاف ہے۔ اطلاعات کے مطابق ٹوئٹر کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری ہوچکے ہیں اور اس نے خوف کے مارے ذرائع ابلاغ کو روکنا شروع کردیا ۔وزارت آئی ٹی نے بھی اس ویڈیو کو مزید کسی بھی پلیٹ فارم پر نشر ہونے سے روکنے کے لیے دباو بنانا شروع کردیا ۔ ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو حکم دیا گیا کہ منی پور میں خواتین کی برہنہ پریڈ کی اس ویڈیو کوبالکل شیئر نہ کیا جائے۔ ٹوئٹر کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے اس کی سرزنش کرنا الٹی منطق ہے لیکن شتر مرغ کی مانند اپنا منہ ریت چھپا لینے سے حقائق نہیں بدلتے ۔ اس کوتاہی کی مودی سرکار کو بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔ گجرات کا داغ جس طرح وزیر اعظم کے دامن پر ہے اسی طرح منی پور کا جِن امیت شاہ کا پیچھا نہیں چھوڑے گا ۔ ویسے یہ ان کا ذاتی معاملہ لیکن اگر ملک کا ان سے پیچھا چھوٹ جائے تو عوام چین کا سانس لیں گے۔
Comments are closed.