بھوپال کی ۲۵۱ سالہ اُردو صحافت کا اجمالی جائزہ
عارف عزیز(بھوپال)
وسطِ ہند کی جغرافیائی اہمیت کی حامل نوابی ریاست کے دارالحکومت بھوپال میں اردو صحافت کا آغاز ۱۷۸۱ء میں ہفت روزہ ’عمدۃ اُلاخبار‘سے ہوا، تب سے آج تک اِس شہر سے ۱۸۲ اُردو اخبارات و رسائل منظر عام پر آئے ہیں، جن میں ۰۲ روز نامے، ۳ سہہ روزہ ،۵۵۱ ہفت روزہ، ایک دس روزہ، ۰۲ پندرہ روزہ ، ۶۶ ماہنامے، ایک ۴ ماہی ، چھ ۶ ماہی، ۸ سالانہ، اخبار و رسائل شامل ہیں۔
مذکورہ اخبارات ورسائل میں ۵۳۹۱ء سے شائع ہونے والا سب سے قدیم اور معتبر اخبار روزنامہ ’ندیم‘ ہے، جس کا ہندوستان بالخصوص وسط ہند کے اہم روزناموں میں شمار ہوتا ہے، ’ندیم‘ کے ذریعہ صحافیوں کی بڑی تعداد کو ملک گیر شہرت حاصل ہوئی جن میں حکیم سید قمر الحسن، مولانا محمد مسلم (سابق ایڈیٹر دعوت دہلی)، اشتیاق عارف( ایڈیٹر قائد لکھنؤ)، اے آر رُشدی، حسن الزماں اختر، قمراشفاق کے نام سرِ فہرست ہیں۔ اِس اخبار میں کام کرنے والے دیگر صحافیوں میں سید محمود الحسینی، طالب قریشی، حامد حسن شاد، راقم (عارف عزیز)، خالدہ بلگرامی، انعام لودھی، اقبال مسعود، ظفر صہبائی،سلطانہ حجاب کے نام قابل ذکر ہیں، ندیم میں عصری مسائل پر تحریر راقم (عارف عزیز) کا یومیہ کالم ملک اور بیرون ملک کے دوسرے اخبارات میں مسلسل نقل ہورہا ہے، اِسی طرح اخبار میں طنزیہ و مزاحیہ کالم لکھ کر اپنی شناخت قائم کرنے والوں میں نسیم انصاری اور پروفیسر ضمیر الدین کے نام لئے جاسکتے ہیں، یہ اخبار ۶۷۹۱ء تک لیتھوپر شائع ہوا، اِس کے بعدسے روٹری آفسیٹ پر طبع ہورہا ہے۔ اِس کے سنڈے ایڈیشن اور کئی خصوصی نمبر بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔
’رہبر وطن ‘ بھوپا ل کا پہلا روزنامہ ہے ، جسے ڈاکٹر دوست محمد خاں نے مارچ ۸۳۹۱ء میں نکالا لیکن سرکاری عتاب کا شکار ہوکر چند ما ہ بعد بند ہوگیا، دوسرا روزنامہ ’ندیم‘ ہے جس کا اُپر ذکر ہوا ،یہ ہفت روزہ نکلنے کے بعداگست ۸۳۹۱ میں روزنامہ ہوگیا ۔ تیسرا روزہ نامہ ’الحمراء‘ ڈاکٹر خلیل بدر کی ادارت میں اگست ۹۴۹۱ء میںنکلا لیکن زیادہ عرصہ جاری نہ رہا ، چوتھا روزنامہ ’پرچمِ نو‘ ایڈیٹر محمود الحسینی بھی دسمبر ۹۴۹۱ء میں شائع ہوا اور جلد ہی اِس کی اشاعت مسدود ہوگئی ، ’افکار ‘ ضرور وہ روزنامہ ہے ، جو اے آر رُشد اور اشتیاق عارف کی کاوشوں سے فروری ۱۵۹۱ء سے ۶۷۹۱ء تک شائع ہوتا رہا ، اِس روزنامے کا دوسرا دور صغیر بیدار اور عیسیٰ صدیقی کی ادارت میں اگست ۶۷۹۱ء سے شروع ہوا، تیسرے دور میں اشتیاق عارف ، قمر جمالی ، مقصود عمرانی وغیرہ نے اور چوتھے دور میں عارف عزیز نے ادارتی ذمہ داریاں نبھائیں ۔ ۷۸۹۱ء میں اُردو افکار مستقل طور پر بند ہوگیا ۔ ’افکار‘ بھی بھوپال کے اہم روزناموں میں شمار ہونے کے لائق ہے کیونکہ یہ اخبار بیس سال تک مسلسل شائع ہوکر ۶۷۹۱ء میں بند ہوا تو تین ماہ بعد ۶۷۹۱ء میں ہی نئے پرنٹر پبلشر کی نگرانی میں صبح کے اخبار کی حیثیت سے نکلنے لگا، یہ صبح شائع ہونے والا بھوپال کا دوسرا اخبار تھا، اِس سے پہلے ۶۶۹۱ء میں ’الحمرا‘ بھی صبح کے روزنامہ کی حیثیت سے شائع ہوا ۔ ’افکار‘ کی پالیسی آغازِ اشاعت سے ترقی پسند یعنی بائیں بازو کی طرف مائل رہی، آخر میں لیتھو کی طباعت کے بجائے یہ آفیسٹ پر شائع ہونے لگا۔ اردو روزنامہ ’افکار‘ بند ہوا تو اسی نام سے یہ اُردو زبان لیکن دیوناگری رسم خط میں شائع ہونے لگا تاہم اپنامعیار قائم نہیں رکھ سکا اور ہندی کے مقامی اخبارات کے ہجوم میں اِس کی شناخت کھو گئی۔
اِس عرصہ میں مزید چھ روز نامے نکلے، ’پیام ‘ ایڈیٹر محمود الحسینی جولائی ۱۵۹۱ء ، ’ترجمانِ نو‘ ، ایڈیٹر مقصود عرفان ستمبر ۱۵۹۱ء ، ’نیا بھوپال‘ ایڈیٹر ودود صدیقی اپریل ۴۵۹۱ء، ’خورشید ‘ ایڈیٹر خورشید احمد ۔حامد حسن شاد اگست ۴۵۹۱ ، ’نیا سماج‘ایڈیٹر،گوپی کرشن شوق ۔ نادم ستیا پوری اپریل ۵۵۹۱ء ، ’الحمرا‘ (دوبارہ ) ایڈیٹر محمود الحسینی نومبر ۶۶۹۱ء ، تاہم مذکورہ اخبارات میں استحکام صرف ’’الحمراء‘ کو ملا۔
بھوپال کی اردو صحافت میں جس اخبار کی سب سے زیادہ پذیرائی ہوئی اور عوام و خواص میں اُسے مقبولیت ملی، وہ ہندی بھاسکر اخباری گروپ کا اُردو روزنامہ ’آفتابِ جدید‘ہے، جو تجربہ کار صحافی اشتیاق عارف کی ادارت میں ۸۷۹۱ء میں طلوع ہوا اور ۶۸۹۱ء تک بڑی شان سے نکلتا رہا، مالکان سے اختلاف پیدا ہونے پر کوئی چھ ماہ بعد اشتیاق عارف مستعفی ہوگئے تو سید محمود الحسینی نے اِس کی ادارت سنبھال لی، ایک ماہ بعد اُن کے اچانک انتقال پر بظاہر ایڈیٹر شپ کا قرعہ فال غضنفر علی خاں کے نام نکلا، لیکن عملاً یہ ذمہ داری تین ماہ مولانا شرقی خالدی، تین سال مفتی جنید صدیقی، اور کچھ عرصہ مقصود عمرانی انجام دیتے رہے۔ آخر میں اردو کے پرانے صحافی اویناش چند رائے جو دہلی کے آریہ سماجی اردو اخبارات’تیج‘ اور ’ملاپ ‘میں کام کا تجربہ رکھتے تھے، اخبار کی پالیسی کو کنٹرول کرنے کے لئے ایڈمنسٹریٹر بنائے گئے لیکن ناکام رہے تو اِس اخبار کو اپنے عین عروج کے زمانے میں آٹھ سال تک شائع ہونے کے بعد۶۸۹۱ء میں اس لئے بند کر دیا گیا کہ مالکان اور ادارتی عملہ میںاخبار کی پالیسی کو لے کر اختلاف ہوگیا تھا۔ اگرچہ اِس فیصلہ پر بعد میں نظر ثانی کی گئی لیکن اُس وقت تک دیر ہوچکی تھی۔ ’ندیم‘اور ’افکار‘نے اخبار کی مارکیٹ پر قبضہ کر لیاتھا۔ لہٰذا ’آفتاب جدید‘کا سنہرا دور واپس نہ آسکا۔ چند ماہ بعد اخبار دوبارہ شروع ہوا تو مقصود عمرانی، دیوی سرن، اقبال مسعود اور ظفر صہبائی نے یکے بعد دیگرے ایڈیٹر کے فرائض انجام دئے لیکن اخبار کا معیار قائم نہیں رہ سکا اور آخر کار ۸۹۹۱ء میں یہ قطعی بند ہوگیا۔ ’آفتاب جدید‘ کا اوّل دور بھوپال کی اردو صحافت کا سنہرا عہد قرار دیا جاسکتا ہے، جس میں کتابت و طباعت کا معیار ہی بہتر نہیں ہوا، مواد اور پیش کش میں بھی کامیاب تجربے کئے گئے، خاص طور پر اخبار کے سنڈے ایڈیشن کو جو ۸ صفحات پر مشتمل تھا کافی سراہا گیا۔ کیونکہ اِ س میں ادب، سیاست، کھیل، فلم، خواتین اور بچوں کے لئے ہر ہفتہ معیاری مضامین پیش کئے جاتے تھے۔ پُرانے صحافی قمر جمالی اِسے مرتب کرتے تھے۔ ’آفتاب جدید‘ نے اردو صحافت کو کئی ہونہار صحافی اور تازہ دم قلم کار فراہم کئے، جن میں اسپورٹس رائٹر انعام لودھی، ناقد و ادیب ڈاکٹر محمد نعمان، اقبال مسعود، مسلم سلیم، عمر فاروق ندوی، ناصر کمال کے علاوہ راقم (عارف عزیز)اور اردو کی اوّلین ورکنگ جرنلسٹ خاتون خالدہ بلگرامی کے نام قابلِ ذکر ہیں، معروف طنز ومزاح نگار مصطفی تاج کی مقبولیت بھی اِسی اخبار کی دین ہے ،اِس کے عملہ میں مقصود اصغر، حامد حسن شاد، مظفر رئیس، متین شہید اور شوکت رموزی جیسے تجربہ کار صحافی شامل تھے، نئے اور پرانے صحافیوں کی اِس ٹیم کے اشتراک کا نتیجہ ہے کہ بھوپال کی اردو صحافت ’آفتاب جدید‘ کی دوسری مثال پیش کرنے سے قاصر رہی۔
بھوپال کا پانچواں صوری اور معنوی خوبیوں کا حامل روزنامہ’بھوپال ٹائمز‘ ۸۸۹۱ء میں روزہ نامے کی حیثیت سے منظر عام پر آیا، اس وقت تک کمپوٹر سے کمپوزنگ اور لے آؤٹ کا کوئی تصور نہیں تھا لیکن معروف خطاط ظفر آرٹسٹ نے اپنی قلمی مہارت سے اخبار کے صفحہ اول کو اتنا دیدہ زیب بنادیا تھاجو اردو اخبارات کے لئے ایک نادر مثال بنا، لہٰذا چھ سات ماہ تک یہ کامیابی کے ساتھ شائع ہوکر ملکیت کے تنازعہ کے باعث بند ہوگیا لیکن بھوپال کی صحافت میں اپنی گہری چھاپ چھوڑ گیا، اِس کے چیف ایڈیٹر مولانا حبیب ریحان ندوی ازہری، ایڈیٹر رضوان خاں، جوائنٹ ایڈیٹر اور اداریہ نگار کی ذمہ داری راقم (عارف عزیز) کے سپرد تھی۔
ڈاکٹر ماجد حسین کی زیر ادارت ۳۸۹۱ء میں بھوپال سے شروع ہونے والا ہفت روزہ ’اردو ایکشن‘ بارہ سال بعد ۵۹۹۱ء میں روزنامہ ہوگیا، اِس اخبار میں رضا رام پوری اور حامد حسن شاد کے بعد مشاہد سعیدخاں نے دس سال تک جوائنٹ ایڈیٹر کی خدمات انجام دیں، اخبار کا ضخیم’بھوپال نمبر‘ بھی شائع ہوا، روزنامہ کی اشاعت کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اُردو ایکشن کی طرح عارف علی انصاری نے ’حق وانصاف ‘ کو ۷۹۹۱ء میں ہفت روزہ کی حیثیت سے شروع کیا تھا جو چند ماہ بعد روز نامہ ہوگیا،لیکن یہ بھی جاری نہیں رہ سکا،جاوید یزدانی نے جنہیں ہندی اور اردو کے اخبارات نکالنے کا بڑا ملکہ ہے پُرا نے اخبار ’الحمراء‘ کو تیسری مرتبہ ہفت روزہ کی حیثیت سے شروع کیا لیکن وہ بھی جلدی بند ہوگیا۔ اِن دونوں بھوپال سے اُردو کے پانچ روزنامے شائع ہورہے ہیں ’ندیم‘ایڈیٹر عارف عزیز ، ’اردو ایکشن‘ ایڈیٹر جاوید ماجد، ’اخبار مشرق‘ ایڈیٹر سید وسیم الحق(کلکتہ) ، ’یلغار ٹائمز‘ ایڈیٹر عارف خان، ’نیا نظریہ ‘ ایڈیٹر ڈاکٹر ظفر محمود ’اخبار مشرق‘ بنیادی طور پر کلکتہ کا روز نامہ ہے جو ملک کے ۶ شہروں سے بیک وقت نکل رہا ہے۔ اور اِس کا ضمنی اداریہ ۲۱ سال سے راقم (عارف عزیز )قلم بند کررہا ہے۔
اخترشہنشاہی مطبوعہ ۸۸۸۱ء کے مطابق بھوپال کا پہلا ہفت روزہ اخبار ’آفتابِ قدرت‘ہے، جو عبدالکریم انصاری نے نکالا، دوسرا ہفت روزہ ’صداقت‘ ۸۸۸۱ء میں ہی منشی عبدالکریم اوجؔ کی ادارت میں شائع ہوا اور نواب شاہ جہاں بیگم کے شوہر نواب صدیق حسن خاں کے خلاف لکھنے پر اخبار کو ضبط کرکے عبدالکریم کو ضلع بدرکردیا گیا تو ہوشنگ آباد جاکر اُنھوں نے دوسرا اخبار ’موجِ نربدا‘ نکال لیا اور سرکار پر اخبار کے ذریعہ حملے جاری رکھے۔ ۹۱ویں صدی کے اِس آخر میں بھوپال سے دس اخبار اور شائع ہوئے لیکن تاریخی اہمیت کا حامل کوئی نہ تھا، یہاں تک کہ ۰۲ویں صدی کا آغاز ہوگیا جو اپنے دامن میں کئی ہنگامے اور انقلاب لے کر آئی، ۰۲ویں صدی کے اِس نصف اوّل میں بھوپال کے اُردو صحافیوں کو دارورسن کے مراحل سے بھی دوچار ہونا پڑا، یوسف قیصر پہلے صحافی تھے جو نواب سلطان جہاں کی تعلیمی پالیسی کے خلاف لکھنے پر ضلع بدر کیے گئے اور علامہ شبلی نعمانی کی سفارش پر اُنھیں معافی ملی، اِس سے پہلے یوسف قیصر کی اِدارت میں ۹۱۹۱ء کے دوران خواتین کا ادبی رسالہ’الحجاب‘ بھی نکل چکا تھا، جس کی سرپرست سلطان جہاں بیگم خود تھیں، یوسف قیصر بڑی صلاحیتوں کے مالک ادیب و صحافی تھے، اُن کی ادارت میں ۲۱۹۱ء میں ’مالوہ ریویو‘اور ۳۱۹۱ء میں ’ظل السلطان‘بھی شائع ہوئے ، ایک اور ہفت روزہ ’آواز‘۴۳۹۱ء میں شریف عزمی اور کبیر قریشی نے نکالا جو بھوپال کی پہلی سیکولر سیاسی جماعت انجمن رعایائے بھوپال کا ترجمان تھا، اِس کے ایڈیٹروں کو بھی ایک خبر کی اشاعت پر گرفتار کرکے اُن پر مقدمہ چلایا گیا تھا، اِسی طرح انجمن خدامِ وطن کے اخبار ’صبحِ وطن‘ کے ایڈیٹر خان شاکر علی خان، احمد مکی اور دیگر ساتھیوں کو ایک کارٹون کی اشاعت پر توہینِ عدالت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تو اِس کے خلاف بھوپال کی تاریخ میں پہلا شدید عوامی ردّعمل سامنے آیا۔
۰۲ویں صدی کے آخر میں چند اخبار مزید شائع ہوئے جو پریس ایکٹ کا شکار ہوکر بند ہوئے، اِن میں ہفت روزہ ’صبح وطن ثانی‘ ایڈیٹر شاکر علی خاں اور قدوس صہبائی، ہفت روزہ ’آزار‘ ایڈیٹر لطف اللہ خاں نظمی اور جوہر قریشی، ہفت روزہ ’منصف‘ایڈیٹر شیام بہاری اگروال، ہفت روزہ ’بھوپال ٹائمز‘ ایڈیٹر قاضی شریف الدین، ہفت روزہ ’احتجاج‘ایڈیٹر مولانا طرزی مشرقی، ہفت روزہ ’ترجمان‘ ایڈیٹر ایس ایم کامل، احمد علی خاں اور جوہر قریشی، ہفت روزہ ’کمال‘ ایڈیٹر اصغر مالوی اور احمد علی خاں، ہفت روزہ ’تازیانہ‘ ایڈیٹر انوار الحسن، ہفت روزہ’نیا بھوپال‘ ایڈیٹر جوہر قریشی، جی ایم نغمی اور پریم شریواستو اور ہفت روزہ’ الحمراء‘ ایڈیٹر خلیل بدر شامل ہیں۔
اِسی طرح مشہور صحافی ’مدینہ‘ بجنور کے ایڈیٹر ابوسعیدبزمی پرجا منڈل کے اپنے ساتھیوں کی گرفتاری کے خبر ملنے پر ۰۴۹۱ء میں بھوپال آئے تو حکومت کے خلاف دو پمفلٹ قلم بند کرنے کے جرم میں اُنھیں ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ کے تحت گرفتار کرلیا گیا اور قیدِسخت کی سزا ہوئی،پہلے سے گرفتار اُن کے ساتھیوں میں بھی تقریباً سبھی اُردو صحافت سے گہرا تعلق رکھتے تھے، اِس دور میں جہاں بھوپال کی نوابی حکومت کے خلاف اخبارات نکالے گئے، وہیں قوم پرست تحریکات میں سرگرم رہنماؤں نے ایک دوسرے کو زیر کرنے کے لیے بھی اخبارات کا سہارا لیا، اِس کے بعد ۷۴۹۱ء سے وہ دور شروع ہوا جو اُردو اخبارات کے لیے مزید مسائل ومشکلات کا باعث بنا، خاص طور پر نوابی ریاست کے خاتمہ کے بعد چیف کمشنری راج میں ظلم و زیادتی پہلے سے زیادہ بڑھ گئی لیکن اُردو کے صحافی نہایت ہمت کے ساتھ اُن کا مقابلہ کرتے رہے۔
بھوپال سے شائع ہونے والے ادبی رسائل میں ڈاکٹر سیفی سرونجی کا سہہ ماہی’انتساب‘ (سرونج) ۰۳ سال سے اور ڈاکٹر رضیہ حامد کا سہ ماہی ’فکر و آگہی‘‘بھی تقریباً اتنے ہی عرصہ سے شائع ہو رہے ہیں۔اور اِن دونوں رسائل کو پیش رو کی حیثیت حاصل ہے، جن کے کئی وقیع خاص نمبر بالخصوص ’بھوپال نمبر‘ مقبولیت حاصل کر چکے ہیں ، اِس کے علاوہ مدھیہ پردیش اردو اکادیمی کا سہ ماہی ’تمثیل‘ نعیم کوثر کا پندرہ روزہ‘ صدائے اردو‘ بند ہوچکے ہیں جاوید یزدانی کا ماہنامہ ’اردو ہلچل ‘ ۲۱ سال تک نکلتا رہا اس کے آخری ۴۲ شمارے عارف عزیز نے ایڈٹ کئے ، اِس میں شائع ہونے والے اہل قلم کے انٹر ویو’ ملاقاتیں‘ کتابی صورت میں منظر عام پر آئے ہیں ۔
علاوہ ازیں ’پاسبان‘ (لطف اللہ نظمی، جوہر قریشی)، ’آرٹ اینڈ کلچر‘ اور ’شعلۂ حرف‘ (ایم عرفان)، ’شہپر‘ (شاہد اختر)، ’مجلہ سیفیہ‘ ، (پروفیسر عبدالقوی دسنوی)، ’نوائے سیفیہ‘ (آفاق حسین صدیقی)، ’آذر‘ (شفاؔ گوالیاری۔ افسر صہبائی)، ’مزاج‘(عیسیٰ صدیقی)، ’تشکیل‘ (خان باسط)، ’شناخت‘ (ظفر صہبائی اور اقبال مسعود)
مذکورہ رسائل کے علاوہ بھوپال سے ’پرچمِ نو۹۴۹۱ء ، ’پیام‘ ۱۵۹۱ء، ’حقیقت‘ ۱۵۹۱ء، ’خورشید‘۴۵۹۱ء، ’نیا بھوپال‘۴۵۹۱ء بھی شائع ہوئے لیکن ’نیا بھوپال‘ کو ہی کچھ استحکام ملا جیسا کہ اُوپر ذکر ہو ا اسے معروف طنزومزاح نگار جوہر قریشی نے نکالا تھا اور سیاسی حلقوں میں اِس کی بڑی دھاک تھی ۔
جہاں تک بھوپال کے ہفت روزہ اخبارات کا تعلق ہے تو آزادی کے بعد کئی اخبارات نکلے جن میں ’نئی راہ‘، ’ترجمان‘، ’نیا سماج‘، ’راہی‘، ’نیا دور‘، ’بھوپال پنچ‘، ’ایاز‘، ’رفتار‘، ’الجبل‘ قابل ذکر ہیں۔ مذکورہ اخبارات میں ’بھوپال پنچ‘ ’اودھ پنچ‘ لکھنؤ کی طرح طنزومزاح کے لیے مخصوص تھا، اِسے معروف طنزومزاح نگار عبدالاحد خاں تخلصؔ بھوپالی نے نکالا اور مقبول بھی ہوا لیکن اخبار کی زندگی نے وفا نہیں کی، تین سال قہقہے اور مسکراہٹیں بکھیرکر 1993ء میں بند ہوگیا، دوسرا ’ایاز‘ عارف بیگ نے ۲۷۹۱ء میں شروع کیا، ایمرجینسی کے بعد اشفاق مشہدی ندوی اِسے ایڈٹ کرتے رہے اور 28سال شائع ہوا، اس کے دس سال مکمل ہونے پر تقریبات بھی ہوئیں اور ’بھو پال نمبر ‘شائع ہوا ’ایاز‘ ۰۰۰۲ ء میں بند ہوگیا۔ ’رفتار‘ محفوظ منظر کی اِدارت میں نکلا، اور ۴۸۹۱ء تک جاری رہا۔
مذکورہ ادبی رسائل کے علاوہ بچوں کے رسائل کی اشاعت مدھیہ پردیش میں صرف بھوپال سے ہوئی، جن میں’ طفلستان‘ پہلا بچوں کا رسالہ ہے جو عباس انصاری نے 1947ء میں نکالا، بعد میں ’بچوں کا پاکستان‘اور ’معصوم دنیا‘ (گوہر جلالی)، ’بچوں کی دنیا‘ (جاوید محمود)، ’جگنو‘‘ (نعیم کوثر) بھی شائع ہوئے، رسالہ’ بچوں کا پاکستان‘ کو اُس کے نام پر اعترض کر کے حکومت نے بند کر دیا ۔
مذہبی رسائل میں دارالعلوم تاج المساجد کا ترجمان پندرہ روزہ ’نشانِ منزل‘ ۹۴۹۱ میں نکلا اور تیس برس تک شائع ہوتا رہا ، مذہبی ڈائجسٹ ’جذب و سلوک‘ کے ۴۸۹۱ء میں اشفاق مشہید ندوی نے کچھ شمارے نکالے یہ جاری نہیں رہ سکا ،جامعہ اسلامیہ عربیہ ترجمہ والی مسجد کا ترجمان ماہنامہ ’دینِ مبین‘ ۵۸۹۱ء میںاور جامعہ حسینیہ خیرالعلوم کا ترجمان’دعوت خیر‘ ۹۹۹۱ء میں شائع ہوئے اوردونوںنکل رہے ہیں۔ دیگر اخبارات و رسائل میں ہفت روزہ ’آبِ حیات‘، ’رخسارِ ہند‘، ’بابِ ادب‘ ، ’سائبان،’ قاسمی ٹائمز‘،’ عصمت ِادب‘،’ صدرائے بھوپال‘ ،’ حسن ٹائمز ‘، بھوپال سے اور ’عالمی زبان‘ سرونج سے نکل رہے ہیں۔
بھوپال کی اُردو صحافت کے ۲۵۱سالہ اجمالی جائزہ سے واضح ہوتا ہے کہ یہ شہر اُردو صحافت کا شروع سے بڑا مرکز رہا ہے، جہاں سے آج بھی پانچ اُردو روزنامے، دو سہ ماہی، ایک پندرہ روزہ اور نئے پرانے آٹھ ہفت روزہ اخبارات و رسائل منظرِ عام پر آرہے ہیں، لیکن وقت سے ساتھ اُردو صحافت کے اثر وسوخ میں کمی آ گئی ہے اور نئی نسل کی اُردو تعلیم سے عدم توجہہ کے منفی اثرات صحافت پر مرتب ہورہے ہیں۔
بھوپال میں اردو صحافت کے اِس منظر نامہ سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں سے روزنامے اور ادبی رسائل کی آج بھی بڑی تعدد میں اشاعت ہورہی ہے لیکن کسی ہفتہ روزہ کو استحکام نہیں ملا، جدید ٹیکنالاجی بالخصوص کمپوٹر کمپوزنگ اور آفسیٹ پرنٹنگ نے اخبار نکالنے کے جوکھم بھرے کام کو اِتنا آسان کر دیا ہے کہ اُردو نہ جاننے والے غیر اردو بھاشی یا مبتدی بھی جدید وسائل کا استعمال کرکے اخبار و رسائل نکالنے میں کامیاب ہیں یہانتک کہ کئی اخبار صرف کمپوزیٹر ہی مرتب کر لیتے ہیں، لیکن ایسے اخبارات و رسائل صحافت کے معیار کو بلند کرنے کے بجائے صرف تجارتی مقاصد پورے کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ عام طور پر یہ اخبارات مارکیٹ میں نہیں آتے، نہ قارئین کی نظر سے گزرتے ہیں، اُنہیں سرکاری اشتہارات کے لئے صرف فائل کر دیا جاتا ہے۔ اس تجارتی ذہنیت کے مظاہر ہ سے نہ صرف حقداروں کا حق مارا جارہا ہے بلکہ اُردو صحافت کے معیار کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔
Mob. No. 9425673760
Email. arifazizbpl@rediffmail.com
Add. Arif Aziz 20 Ghati Bharbhuji Talayya Bhopal
Comments are closed.