اپوزیشن جماعتوں کے کامیاب اتحاد کو دیکھ کر گھبرائی بھاجپا

ڈاکٹر سیّد احمد قادری
رابطہ : 8969648799
بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی برسراقتدار حکومت کی بڑھتی جارحیت ، آمریت، عنانیت اور سفّاکیت کے خلاف ملک کی سیکولر سیاسی پارٹیوں کو کسی ایک پلیٹ فارم پرلانے کی گزشتہ کئی ماہ سے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی کوششیںآخر کار کامیاب رہیں۔ 23 ؍ جون کو پٹنہ او ر پھر17-18 جولائی 2023 ء کو کرناٹک کے بنگلور میں جس طرح اپوزیشن کا اتحاد و اتفاق دیکھنے کو ملا ، اس نے مودی حکومت کے ہوش اڑا دئے ہیں ۔ گزشتہ سال کے اگست ماہ میں جب نتیش کمار نے بی جے پی کی حکومت کو اگلے 2024 ء کے عام انتخاب میں اکھاڑ پھینکنے کے لئے کانگریس سمیت ملک کی مختلف علاقائی پارٹیوں کو یکجا کرنے کی کوشش کی تھی ، تویہ ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور لگ رہا تھا ۔ ا س لئے کہ ان علاقائی سیاسی جماعتوں کی اپنی اپنی ترجیہات تھیں اور مفادات تھے ۔ جس کے لئے بلا شبہ نتیش کمار کو بہت محنت اور منّت و سماجت کرنا پڑی تب جاکر کامیابی ملی اور پٹنہ کی سیاسی اعتبار سے تاریخی سرزمین پر ملک کی قومی سیاسی پارٹی کانگریس کے ساتھ ساتھ جد یو ، راجد ، بھاکپا (م)، سی پی آئی ، مالے ، این سی پی ، جھارکھنڈ مکتی مورچہ ، ترنمول کانگریس ، ڈی ایم کے ، شیو سینا( بالا صاحب ٹھاکرے گروپ ) ، سماج وادی ، عام آدمی پارٹی ،نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی جیسی حزب اختلاف کی مضبوط اوراپنی اپنی ریاستوں میں اہمیت رکھنے والی پندرہ اہم پارٹیوں کے رہنماؤں نے ایک جگہ جمع ہوکر ملک کی مطلق العنان سیاسی جماعت بی جے پی اور اس کی حکومت جو خود کو ناقابل تسخیر تصور کرتی ہے اسے اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے آپسی رنجشوں کو فراموش کرتے ہوئے اتحاد پر اتفاق ہوا۔ پٹنہ کے بعد بنگلور میں حزب مخالف کی پارٹیوں میں مذید اضافہ ہو اور تعداد 26 تک پہنچ گئی ۔ بنگلور کے اجلاس میں جس طرح برسراقتدار حکومت کے اتحاد این ڈی اے نام کے مقابلے حزب مخالف کے اتحادیوں نے اپنے عظیم اتحاد کا نام ’’انڈیا‘‘ (INDIA- Indian National Development Inclusive Alliance)رکھ کر تو حکومت کو تلملا کر رکھ دیا ہے ۔ ہمارے وزیراعظم نے تو پہلے اس اتحاد کو بدعنوانوں اور اقربأ پروروں کا ا تحاد بتایا ۔ بنگلور اجلاس کی مذید کامیابی نے ان کی مذید بے چینی بڑھا دی اور اپوزیشن کے اتحاد کے نام ’’انڈیا‘‘ کا موازنہ کبھی ایست انڈیا کمپنی ، کبھی پاپولر فرنٹ آف انڈیا اور کبھی انڈئین مجاہدین سے کیا ۔ حزب مخالف کے اتحاد کے صرف ا س نام سے ملکی سیاست میں انقلاب کی دھمک کو صاف سنا ئی دے رہی ہے ۔جو پارٹی اور حکومت اگلے پچاس سال تک ملک پر راج کرنے کا دعویٰ کر رہی ہو ،ا س کے لئے تو حزب مخالف کا اتحاد و اتفاق ،پیروں تلے سے زمین کھسکنے کے مترادف ہے ۔ بی جے پی اور حکومت کی بوکھلاہٹ، گھبراہٹ اور بے چینی لازمی ہے ۔ اپوزیشن کے تاریخی اتحاد کو دیکھتے ہوئے بی جے پی اور اس کی حکومت کو اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا ہے۔ نتیجہ میں برسر اقتدار حکومت ہر وہ کوشش کرتی نظر آ رہی ہے جو حزب مخالف کے اتحاد کے شیرازہ کو بکھیر نے ممد ومعاون ثابت ہو۔ وزیراعظم مودی نے حزب مخالف کے کامیاب اجلاس کو بدعنوانوں اور اقربأ پروروں کا اجتماع قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف سخت کاروائی کئے جانے کا وعدہ اپنی پارٹی کے ورکروں سے کیا اور اپنے اس ہٹلر شاہی وعدے کو پورا کرنے میں حکومت کی تمام ایجنسیوں ای ڈی ،سی بی آئی ، انکم ٹیکس وغیرہ کو اس کام پرمعمور کر دیا کہ حزب مخالف کے لیڈران کو پہلے خوف زدہ کرو، پھر انھیں بی جے پی میں ’’آپریشن لوٹس‘‘ کی بساط بچھا کر شمولیت پر آمادہ کرو اوراگر یہ دونوں مہم ناکام ہوتی ہے تو پھر انھیںکسی کیس میں ملوث دکھا کر جیل میں ڈال دو۔ مہاراشٹر میں شرد پوار کو اسی کی سزا دی گئی۔ ایک روز قبل تک ’’این سی پی ‘‘ کے اجیت پوار ستّر ہزار کروڑ کے گھوٹالے میں ملوث بتائے جا رہے تھے اور اس پارٹی کے کئی ایم ایل ا ے بدعنوان نظر آرہے تھے ۔اجیت پوار آپریشن لوٹس کے تحت خرید کر نائب وزیر اعلیٰ اور دیگر ان کے رفقأ کو وزیر بنا کر اپنی بساط کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ۔یہ پورا ’آپریشن لوٹس‘ اپنے آپ میں بدعنوانی کی بد ترین مثال ہے۔
پٹنہ کے بعد بنگلور میں ہونے والے حزب مخالف کے اعلان شدہ اجلاس کی تاریخ کو ہی’ این ڈی اے‘ نے بھی اجلا س کیا۔ گرچہ اس این ڈی اے کی کبھی کوئی میٹنگ نہیں ہوئی ، یوں بھی این ڈی اے سے بیشتر پارٹیاں بی جے پی کی بڑھتی عنانیت کے باعث اسے چھوڑ چکی ہیں ۔ حزب مخالف کے 26 اتحادیوں کے مقابلے ’’میں ایک اکیلا سب پر بھاری‘‘ کی تردید کرتے ہوئے 38 نام نہا دپارٹیوں کو شامل کرکے حزب مخالف کے اتحاد کو کمتر دکھانے کی کوشش کی ۔ لیکن ا س کوشش میں وہ کامیاب نہیں ہو سکی کہ لوگوںنے یہ دیکھا کہ جن پارٹیوں کو اس اتحاد میں شامل کی گیا ہے ان میں کئی ایسی پارٹیا ں ہیں جن کا ایک بھی ممبر پارلیمنٹ ہے نہ ہی کوئی ممبر اسمبلی ہے ۔ ہریانہ کے سکھ ویر سنگھ بادل ، اتر پردیش سے جینت چودھری اور آندھرا پردیش کے چندرا بابو نائڈو پر بھی خوب ڈورے ڈالے گئے ۔ ان تینوں کو مرکزی حکومت میں وزیر تک بنائے جانے کا آفردیا گیا، لیکن ان تینوں نے ڈوبتے جہاز پر سوار ہونا پسند نہیں کیا اور وزارت کو ٹھکرا کر بی جے پی کے چانکیہ کو ان کی اوقات بتا دی ۔
2024 ء کے عام انتخاب میں برسراقتدار حکومت کے خلاف اپوزیشن کی دونوں میٹنگ میں کانگریس کے قومی صدر ملکا ارجن کھڑگے، ملک کے سیاسی افق پر چھائے نوجوان رہنمأ راہل گاندھی سمیت ملک کی مختلف ریاستوںکے چھ وزرائے اعلیٰ، مغربی بنگال کی ممتا بنرجی ، جھارکھنڈ کے ہیمنت سورین، تمل ناڈو کے ایم کے اسٹا لن ، دہلی کے اروند کیجریوال ، پنجاب کے بھگونت مان ، بہار کے نتیش کمار کے ساتھ ساتھ پانچ ریاستوں کے سابق وزرائے اعلیٰ، بہار کے لالو پرساد یادو، اتر پردیش سے اکھلیش یادو ، مہاراشٹر سے ادھو ٹھاکر ، جمّوں و کشمیر سے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ وغیرہ کی شرکت کئی لحاط سے اہمیت کا حامل ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف یکجا ہونے والی ان سیاسی پارٹیوں میں کئی ایسی پارٹی ہیں جو اسمبلی انتخابات کے وقت ایک دوسرے کی مخالف رہی ہیں۔ خاص طور پر ان علاقائی پارٹیوں کو کانگریس ہی کے خلاف الیکشن لڑنا پڑا تھااور کانگریس کو شکست دے کرہی اپنا وجود منوایا ہے ۔ یہی وجہ رہی کہ بی جے پی کی مخالفت میں کئی بار تیسرا فرنٹ بنانے کی کوششیں کی گئیں ، لیکن کامیابی نہیں ملی اور این سی پی کے بزرگ اور جہاندیدہ رہنمأ شرد پوار اور دیگر کئی سیاسی تجزیہ کاروں نے واضح طورپر یہ بات کہی کہ بی جے پی اب قومی پارٹی بن چکی ہے ۔ اس لئے اس کے خلاف اتحادکانگریس جیسی قومی پارٹی کے بغیرممکن نہیں ہے ۔اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ کانگریس پورے ملک میں حکومت کرنے والی پارٹی تقریباََ حاشیہ پر جا چکی تھی۔ لیکن اس مردہ جسم میںمیں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے نئی جان پھونک دی ہے اور خاص طور ’بھارت جوڑو یاترا ‘ کے بعد ہماچل اور کرناٹک میں برسر اقتدار بی جے پی کی حکومت کو شکست فاش دے کر بڑی کامیابی حاصل کرنے کے بعد قومی سطح پر اپنی اہمیت کا احساس شدّت سے کرا یا ہے ۔
’’انڈیا‘‘ کے کم از کم مشترکہ پروگرام اور ون ٹو ون یعنی پورے ملک میں این ڈی اے کے امیدوار کے خلاف’انڈیا‘ کے ایک امیدوار کے اعلان سے بھی بی جے پی بوکھلا گئی ہے ۔ ا س لئے کہ وہ ا س بات سے بخوبی واقف ہے کہ اپوزیشن کے ووٹوں کے بکھراؤ سے ہی اسے فائدہ ملتا ہے ۔بی جے پی کو 2014 ء میں جہاں 31 فی صد ووٹ ملے تھے وہیں 2019 ء کے انتخاب میں 37 فی صد ووٹ حاصل ہوئے تھے ۔ ایسے میں’انڈیا‘،’این ڈی اے ‘کے خلاف متحد ہو کر ایک طرفہ ووٹنگ کرتا ہے تو بی جے پی کی شکست یقینی ہے ۔ بہار کے سابق وزیراعلیٰ لالو پرساد نے اپوزیشن کے اتحاد کے تاریخی اجلاس میں اس امر کا اعتراف بھی کیا ہے کہ حزب اختلاف کے ووٹ کی تقسیم سے ہی بھاجپا کامیاب ہو جاتی ہے ۔ لیکن ہم اپوزیشن والے اس بار ایسا نہیں ہونے دینگے ۔ ہم سبھی ایک ہوکر 2024ء کا انتخاب لڑیں گے اور بھاجپا کو شکست دینے میں کامیاب ہونگے ۔ لیکن اس امر سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ موجودہ حکومت حزب مخالف کے ووٹوں کے بکھراؤ کے لئے مایا وتی اور اسد الدین اویسی جیسے اپنے برے وقت کے دوستوں سے مدد ضرور لے گی ۔ حزب اختلاف نے’انڈیا‘ میں ان دونوں کو انٹری نہ دے کر دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے ۔ اپوزیشن کے انتخابی اتحاد پر اسدالدین اویسی نے جو بیان دیا ہے ،وہ واضح کرتا ہے کہ موجودہ سیکولر جماعت کے ساتھ وہ چلنے کو تیار نہیں ہیں ۔ ویسے یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے سابقہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے کسی بھی اجلاس میں انھیں مدعو نہیں کئے جانے کا بالکل درست فیصلہ ہے۔ اویسی نے مدعو نہیں کئے جانے کی خفّت مٹانے کی کوشش میں کہا ہے کہ وہ بھی بی جے پی کی ’’شکست‘ کے خواہاں ہیں ،لیکن بی جے پی کے خلاف جوعظیم اتحاد قائم ہوا ہے ، وہ معتبر نہیں ہے ۔ انھوں نے نتیش کمار ، ممتا بنرجی ، محبوبہ مفتی ، ادھو ٹھاکرے کی سیکولرازم پر ہی سوال اٹھائے ہیں ۔ ویسے اویسی کو ا س بات کا علم ضرور ہوگا کہ سیاست میں کوئی کسی کا دوست ہوتا ہے اور نہ ہی دشمن ،جیسا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ملک کے اندر دیکھا جا رہا ہے ۔ ہم اس تلخ حقیقت سے بھی چشم پوشی نہیں کر سکتے ہیں کہ جس بھارتیہ جنتا پارٹی کو 1984 ء میں ملک کی پارلیمنٹ میں صرف 2 سیٹیں تھیں وہ بڑھ کر 1989 ء میں 89 تک پہنچ گئیں ۔اسے مضبوطی عطا کرنے والوں میں بلا شبہ نتیش کمار ، ممتا بنرجی ، ادھو ٹھاکرے ، عمر عبداللہ ، محبوبہ مفتی وغیرہ کا اہم رول رہا ہے ، جنھوں نے خود کو اقتدار میں رکھنے کے لئے بی جے پی جیسی فرقہ پرست اور فاسشٹ پارٹی کے حلیف بن کر ساتھ رہے ۔ لیکن بی جے پی کی منشا ہمیشہ یہ رہی کہ وقتی طور پر علاقائی پارٹیوںسے فائدہ اٹھا کر ان کے وجود کو کمزورکر پورے ملک پراپنی پارٹی کی حکومت قائم کرے۔
اپوزیشن پارٹیوں کے اتحا دو اتفاق کا دونوں مرحلہ بڑی حد تک کامیابی کے ساتھ طئے ہو گیا کہ کانگریس سمیت یہ تمام علاقائی سیکولر پارٹیاں بی جے پی جیسی فاسشٹ اور آئین وجمہوریت مخالف قومی سطح کی پارٹی کے خلاف ملک کی سا لمیت اور آئین وجمہوریت کے تحفظ کے لئے قومی پارٹی کانگریس کے ساتھ انتخاب لڑنے پر آمادہ ہو گئیں ہیں ۔اس وقت عظیم اتحاد کے سامنے 543 کی پارلیمانی سیٹ کے مقابلے450 سیٹوں کا ہدف ہے اور یہ ہدف اپوزیشن کے اتحاد کو پورا کرنے میں اس لئے زیادہ دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کہ ا س وقت بنگال ، بہار ، جھارکھنڈ ، تمل ناڈو ، دلّی ، پنجاب ، مہاراشٹر ، کرناٹک ، ہماچل پردیش ، راجستھا ، چھتیس گڑھ وغیرہ ریاستوں میں گرفت مضبوط ہے ۔
جن ریاستوں میں اپوزیشن کی حکومت قائم ہے وہاں مرکزی حکومت نے اپنا خاص حربہ ای ڈی ، انکم ٹیکس ، سی بی آئی وغیرہ جیسی مرکزی ایجنسیوں کا استعمال شروع کر دیا ہے ۔ بی جے پی کی مودی حکومت کی پوری کوشش ہوگی کہ جس طرح اس نے ٹی ایم سی کے لیڈر مکل رائے ، شوبھندو ادھیکاری ، سابق کانگریسی لیڈر ہیمنت بسوا شرما ، اجیت پوار ، پرفل پٹیل وغیرہ کو اپنی پارٹی میں لا کر کمل چھاپ صابن سے دھو دھلا کر بدعنوانیوں سے پاک کر اپنا ہمنوا بنا لیا ۔ اسی طرح اپوزیشن کے دیگر لیڈروں کو بھی جیل کی سلاخوں کاخوف دلا کر اپنی پارٹی میں شامل کرنے کی ہر ممکن کوشش ہوگی۔ غیر اعلانیہ ایمرجنسی کے نفاذ کے باوجود ملک اور بیرون ممالک میں جس طرح مرکزی حکومت کے خلاف بغاوتی لہریں اٹھ رہی ہیں ، کیا ان لہروں کو وہ روک پانے کی اہل ہے ۔ ’انڈیا‘ کا تیسرا اجلاس ممبئی میں منعقد کیا جانے والا ہے ۔ جس میں11 رکنی رابطہ کمیٹی تشکیل دئے جانے کے ساتھ ہی دلّی میں انتخابی مہم کی نگرانی و انتظام کے لئے ایک مشترکہ سکریٹریٹ بھی قائم کیا جائے گا ۔اپوزیشن نے بلا شبہ اتحاد قائم کرکے یہ پیغام دینے میں کامیاب ہے کہ انڈیا بنام این ڈی اے کی لڑائی بر سر اقتدار ہونے کے لئے نہیں بلکہ انڈیا کے آئین اور جمہوریت کو بچانے کے لئے ہے ۔

Comments are closed.