ظریفانہ: دل ہے پاکستانی ، دماغ ہندوستانی
ڈاکٹر سلیم خان
فون پراپنے بچپن کے دوست کلن خان کا نام دیکھ کر للن سنگھ جھوم اٹھا ۔ اس نے پوچھا کیوں یارا بڑے دنوں بعد یاد کیا؟
کلن بولا یار یاد تو ہمیشہ کرتا ہوں مگر فون آج کیا ۔
اوہوکلن تو سمجھتا کیوں نہیں میرا مطلب یہی تھا کہ آج کیسے یاد کیا ؟ کتنے دن بیت گئے تجھ سے بات ہی نہیں ہوئی ۔
ارے بھائی یاد تو ازخود آجاتی ہے کوئی قصداً تھوڑی نا کسی کو یاد کرتا ہے۔
للن نے کہا یار دنیا بدل گئی تو نہیں بدلا وہی دل والی باتیں جو تو بچپن میں کیا کرتا تھا اب بڑھاپے میں بھی کررہا ہے۔
اور تو کہاں بدلا وہی دماغ والا حساب کتاب ۔ کتنے دن اور کتنے ماہ کی جوڑ توڑ میں لگا ہوا ہے۔ یہ پوچھ کہ آج کیوں یاد کیا َ؟
یار تو سمجھتا کیوں نہیں ،میں یہی سوال کررہا ہوں کہ اچانک فون کرنے کی وجہ کیا ہے؟
ہاں تو سن میں نے ابھی ابھی ایک خواب دیکھا اور اس کے بعد جیسے ہی بیدار ہوا تو فوراً فون لگا دیا۔
اچھا ابھی دن کے گیادہ بجے خواب سے بیدار ہوکر فون لگا رہا ہے یارقسم سے تیری گپ بازی کی عادت نہیں گئی ۔
یہ گپ نہیں سچائی ہے۔ آج کل میں صبح کی نماز پڑھنے کے بعد ناشتہ فرماتا ہوں اور پھر دو ڈھائی گھنٹے کے لیے سوجاتا ہوں ۔ آج یہ سلسلہ طویل ہوگیا ۔
جی ہاں خواب جو دیکھنا تھا اور نیند کی کیا مجال کے خواب کے درمیان روانہ ہوجائے۔ کلن خان اس کی بھی گردن ماردے گا ۔
نہیں للن نیند اور موت پر کسے اختیار ہے؟ دونوں اپنی مرضی سے آکر اپنے آغوش لے جاتی ہیں اسی لیے نیند کو موت کی چھوٹی بہن کہا جاتا ہے۔
جی ہاں کلن اور زندگی بھی تو ایک خواب کی مانند سراب ہے جس کے پیچھے ہم لوگ دوڑتے دوڑتے تھک کر بیٹھتے ہیں تو موت گلے لگا لیتی ہے ۔
کلن نے چونک کر پوچھا یار یہ بتا کہ تجھے کیسے پتہ چل گیا کہ میں نے خواب میں کیا دیکھا ۔ سچ سچ بتا کہ تجھے یہ کس نے بتایا ؟
مجھے ! مجھے کون بتا سکتا ہے؟ یہ تیرا خواب ہے ۔ کیا تونے اسے کسی کو بتایا ؟
جی نہیں میں نے کسی کو نہیں بتایا پھر بھی تجھے معلوم ہوگیا حیرت ہے۔ یار کمال ہے تو انتریامی تو نہیں ہوگیا ہے۔
نہیں بھیا ایسی بات نہیں مجھے بالکل نہیں معلوم کہ تو نے خواب میں کیا دیکھا لیکن اب جاننا چاہتا ہوں۔ جلدی سے بتا کہ وہ سپنا کیا تھا ؟
میرا خواب جانے بغیر تو زندگی اور موت والی بات نہیں کہہ سکتا ۔ میں تو اسے دیکھ کر بھی وہ بات نہیں سمجھ سکا اور تو نے کہہ دیا تعجب ہے۔
ارے بھائی تعجب چھوڑ اور بتا کہ خواب کیا تھا ۔ مجھے بھی تو پتہ چلے کہ میرا کون سا تکاّ لگ گیا ہے۔
یار للن میں نے خواب میں دیکھا کہ میرا جنازہ جارہا ہے اور اس میں سب سے آگے تو چل رہا ہے۔
بھیا کمال ہے تو نے خود اپنا جنازہ دیکھ لیا اور تجھے ڈر نہیں لگا ۔
اس میں ڈرنے کی کیا بات ؟ آج نہیں تو کل موت آنی ہے مگر پتہ نہیں میرے جنازے میں تو شریک ہوسکے گا یا نہیں اس لیے ایک راونڈ مارلے۔
للن نے کہا موت آئے تیرے دشمنوں کو ۔ مجھے یقین ہے کہ تو مجھ سے قبل دنیا سے نہیں جائے گا اس لیے تیرے جنازے میں میری شرکت مشکل ہے
بھائی میں کہہ چکا ہوں کہ موت اور خواب پر اختیار نہیں اور توبول چکا ہے کہ زندگی ایک سراب ہے اس لیے اب تو دوچار دن کے لیے سہی لاہور آجا
للن نے کہا تو جالندھر کیوں نہیں آجاتا ۔ میرے ساتھ اپنا گاوں بھی دیکھ لے گا اور اپنے کچھ پرانےیار دوست بھی مل جائیں گے۔
وہ تو ٹھیک لیکن اب ہندوستان کا ویزہ بہت مشکل ہوگیا ہے دوست۔ اس لیے تو آجا یہی بہتر ہے۔
کمال کرتا ہے یار جب سیما حیدر اپنے چار بچوں کے ساتھ آسکتی ہے تو تیرے لیے کیا مشکل ہے؟
کلن بولا ارے بھیا لگتا ہے تو نے سیما کے سفر کی داستان نہیں پڑھی ورنہ یہ نہیں کہتا۔
جی ہاں اس کے بارے میں اخبارات کے اندر ہر روز کچھ نہ کچھ نیا چھپ جاتا ہے لیکن وہ کمبخت آئی کیسے یہ معلوم نہیں ہوا؟
دیکھو ایسا ہے کہ سیما کو اپنے سچن سے ملنے کی خاطر کھٹمنڈو جانا پڑا اور پھرنیپال کے راستے وہ ہندوستان میں داخل ہوئی ۔
للن نے پوچھا یار چار بچوں کے ساتھ یہ تو خاصا خرچیلا سفر ہے۔ اس کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آگئے ؟
ارے بھیا سیما کا شوہر سعودی عرب میں کماتاتھا اوروہ پاکستان میں اڑاتی تھی ۔ اسی طرح ہوا میں اڑ کر نیپال گئی اور بس میں بیٹھ کر ہندوستان پہنچ گئی۔
اچھا ! لیکن سچن بھی تو اس کو لانے کھٹمنڈو گیا ہوگا ؟ اس کے پاس اتنی رقم کہاں سے آگئی وہ دیہاڑی مزدور ہے ماہانہ دس ہزار کماتا ہے۔
کلن بولا کہا تو یہ جارہا ہے کہ سیما پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی ایجنٹ ہے اس لیے اسی نے سچن کو روپیہ دیا ہوگیا ۔
اگر ایسا ہے تو سچن بھی سازش میں شریک ہوگیا اور ایجنٹ قرار پایا ۔ اس لیے اسے غداری کی سزا ملنی چاہیے لیکن وہ تو تفتیش سےمبرا ہے۔
دیکھو للن چونکہ تم نے نبض پر ہاتھ رکھ دی اسی لیے مجھے بھی وہ آئی ایس آئی کی ایجنٹ نہیں لگتی ۔
کیوں ہندوستان کے اندر تو اسے میڈیا نے پاکستانی ایجنٹ قرار دے دیا ہے اور تم کو یقین ہی نہیں ہوتا ۔
بھیا للن میڈیا تو تفریح کا سامان ہے یقین کرنے کی چیز نہیں مجھے ہماری ایجنسی اتنی بیوقوف نہیں لگتی جو اس قدر بھونڈے طریقے پر کام کرے ۔
اچھا تو یہ کس کا کارنامہ ہے ۔ ہندوستان میں پاکستان کے سوا کس کو اتنی دلچسپی ہے جو جاسوس بھیجے ؟
جی ہاں اور پاکستان میں بھی ہندوستان کے سوا کون اپنے جاسوس رکھ سکتا ہے۔ اس لیے وہ رآ کی ایجنٹ بھی تو ہوسکتی ہے ورنہ اس ڈھٹائی سے کیسے چلی گئی؟
یار یہ تو نیا زاویہ ہے ۔ میں ٹیلی ویژن پر اس موضوع پر سیکڑوں مباحث دیکھ چکا لیکن کسی مبصر نے یہ نہیں کہا جو تم کہہ رہے ہو۔
بھیا ٹیلی ویژن کے طوطے تو وہی بولتے ہیں جو کہلوایا جاتا ہے۔ اس کا حکم ہوگا تو یہ بھی بولیں گے لیکن ایسی نقصان دہ بات نہیں کہی جائے گی ۔
للن بولا مگر دوست ہندوستانی جاسوس کا پاکستان سےآنا سمجھ میں نہیں آتا؟ کہانی میں جھول ہے ۔
دیکھو یار اپنے ہندوتوا نواز رائے دہندگان کو خوش کرنے کے لیے نوکری نہیں تو بھابی دے دی اور وہ بھی پاکستانی تو اور کیا چاہیے؟ سب بلےّ بلےّ ہوگئے۔
للن نے کہایار یہ ناقابلِ یقین تو ہے مگر پھر بھی اب مجھے دال میں کالا کا شبہ ہونے لگا ہے ورنہ ایسے غیر قانون طور پر کسی عورت کا آجانا مشکل لگتا ہے۔
میرا بھی یہ قیاس ہی ہے۔ کون جانے سچ کیا ہے
للن نے پوچھا لیکن کوئی خفیہ ایجنسی اتنا بڑا کانڈ بلاوجہ نہیں کرسکتی ۔ اس کا سبب کیا ہوسکتا ہے؟
دیکھو پچھلے دو ماہ سے منی پور میں خواتین پر جو مظالم ہورہے ہیں اس کی جانب سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے کچھ تو کرنا پڑے گا ؟
ہاں یار کلن میں سوچ رہا تھا کہ آخر جیوتی موریہ کو اتنا اچھالنے کی کیا ضرورت ؟ کوئی عورت اپنے شوہر سے بیوفائی کرکے میڈیا پر چھا جائے یہ ناممکن ہے۔
کلن بولا جی ہاں میں بھی تفریح کے لیے ہندوستانی ٹیلیویژن کے مباحثے دیکھتا ہوں ۔ وہ معاملہ ڈھیلا پڑ گیا تو ایک ہمہ پہلو دھانسو کہانی کی ضرورت پڑی۔
یار کلن تم تو بہت دور کی کوڑی لائے درمیان میں مظفر پور سے ایک اور جیوتی کی چٹ پٹی خبر آئی تھی لیکن بہترّ حوروں کی مانند فلاپ ہوگئی۔
اچھا ۔ میں نے اس کے بارے میں نہیں سنا ۔
ارے بھائی وہی بدچلنی ۔نویں پاس پریہ رنجن نے اپنی بیوی جیوتی کو زمین بیچ کر داروغہ بنوایا اور وہ اسے چھوڑ کراپنے عاشق کے ساتھ نکل گئی۔
کلن نے کہا یار یہ ہوکیا رہا ہے؟ تمہارے وزیر اعظم مودی تو ہندوستان کو ہندو راشٹر بنارہے ہیں اور اس میں یہ آوارگی ۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا ۔
اوہو کلن مودی جی کیا کرسکتے ہیں وہ تو مردوں کو ایک سے زائد شادی کرنے سے روکنے کے لیے یکساں سول کوڈ لارہے ہیں ۔
وہی تو ! اور یہاں جیوتی ، انجو اور سیما جیسی عورتیں ایک شوہر کے ہوتے دھڑلے سے دوسرے مردوں کے ساتھ عیش کر رہی ہیں ۔
یار میں بھی پریشان ہوں پہلے ہماری ستی ساوتری خواتین اپنے شوہر کی چتا پر جل کر مرجاتی تھیں اوراب جیتے جاگتےخاوند کو لات مارکر چلی جاتی ہیں۔
ہاں بھائی یہ سور ن یگ(سنہری دور) نہیں کل یگ ہے کل یگ۔ کیا تم نے الور کی انجو کا قصہ نہیں سنا ؟
للن بولا جی ہاں میں نے اخبار میں پڑھا لیکن اس کا شوہر اروند کمار عیسائی ہے اس لیے وہ بھی ہندو سے عیسائی ہو گئی تھی ۔
بھیا سوال ہندو ، مسلم یا عیسائی کا نہیں ہے ۔ انجو کا 15 سالہ بیٹی اور 6 سال کے بیٹے کو چھوڑ کر عاشق سے ملنے پاکستان چلا جانا کس قدر شرمناک ہے؟
ہاں مگر اس کے عاشق نے اسے صرف اپنے ماں باپ سے ملانے کے لیے بلایا ہے۔ وہ واپس آنے بعد دوماہ بعد شادی کے لیے پھر سے پاکستان جائے گی۔
کلن نے کہا یار یہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ جب انجو کو آسانی سے ویزہ مل گیا تو تمہیں بھی مل جائے گا ورنہ مجھے سیما کی مانند نیپال سے آنا پڑے گا ۔
للن ہنس کر بولا نہیں تم کو وہ زحمت کرنے کی ضرورت نہیں میں ایک آئیڈیا کرتا ہوں ہم لوگ ویزہ کی جھنجھٹ کے بغیر ہی مل جائیں گے ۔
اچھا ! وہ کیسے ؟ کوئی جادو کی چھڑی مل گئی یا پھر وہی خواب و خیال کی باتیں ؟
جی نہیں تم دربار صاحب آجاو میں بھی کرتارپور راہداری سے گزر کر وہاں آجاتا ہوں ۔ دوچار دن ساتھ رہیں گے پھر میں لوٹ آوں گا ۔
کلن بولا یار مان گئے استاد ۔ تمہارے اس ہندوستانی دماغ پر سوکلن خان قربان ۔
للن نے جواب دیا لیکن للن تمہارے پاکستانی دل نے مجھے گرودوارہ دربار صاحب آنے کے لیے مجبور کردیا ۔ تمہارا خواب شرمندۂ تعبیر ہوگا۔
کلن ہنس کر بولا لیکن اس میں تو میرا جنازہ بھی ہے خیر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ تم تاریخ بتاو میں حاضر ہوجاوں گا۔ خدا حافظ ۔
Comments are closed.