اسرائیل: شاخِ نازک پر ناپائیدار آشیانہ

 

ڈاکٹر سلیم خان

اسرائیل کی حکومت جب بھی کسی داخلی کا انتشار کا شکار ہوتی ہے تو عوام کی توجہ ہٹانے کی خاطر غزہ، نابلوس یا جینن میں کارروائی شروع کردیتی ہے۔ فی الحال چونکہ  اسرائیل کے اندر نام نہاد  عدالتی اصلاحات کی آڑ میں خود یہودیوں کے اندر  حق تلفی کے حوالے سے شدید بے اطمینانی  پیدا ہوگئی ہے۔ چہار جانب احتجاج و مظاہروں کا بازار گرم ہے  اس لیے   اسرائیلی حملوں میں تیزی  کا آ نا توقع   کے عین مطابق ہے۔ اس سال اب تک کم از کم 155 فلسطینی اسرائیلی فوجیوں اور آباد کاروں کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں جو 2002 میں دوسرے انتفادہ کے بعد سب سے بڑی تعداد ہے۔ پچیس جولائی کو مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی علاقے میں واقع  شہر نابلوس کے اندر اسرائیلی دستوں نے تین فلسطینی مجاہدین آزادی کو شہید کردیا ۔ فلسطینی مزاحمتی  تنظیم حماس نے کہا کہ  وہ تینوں اس کے ارکان تھے۔ ان میں سے ایک نابلوس کی یونیورسٹی میں حماس کے طلبہ ونگ کا سربراہ  بھی تھا ۔

مغربی کنارے میں نابلوس مقبوضہ فلسطینی علاقے کا تجارتی صدر مقام ہونے کے سبب غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں غاصب  اسرائیل کی فوج وقتاً فوقتاً مسلح  مظالم کرتی رہتی ہے۔   اسرائیل کے بدنامِ زمانہ  سکیورٹی ذرائع نے اپنی  کارروائی کا جواز پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ویسٹ بینک کے شمالی شہر نابلوس میں  تین فلسطینیوں نے ایک گاڑی سے اسرائیلی فوجیوں پر فائرنگ کی  اور اس کے جواب میں اسرائیلی فوجیوں نے مشتبہ فلسطینی عسکریت پسندوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔  گولی باری  کا یہ واقعہ نابلوس شہر کے الطور نامی علاقے میں پیش آیا۔ ہلاک شدگان سیاہ رنگ کی ایک اسکوڈا گاڑی میں سوار تھے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فائرنگ کی یہ واردات  نابلوس کےپہاڑی  مضافات میں ہوئی جہاں  ایک یہودی بستی آباد ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق  آگے چل کر  جب  گاڑی کی تلاشی لی گئی، تو اس میں سے تین ایم سولہ طرز کی رائفلیں ضبط کی گئیں۔ اس طرح کا جھوٹ اتنی بار گھڑا گیا ہے کہ وہ اگر سچ ہوتب بھی اس پر  اعتبار نہیں  ہوگا  ۔ ہندوستانی سیکیورٹی ایجنسی کے طریقۂ کار سے جو لوگ  واقف ہیں وہ  تو  فوراً ان ہتھکنڈوں کو سمجھ جائیں گے اس لیے  کہ چور چور موسیرے بھائی ۔

اسرائیلی مسلح فوج کے جھوٹے دعووں کی تردید کے لیے پچھلے سال ہلاک ہونے والے فلسطینی بچوں کی تعداد کے حوالے ایک  عالمی ادارے کی رپورٹ کے انکشافات کافی و شافی ہیں۔ اس  نے اپنی  داخلی رپورٹ کے اندر اقوام متحدہ کے  سیکرٹری جنرل گوٹیرش کے حوالے سے یہ بات  کہی کہ 2022ء میں اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں 42 فلسطینی بچےشہید ہوئے   اوریہ تعداد ماضی کے مقابلے کم ہے۔ تو کیا یہ بچے  بھی عسکریت پسند تھے؟ اس کے علاوہ اسرائیلی فلسطینی تنازعے میں گزشتہ برس مجموعی طور پر 524 نابالغ افراد اپنے جسمانی اعضاء سے محروم ہو جانے کے باعث معذور بھی ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق ان میں اسرائیلی بچوں کی تعداد سات اور فلسطینی بچے 517 ہیں۔ یہ فرق اسرائیلی سفاکی کا منہ بولتاثبوت ہے۔  انٹونیو گوٹیرش کو اس پر ‘گہری تشویش‘ کا اظہار کیا  کہ نہ صرف اتنی بڑی تعداد میں بچے ‘ہلاک یا معذور‘ ہو گئے بلکہ اسرائیلی دستوں نے کافی بڑی تعداد میں فلسطینی بچوں کو اپنی تحویل میں بھی لے لیا۔ اس سے علی الرغم  اقوام متحدہ کی منافقت کا یہ عالم ہے کہ وہ ہر مسلح تنازعے کے فریقین کی طرف سے بچوں یا نابالغ افراد کے خلاف سنجیدہ نوعیت کی کارروائی کرنے والوں کو اپنی مخصوص  فہرست میں شامل کر دیتا ہے  مگر ہنوز  اسرائیل کا نام ایسی کسی فہرست میں نہیں نظر آیا۔ یہ  دراصل   امریکہ کے ذریعہ  مختلف بین الاقوامی تنظیموں پر شدید دباؤ کی کارستانی  ہے ۔

اسرائیل نے 1967ء کی چھ روزہ عرب اسرائیلی جنگ کے دوران  دریائے اردن کے مغربی کنارے کا علاقہ اور مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا تھا۔  پورے اسرائیل سمیت یہ بھی  فلسطینی علاقہ ہے مگر  عالمی برادری بھی اس کو  فلسطین کے طور پر تسلیم کرتی ہےاور وہاں پر  مستقبل کی خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام  کا  وعدہ کرتی ہے لیکن اسرائیل اس دعویٰ کو جوتے کی نوک پر اڑا دیتا ہے کیونکہ اس کے سر پر امریکہ کا ہاتھ ہے۔۔ صہیونیوں نے جن فلسطینی باشندوں کو یہ سوچ کر بے مکان کردیا تھا کہ وہ پھر کبھی اس کے مظالم کے خلاف نہیں اٹھا سکیں گے  اب  اس غاصبانہ قبضے کے خلاف سینہ سپر ہوچکے ہیں۔  پانچ دہائیوں تک  راحتی کیمپوں  میں بسنے والوں کو  ہر طرح کی سہولیات سے محروم رکھنے کے بعد اسرائیل اس غلط فہمی کا شکار ہوگیا تھا کہ  وہ  حریت پسندوں کو کچلنے میں کامیاب ہوگیا ہے مگر اب  وہاں پل کر جوان ہونے والی نئی نسل نے یہ خوش فہمی دور کردی ۔ ان کیمپوں سے اٹھنے والے  مزاحمت کے شعلے ظلم و زیادتی کے اس ناپاک  قلعہ کو خاکستر کرکے رہیں گے  ۔     مقبوضہ مغربی کنارے کے کئی شہروں اور قصبوں میں حالیہ ہفتوں اور مہینوں میں مجاہدین آزادی  کی طرف سے اسرائیلی آباد کاروں اور فوجیوں پر حملوں میں  بھی تیزی نظر آئی  ہے۔ غزہ کی طرح اب مغربی کنارے میں   بھی اسرائیلی فوج کی مسلح کارروائیوں کا منہ توڑ جواب دیاجانے لگاہے ۔

 اس ماہ  کے اوائل میں  اسرائیلی فوج نے ویسٹ بینک کے علاقہ جینن  میں ایک  دو روزہ  بڑا آپریشن کیا تھا۔ اس کے دوران بارہ فلسطینی شہید ہوئے مگر ساتھ میں  ایک اسرائیلی فوجی بھی مارا گیا۔ یہ  گزشتہ دو عشروں کے دوران مغربی کنارے میں کی جانے والےشدید ترین فوجی کارروائی تھی۔ اس ظالمانہ کارروائی میں اسرائیل ڈیفنس فورس کے 1,000 فوجیوں  نے حصہ لیا تھا۔  اس حملے میں  ہلاکتوں کے علاوہ بے قصور لوگوں کو شدید زخمی کیا گیا اور ان کے گھروں اور انفراسٹرکچر کو تباہ کیا گیا ۔ جنین کے نیم مستقل پناہ گزین کیمپ پر دو روزہ حملہ کے دوران 14,000 مکینوں کو  کارروائی کے دوران  پانی اور بجلی کی فراہمی محروم کیا گیا۔ صحت کی سہولیات سمیت شہری بنیادی ڈھانچے کی جان بوجھ کر وسیع پیمانے پر تباہ  کیا گیا ۔ اس دوران شہید ہونے والوں  میں چار نوعمرلڑکے تھے نیز 100 سے زیادہ لوگ  زخمی ہوئے تھے ۔اس کارروائی  کے بعد  کیمپ کی ایک چوتھائی آبادی نقل مکانی پر مجبور ہو گئی۔

اقوام متحدہ میں  انسانی حقوق کے ماہرین نے مغربی کنارے کے جنین اور دیگر مقامات پر اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے  کہا تھا کہ یہ ‘طاقت کے استعمال پر بین الاقوامی قوانین اور معیارات کی سنگین خلاف ورزیوں کے مترادف ہیں اور جنگی جرائم بن سکتے ہیں۔‘ اقوام متحدہ نے اس  حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے  فلسطینی آبادی کے لیے اجتماعی سزاقرار دیا ۔بین  الاقوامی  قوانین کےتحت  مقبوضہ سرزمین میں فلسطینی محفوظ افراد ہیں۔ ان  کو  بے گناہی کے قیاس سمیت تمام انسانی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے. اور قابض طاقت ان کو  اجتماعی سلامتی کے لیے خطرے کے طور پر نہیں دیکھ سکتی ۔اسرائیلی قبضے میں  مغربی کنارے کے اندر  منظم تشدد اور جبر باقائدگی سے جاری ہے۔ اسرائیلی فوجی اور انتہائی دائیں بازو کے آباد کار  قتل و غارتگری میں ملوث ہیں۔  وہ  لوگ صدیوں سے آباد مقامی باشندوں کو سر عام گولی مار رہے ہیں ، گھروں کو تباہ کر رہے ہیں اور ان کی  زمین کو لوٹ رہے ہیں ۔موجودہ یاہو حکومت  میں مکمل طور پر فاشسٹ بھی شامل ہیں جن کا مغربی کنارے پر غیر قانونی بستیوں میں بڑا اڈہ ہے۔ حکومت دہشت گردی اور قتل و غارت کی اس مہم کے ذریعہ  لاکھوں فلسطینیوں کی زبردستی نقل مکانی کروا کے پورے  مغربی کنارے کو اسرائیل میں شامل کرنا  چاہتی ہے۔

دنیا بھر میں اپنی غیر جانبداری کا ڈنکا پٰتنے والے  واشنگٹن پوسٹ نے اقوام متحدہ کے پینل کی جانب سے اسرائیلی کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دینے کی مذمت کے لیے صرف ایک جملہ پر اکفتاءکیا  ۔ نیویارک ٹائمز نے اس بارے مىں کچھ بھی نہیں لکھا۔ ٹیلی ویژن نیٹ ورک بھی خاموش تماشائی  بنا رہا۔  ایسے میں اگر امریکہ کی رائے عامہ فلسطین کے بجائے اسرائیل کے ساتھ ہے تو اس کے لیے امریکی میڈیا بھی ذمہ دار ہے۔ امریکہ کہ حکومت  نے بھی  جینن حملے کی  بے حیائی کے ساتھ حمایت کرتے ہوئےکہا :’ہم یقیناً اسرائیل کی سلامتی اور حماس، فلسطینی اسلامی جہاد اور دیگر دہشت گرد گروپوں کے خلاف اپنے لوگوں کے دفاع کے حق کی تائید کرتے ہیں۔  اسرائیل ہمارا قریبی اتحادی اور شراکت دار ہے اور ہم قومی سلامتی اور دفاعی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اس لیے ہماری گفتگو میں کوئی نیا سرکاری بیان نہیں ہے لیکن ہم ان کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں ہیں‘‘۔

مغربی کنارے کےالحاق  کا کھل کر اعلان  کر نے والی اسرائیل کی  فسطائی جماعتیں جس امریکہ بہادر کے بھروسے اچھل  کود رہی ہیں ، عالمی سطح پر اس کا اثر و رسوخ  خود سمٹ رہا ہے۔ یوکرین  میں اس کی کمزوری جگ  ظاہر ہوچکی ہے۔  چین کے ساتھ ایران ا ورسعودی عرب کے اتحاد نے مشرق وسطیٰ میں امریکی  ساکھ ختم کردی ہے۔  اب نہ تو ایران کا ڈر دکھا کر سعودی  عرب اور دیگر مسلم ممالک کو اسلحہ بیچنے کا گھناونا کھیل چل سکے گا  اور نہ اس  کے خطرے سے بچانے کے لیے اسرائیل کو بچانے کا حربہ کام آئے گا اس لیے کہ ایشیا کے اندر چین جس کے ساتھ ہو اس کو شکست دینا امریکہ  سمیت اس کے کسی حلیف کے بس کا روگ نہیں ہے۔ عالمی منظر نامہ پر ایسے آثار ظاہر ہورہے ہیں جن کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ   وہ دن دور نہیں جب امریکہ کا یہ بغل بچہ بھی عالمی نقشے سے سوویت یونین کی مانند غائب ہوجائے گا کیونکہ بقول علامہ  اقبال ’شاخ نازک تعمیر ہونے والا آشیانہ  پائیدار نہیں ہوسکتا ‘۔ 

Comments are closed.