ڈاڑھی کے متنازعہ حکم نامہ پرناظم امارت شرعیہ کا بروقت اقدام قابل صد تحسین
معاون اردومترجم کے مسئلہ پربھی کاروان تحفظ اردوکی مولاناشبلی القاسمی سے نتیجہ خیزکوشش کی اپیل
پٹنہ:30جولائی(پریس ریلیز)ڈاڑھی پربیگوسرائے کے محکمہ تعلیم کااعلامیہ آیا،اس پرچاروں طرف بے چینی پھیل گئی،چنانچہ امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولاناشبلی القاسمی نے بروقت اورنتیجہ خیزاقدام کیا۔ مولاناشبلی القاسمی نے وزیراعلیٰ،نائب وزیراعلیٰ،وزیرتعلیم اورچیف سکریٹری کوخط لکھ کراس کی سخت مذمت کی اورمحکمہ تعلیم کے افسر کی سرزنش کرنے کی درخواست کرتے ہوئے فوراحکم نامہ واپس لینے کی اپیل کی،انھوں نے اسے مذہبی ،ثقافتی اورآئینی حقوق کی خلاف ورزی بتاتے ہوئے حکم نامہ کی تنقید کی ۔اس پرحکومت بہارنے فوری ایکشن لیااورڈی ای اونے حکم نامہ تبدیل کردیا،اس سے اسکولوں کے اساتذہ نے راحت کی سانس لی۔یہ امارت شرعیہ کے ناظم کاقابل صدتحسین اقدام ہے،ہم اس کے لیے ان کے شکرگزارہیں،ان خیالات کااظہارکاروان تحفظ اردوکے صدرمحمدنوشادنے کیا۔انہوں نے قائم مقام ناظم امارت شرعیہ مولاناشبلی القاسمی کاشکریہ اداکرتے ہوئے اپیل کی کہ اسی طرح معاون اردومترجم کے مسئلہ پروہ حکومت کی توجہ مبذول کرائیں،وہ امیدوارجوجنرل زمرے کے ہیں یاای ڈبلیوایس کے وہ امیدوارجن کے پاس دسمبر2019سے پہلے کا(بی ایس ایس سی کی شرط کے مطابق)ڈاکیومنٹ ہے یااوبی سی،ایس سی ایس ٹی کے وہ امیدوارجن کے پاس بی ایس ایس سی کی شرط کے مطابق پرانانان کریمی لیئرسرٹیفکیٹ (این سی ایل)ہے کم ازکم ان کی فائنل فہرست جاری کرکے کارروائی آگے بڑھائی جائے،کیوں کہ ان کی لسٹ جاری کرنے میں کوئی تکنیکی رکاوٹ نہیں ہے۔
محمدنوشادنے مزیدکہاکہ کورٹ میں معاملہ ان لوگوں کاگیاہواہے جن کے پاس بی ایس ایس سی کی شرط کے مطابق پرانااین سی ایل نہیں ہے۔لیکن جن کی دستاویزات بی ایس ایس سی کی شرط کے مطابق ہیں ،ان کی فہرست بارہ مہینوں سے کیوں روک کررکھی گئی ہے،(گزشتہ سال جولائی اگست میںکونسلنگ ہوئی ہے،اس وقت سے فہرست روک کررکھی ہوئی ہے)وزیراعلیٰ،نائب وزیراعلیٰ،چیف سکریٹری اور بہاراسٹاف سلیکشن کمیشن کے سربراہ سے بات کرنے سے یہ مسئلہ آسانی کے ساتھ حل ہوسکتاہے کہ کم ازکم ایسے تقریباآٹھ سوامیدواروں کی فہرست جاری کردی جائے جو دستاویزی شرط کومکمل کرچکے ہیں اورباقی افرادپربھی جلدفیصلہ لیاجائے۔بلکہ حکومت چاہے توسبھی کی لسٹ نکال کرکارروائی آگے بڑھاسکتی ہے جیساکہ 149سیٹوں پراردومترجم کی تقرری ہوچکی ہے۔
محمدنوشادنے مزیدکہاکہ بس حکومت کوتوجہ دلانے کی دیرہے،اگرحکومت تک بات پہونچائی جائے تویہ مسئلہ بہت آسان ہے۔انہوں نے ناظم امارت شرعیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ جس طرح آپ نے داڑھی کے مسئلہ کونیزدیگرکئی مسائل کی طرف حکومت کی توجہ دلاکرحل کیاہے،معاون اردومترجم کی لسٹ جاری کرنے اوراس کی کارروائی آگے بڑھانے کے لیے بھی کوشش کرکے ہزاروں خاندان کی دعائیں لیںگے۔کاروان کے سکریٹری فیاض الدین نے بھی ناظم امارت شرعیہ کاشکریہ ادا کیااورامیدکی ہے کہ وہ معاون اردومترجم کی طرف خاص توجہ دیںگے اورحکومت اورمتعلقہ افسران سے بات کرکے اس مسئلہ کوحل کرنے کی کوشش کریں گے۔فیاض الدین نے مزیدکہاکہ داڑھی کامسئلہ طول پکڑسکتاتھا،دیکھادیکھی دیگراضلاع میں اس طرح کے حکم نامے جاری ہوسکتے تھے،امارت شرعیہ اوراس کے ناظم مولاناشبلی القاسمی نے بروقت کوشش کرکے اس معاملے کوحل کردیا،پوری امت مسلمہ ان کی شکر گزار ہے۔ اسی طرح ان کی خدمت میں میڈیاکے توسط سے یہ بھی اپیل ہے کہ معاون اردومترجم کی فائنل فہرست جاری کرنے(کم ازکم ان کی جن کی دستاویزات بی ایس ایس سی کی شرط کے مطابق ہیں) اوراردومترجم کی باقی ماندہ53سیٹوں کے لیے اگلی لسٹ نکالنے کی طرف حکومت اورافسران کومتوجہ کریں گے اورلگ کران کی تقرری کویقینی بنانے کی نتیجہ خیزکوشش کریں گے۔اللہ تعالیٰ آپ کابھی اورادارہ کابھی اورامت مسلمہ کابھی حامی وناصرہو۔آمین۔
Comments are closed.