فضلاء مدارس اپنی تعلیم کی روشنی میں وکالت کے پیشہ کو اس قابل بنائیں کہ لوگ وکلاء کو بھی دیانتدار سمجھنے لگیں :مولاناعتیق احمد بستوی

اسلامک فقہ اکیڈمی کے زیر اہتمام ’قانون کی تعلیم اور فضلاء مدارس‘کے موضوع پر دو روزہ قومی ورکشاپ اختتام پذیر
نئی دہلی:۳۱؍ جولائی(پریس ریلیز)
وکالت کے پیشہ میں جوخرابیاں در آئی ہیں ان کو فضلاء مدارس اپنی تعلیم اور تعلیمی ذخیرہ کی روشنی میں درست کرنے کی کوشش کریں اور آپ اپنے کو اس طرح پیش کریں کہ لوگ وکلاء کو بھی دیانتدار سمجھنے لگیں، ان خیالات کا اظہار اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے سکریٹری برائے شعبۂ علمی اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے دار القضاء کمیٹی کے کنوینر مولانا عتیق احمد بستوی نے اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے زیر اہتمام ’’قانون کی تعلیم اور فضلاء مدارس‘‘ کے عنوان پر منعقد دو روزہ قومی ورکشاپ کے اختتامی نشست میں اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ عورتوں کو مردوں کے برابر لانے اور آزادی دلانے کے نام پر ہمارے یہاں قوانین بنائے جارہے ہیں جبکہ یہ خلاف فطرت ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ عورتیں بھی پریشان ہیں اور مرد حضرات بھی۔ مولانا نے مشارکین کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ آپ حضرات سے گزارش ہے کہ آپ مسلمانوں کو سمجھایئے اور یہ ماحول پیدا کیجئے کہ لوگ اپنے مقدمات کورٹوں میں لے جانے کے بجائے اپنے مسائل کو شریعت کے مطابق حل کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ اسلام کے احکام میں ہی انسانیت کی نجات ہے۔
اختتامی نشست میں شریک آل انڈیا مسلم پرسل لاء بورڈ کے صدر اور اسلامک فقہ اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے فرمایا کہ اس سلسلہ میں غور و فکر کی ضرورت ہے کہ مدارس کے فضلاء کے لئے مزید دوسرے میدانوں کی طرف رہنمائی کی جائے جس سے وہ ملت و قوم کے لئے سود مند بن سکیں۔ مدارس کے فضلاء کا ایڈوکیٹ بننے کے تعلق کہا کہ ان کے قانون کے میدان میں آنے سے یہ فائدہ ہوگا کہ یہ ہمارے ترجمان بھی ہوں گے اور دماغ بھی۔
نشست میں شریک آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری اپنی رائے ہے کہ بعض مسلم وکلاء خلاف شریعت فیصلوں کے آنے میں معاون بنتے ہیں، مثلاً طلاق کے سلسلہ میں غلط فیصلہ دیتے ہوئے تحکیم کو ضروری قرار دیا۔ اسی طرح داڑھی اور مسجد کے تعلق سے بھی غلط فیصلے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان غلط فیصلوں کے آنے کی ایک وجہ تو لاعلمی ہے اور کبھی کبھی تعبیر کی غلطی کی وجہ سے بھی غلط فیصلے ہوجاتے ہیں۔
’’قانون کی تعلیم اور فضلاء مدارس‘‘ کے عنوان پر دو روزہ ورکشاپ میں افتتاحی اور اختتامی نشست کے علاوہ کل چھ نششتیں منعقد ہوئیں۔ جن میں ’’مذہبی آزادی اور قانونی تحفظات ، تبدیلی مذہب مخالف قانون، فضلائے مدارس اور قانون کی تعلیم – مسائل اور حل، عائلی قوانین اور قانونی ڈھانچہ ، قانون کے طلبہ کے لیے ایل ایل بی کی تکمیل کے بعد کیریئر کے مواقع، یکساں سول کوڈ اور مختلف پرسنل لاء پر اس کے اثرات، اسلامی قانون کی معنویت و اہمیت،نفرت انگیز بیانات سے متعلق قوانین اور قانونی حل‘‘ جیسے اہم موضوعات پر سپریم کورٹ آف انڈیا کے سینئر وکلاء اور اسلامی قانون کے ماہرین علماء نے محاضرات دیئے، اور دوسرے اداروں سے تعلق رکھنے والے جونیئر وکلاء نے بھی اظہار خیال کیا۔ اس ورکشاپ میں تقریبا ۶۰ ایسے فضلاء مدارس شریک رہے جو یا تو قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں یا کرچکے ہیں۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی دعا پر یہ ورکشاپ بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا۔

Comments are closed.