مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
ڈاکٹر حامد اشرف نے خواتین میں مینوپاز کے بعد کولہے کے فریکچر کے موضوع پر لیکچر دیا
علی گڑھ، 31 جولائی: راجیو گاندھی سینٹر برائے ذیابیطس و اینڈو کرائنولوجی،جے این ایم سی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ڈائرکٹر ڈاکٹر حامد اشرف نے علی گڑھ مینوپاز سوسائٹی کے زیر اہتمام ایک پروگرام میںخواتین میں مینوپاز کے بعد کولہے کے فریکچر (پوسٹ مینوپازل اوسٹیوپوروسیس) کے موضوع پر لیکچر دیا ۔
ڈاکٹر اشرف نے پوسٹ مینوپازل اور سنائیل آسٹیوپوروسس کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس کی علامات پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے اس پریشانی کی روک تھام، صحت مند طرز زندگی اور متوازن غذا کے ساتھ ساتھ باقاعدگی سے ورزش کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک خاتون کو کولہے میں فریکچر ہونے کا خطرہ چھاتی، بچہ دانی اور رحم مادر کے کینسر کے خطرے سے کم نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں 200 ملین افراد اور ہندوستان میں تقریباً 50 ملین لوگ کمزور ہڈی کی بیماری میں مبتلا ہیں اور 2050ء تک آسٹیوپوروٹک فریکچر کا ہر دوسرا معاملہ ایشیا میں پیش آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ آسٹیوپوروسس ایک خاموش قاتل ہے اور آسٹیوپوروٹک فریکچر کے مریضوں میں بیماری اور اموات کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے۔ کولہے کے فریکچر والے بیس سے تیس فیصد مریض ایک سال کے اندر فوت ہو جاتے ہیں، اور پانچ سال میں شرح اموات پچاس فیصد سے زیادہ پائی گئی ہے۔
ڈاکٹر اشرف نے فریکچر کے عوامل میں عمر، مینوپاز،گلوکوکورٹیکوائڈز جیسی دواؤں ، اینٹی اپیلیپٹک ادویات، جینیاتی عوامل، کیلشیم اور وٹامن ڈی کی کمی، ہائپوگونادیزم اور ذیابیطس وغیرہ کا ذکر کیا۔ انہوں نے آسٹیوپوروٹک فریکچر کو روکنے کے ادویاتی اور غیر ادویاتی طریقوں پر بھی روشنی ڈالی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو ریسرچ اسکالر نے کیمبرج یونیورسٹی میں مقالہ پیش کیا
علی گڑھ، 31 جولائی: مغربی ایشیائی و شمال افریقی مطالعات شعبہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ریسرچ اسکالر مسٹر امتیاز احمد نے کیمبرج یونیورسٹی، یو کے میں گلف ریسرچ سنٹر کے زیر اہتمام منعقدہ تیرہویں سالانہ گلف ریسرچ میٹنگ 2023 کانفرنس میں اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا جس کا عنوان تھا ’’یمنی خانہ جنگی میں جی سی سی کا مرکزی کردار : علاقائی چیلنجوں کے دور میں تعاون کے لیے ایک امتحان‘‘۔
یمن میں سیاسی اتھل پتھل کی وجوہات اور حوثی اور غیرحوثی اتحاد کے درمیان جھڑپوں کا تجزیہ کرتے ہوئے مسٹر احمد نے کہا کہ ’’خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کی مملکتوں کی باہم متصادم پالیسیوں نے علاقائی امن کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے میں اس علاقائی تنظیم کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے‘‘۔
انہوں نے اپنے مقالے میں یہ بھی واضح کیا کہ جی سی سی ایک تنظیم کے طور پر کیسے کام کرتی ہے ، یہ کیوں مختلف علاقائی بحرانوں کو حل کرنے اور خطے میں مسلکی خلفشار کے اُبھار کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ انھوں نے کہا ’’سعودی عرب کے لیے اس سے بہتر کوئی متبادل نہیں کہ وہ یمن سے نکل جائے اور اگر وہ علاقائی طاقت بننا چاہتا ہے تو وِژن- 2030 کے حصول پر توجہ مرکوز کرے ‘‘۔
امتیاز احمد اے ایم یو میں سینئر ریسرچ فیلو ہیں۔ وہ پروفیسر رخشندہ ایف فاضلی کی نگرانی میں ’’ہندوستان میں یمنی آبادی : ایک جغرافیائی تجزیہ‘‘ کے موضوع پر تحقیق کر رہے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭
شعبہ ارضیات کے طلباء نے اے ایم یو کا نام روشن کیا
علی گڑھ، 31 جولائی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ ارضیات کے طالب علم فارس بیگ کو پلینیٹری جیو سائنسز میں ایراسمس مُنڈس جوائنٹ ماسٹر پروگرام کے لئے منتخب کیا گیا ہے ۔ ساتھ ہی انھیں ایراسمس منڈس اسکالرشپ سے بھی نوازا گیا ہے ۔
صدر شعبہ پروفیسر کنور فراہیم خان نے بتایا کہ فارس بیگ مذکورہ کورس کے پہلے سمسٹر میں پرتگال کی کوئمبرا یونیورسٹی میں پڑھیں گے۔ دوسرا سمسٹر پریسکارا، اٹلی کی یونیورسیٹا ڈی انننزیو ڈی شیٹی ، تیسرا سمسٹر فرانس کی نانٹیز یونیورسٹی اور چوتھا سمسٹر دنیا کے کسی پارٹنر ادارے میں پڑھیں گے۔
فارس بیگ کو اٹلی کی یونیورسٹی آف پیسا میں بھی ایم ایس، جیو فزکس کی پیشکش ’’اپنی صلاحیت اٹلی میں لگائیں‘‘ پروگرام کے تحت کی گئی ہے ۔اس کے علاوہ انلیکس اسکالرشپ گرانٹ کے لیے بھی انھیں شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔
دوسری طرف ،شعبہ ارضیات کے پانچ طلباء جیولوجیکل سروے آف انڈیا، حکومت ہند میں اسسٹنٹ جیولوجسٹ کے عہدے کے لئے منتخب کئے گئے ہیں۔ یہ مقابلہ جاتی امتحان یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) منعقد کرتا ہے۔
پروفیسر فراہیم خان نے بتایا کہ منتخب کئے گئے طلباء میں محمد قاسم رضا، مسرور الاسلام، محمد ثاقب، ہلال علی اور محمد طاہر خان شامل ہیں۔
٭٭٭٭٭٭
فارماکو وجیلنس بیداری پروگرام
علی گڑھ، 31 جولائی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے اجمل خان طبیہ کالج نے شعبہ معالجات کے تعاون سے فارماکو وجیلنس بیداری پروگرام کا انعقاد کیا۔
شعبہ منافع الاعضاء کے سربراہ ڈاکٹر فاروق احمد ڈارنے فارماکو وجیلنس کے مبادیات پر لیکچر دیتے ہوئے حاضرین کو فارماکو وجیلنس کے مقاصد سے آشنا کیا۔ انھوں نے دواؤں کے منفی اثرات کی رپورٹنگ کو اہم قرار دیتے ہوئے حاضرین کو بتایا کہ ایڈورس ڈرگ ری ایکشن (اے ڈی آر) کی رپورٹنگ عملی طور سے کیسے کرنی ہوتی ہے۔
شعبہ معالجات کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر جمال عظمت اور ڈاکٹر ایس جاوید علی سمیت دیگر اساتذہ اور تقریباً 60 پوسٹ گریجویٹ اسکالرز نے پروگرام میں حصہ لیا۔
شعبہ معالجات کی چیئرپرسن پروفیسر تبسم لطافت، ، پروفیسر تنزیل احمد، کوآرڈینیٹر، پی پی وی سی ، اجمل خاں طبیہ کالج اور پروفیسر بدر الدجیٰ خان، پرنسپل، اجمل خاں طبیہ کالج کی قیادت میں پروگرام منعقد ہوا۔
Comments are closed.