ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر مسلمان قنوت نازلہ کا اہتمام کریں: مفتیان کرام

 

 

ممبئی: ۳ اگست

آج کل ملک کے پرآشوب حالات، بدنظمی، ظلم وستم اور فسادات کی وجہ سے یہاں کے مسلمانوں ودیگر کمزور طبقات بہت پریشان اور خوف زدہ ہیں، ایسے حالات میں شریعت اسلامیہ نے کیا رہنمائی فرمائی ہے،کیا قنوت نازلہ کا سلسلہ شروع کیا جاسکتا ہے ؟ یہ سوال ممبئی کی ایک علمی وسماجی شخصیت مولانا محمود احمد خاں دریابادی نے مہاراشٹرا کے مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن صاحب فتحپوری ودیگر مقیان کی خدمت میں بھیجا تھا ـ ………جواب میں مفتیان کرام نے ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر دعاو استغفار کے ساتھ قنوت نازلہ پڑھنے کی ہدایت جاری فرمادی ہے ـ

 

اس لئے مولانا محمود دریابادی وشہر کےدیگر سرکردہ افراد نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ مفتیان کرام کی ہدایات کے مطابق دعاواستغفار کی کثرت کریں اور اپنی مساجد میں قنوت نازلہ کا سلسلہ شروع کریں ـ علماء کرام و ائمہ مساجد سے خصوصی التماس ہے کہ عوام کو شریعت کی پابندی اور معصیت سے اجتناب کے ساتھ استغفار کی کثرت کی تلقین فرمائیں اور اپنی مسجدوں میں قنوت نازلہ کا اہتمام کریں ـ ملک کے دیگر علاقوں کے علماء، مفتیان کرام وائمہ مساجد سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ حضرات بھی اپنے حلقہ اثر میں قنوت نازلہ کا آغاز کریں، ………. مسلمانوں کے ملی تنظمیں انصاف پسند برادران وطن کے ساتھ اس ظلم وستم کے خلاف قانونی ودستوری جدوجہد کررہی ہیں، لیکن مسلمانوں کا اصل ہتھیار دعاوانابت الی اللہ ہےـ اللہ تعالی اس کی برکت سے حالات بہتر فرمائیں گے ـ

فتوی کا متن درج ذیل ہے ـ

 

کیا فرماتے ہیں علماء دین متین مسئلہ ذیل کے بارے میں۔

 

آج جو ملک میں موجودہ حالات ہیں کہ مسلمانوں پر جگہ جگہ ظلم ہورہے ہیں، ان پر تشدد کیا جارہا ہے اور ان کی جان ومال اور عزت و آبرو کو پامال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تو کیا ایسے پر آشوب حالات میں قنوت نازلہ کا اہتمام شرعا درست و مناسب ہے؟ نیز قنوت نازلہ کا مقصد اور طریقہ کیا ہے اس کی بھی وضاحت کردیں تو عین نوازش ہوگی۔

 

 

محمود احمد خاں دریابادی

15 محرم الحرام 1445 ھ

 

 

الجواب وباللہ التوفیق:

قنوت نازلہ کا مطلب ہے مصیبت کی دعا یعنی جب مسلمانوں پر کوئی عام مصیبت آجائے اور ان پر عمومی طور پر ظلم و ستم ہونے لگے ، تو ایسے حالات میں قنوت نازلہ پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے، ایسے ماحول میں قنوت نازلہ کا پڑھنا صحیح اور معتبر روایات سے ثابت ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قنوت نازلہ میں ظالموں کے نام لے کر کے بد دعا فرمائی اور مظلوموں کے نام لے کر دعا فرمائی، بیر معونہ کے موقع پر جب ستر صحابہ کو دھوکہ دے کر شہید کر دیا گیا، تو اس وقت ایک مہینہ تک مسلسل حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قنوت نازلہ پڑھی۔

موجودہ حالات میں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ توبہ استغفار کی کثرت، فرائض کا اہتمام اور منکرات سے اجتناب کے ساتھ ساتھ مسلمانان ہند صدقہ و خیرات قنوت نازلہ کا اہتمام کریں۔

 

قنوتِ نازلہ پڑھنے کا طریقہ احناف کے یہاں یہ ہے کہ فجر کی دوسری رکعت میں رکوع کے بعد سَمِعَ اللّٰہ ُ لِمَنْ حَمِدَہ کہہ کر ہاتھ اٹھائے بغیر امام کھڑا ہو جائے اور قیام کی حالت میں دعائے قنوت پڑھے اور مقتدی اس کی دعا پرآہستہ آواز سے آمین کہتے رہیں، پھر دعا سے فارغ ہو کر اللہ اکبرکہتے ہوئے سجدے میں چلے جائیں، بقیہ نماز امام کی اقتداء میں اپنے معمول کے مطابق ادا کریں۔

 

دیگر مسالک کے لوگ اپنے مسلک کے علماء کرام سے معلوم کرکے اسی کے مطابق عمل کریں۔

 

دعاء قنوت یہ ہے :

 

اللّٰہمَّ اھْدِنَا فِیْ مَنْ ھَدَیْتَ، وَعَافِنَا فِیْ مَنْ عَافَیْتَ، وَتَوَلَّنَا فِیْ مَنْ تَوَلَّیَتَ، وَبَارِکْ لَنَا فِیْ مَا أَعْطَیْتَ، وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَیْتَ، فَاِنَّکَ تَقْضِیْ وَلَا یُقْضیٰ عَلَیْکَ، اِنَّہ لَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ، وَ لَا یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ، تَبَارَکْتَ رَبَّنا وَتَعالَیْتَ۔ اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَنَا وَلِلْمُوْمِنِیْنَ وَلِلْمُومِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَ أَصْلِحْھُمْوَ أَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِہِمْ، وَ أَلِّفْ بَیْنَ قُلُوبِھِمْ وَاجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الْاِیْمَانَ وَالْحِکْمَةََ، وَثَبِّتْھُمْ عَلیٰ مِلَّةِ رَسُوْلِکَ، وَاَوْزِعْھُمْ أَنْ یَشْکُرُوا نِعْمَتَکَ الَّتِیْ أَنْعَمتَ عَلَیْھِمْ، وَأَنْ یُوْفُوْا بِعَھْدِکَ الَّذِیْ عَاھَدتَّھُمْ عَلَیْہِ، وَانْصُرْھُمْ عَلَی عَدُوِّکَ وَعَدُوِّھِمْ، اِلٰہَ الْحَقِّ، سُبْحَانَکَ، لَا اِلٰہَ غَیْرُکَ۔ اَللّٰھُمَّ انْصُرْ عَسَاکِرَ الْمُسْلِمِینَ، وَالْعَنِ الْکَفَرَةَ وَالْمُشْرِکِیْنَ، الَّذِیْنَ یُکَذِّبُوْنَ رُسُلَکَ، وَیُقَاتِلُوْنَ أَوْلِیَائَکَ۔ اَللّٰھُمَّ خَالِفْ بَیَنَ کَلِمَتِھِمْ، وَفَرِّقْ جَمْعَھُمْ، وَشَتِّتْ شَمْلَھُمْ، وَزَلْزِلْ أَقْدَامَھِمْ، وَاَلْقِ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ، وَخُذْھُمْ أَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ، وَأَنْزِلْ بِھِمْ بَأْسَکَ الَّذیْ لَا تَرُدُّہ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ۔

 

 

والله اعلم بالصواب

مفتی جسیم الدین قسمی

15 محرم الحرام 1445 ھ

 

 

بحکم:

مفتی عزیز الرحمن فتحپوری

مفتی اعظم مہاراشٹر

 

 

 

تائید کنندگان:

مفتی سعید الرحمٰن فاروقی، مدرسہ امدادیہ، ممبئی

مفتی سید حذیفہ قاسمی بھیونڈی

قاضی زکریا قمر

مفتی آزاد قاسمی

مفتی قاضی اشفاق، جامع مسجد ممبئی

مفتی حارث پالنپوری

مفتی جنید پالنپوری

مفتی حسیب الرحمٰن فتحپوری

مفتی انصار قاسمی

مفتی لطف الرحمٰن

مفتی ثاقب قاسمی

مفتی فیصل کرلا

Comments are closed.