مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
شعبہ انگریزی میں پروفیسر اسدالرحمن مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا گیا
علی گڑھ، 10 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ انگریزی کے سابق استاد پروفیسر اسد الرحمن کو شعبہ کی جانب سے منعقدہ تعزیتی جلسہ میں شایان شان خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ پروفیسر اسد الرحمٰن اے ایم یو سے بعد میں ریاستہائے متحدہ امریکہ چلے گئے تھے، جہاں انھوں نے اے ایم یو کے فارغین اور ہمدردوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور اے ایم یو الومنئی ایسوسی ایشن کا قیام کیا۔ امریکہ میں ہی گزشتہ دنوں ان کا انتقال ہوا ۔
اے ایم یو کے شعبہ انگریزی میں منعقدہ تعزیتی اجلاس کے دوران انہیں شاندار خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ صدر شعبہ پروفیسر محمد عاصم صدیقی نے تعزیتی پیغام پڑھا، ان کے اہم کارناموں کو بیان کیا اور ان کی ذاتی خوبیوں پر روشنی ڈالی جن کی وجہ سے وہ طلباء اور رفقاء میں کافی مقبول تھے۔
پروفیسر عاصم صدیقی نے کہا ’’پروفیسر اسد الرحمٰن ایک عمدہ استاد تھے جو ترسیل و ابلاغ میں مہارت رکھتے تھے۔ وہ 1951 میں اے ایم یو میں ڈاکٹر ذاکر حسین کی وائس چانسلر شپ کے دوران شعبہ انگریزی سے وابستہ ہوئے اور ممکنہ طور پر 1971 کے اوائل میں یہاں سے امریکہ چلے گئے۔ وہ اے ایم یو سے بہت لگاؤ رکھتے تھے، چنانچہ 70 کی دہائی میں جب وہ امریکہ منتقل ہوئے تو انہوں نے علیگ برادری کو اکٹھا کیا اور سابق طلباء کی انجمن قائم کی‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ پروفیسر اسد الرحمٰن اعلیٰ انسانی و اخلاقی اقدار کے علمبردار اور بے لوث جذبہ کے حامل تھے ۔ ان کے بہت سے طلباء اور رفقاء کے لئے ان کی زندگی باعث تحریک ہے۔انہوں نے سوگوار کنبہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کے لئے ایصال ثواب کی دعا کی۔
پروفیسر اسد الرحمن نے دہلی کے مشہور سینٹ اسٹیفنس کالج سے تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد کیمبرج یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹر ز کیا۔
ان کی اہلیہ محترمہ شائستہ رحمٰن بھی اے ایم یو کے ویمنس کالج میں استاد تھیں اور ان کے والد جناب نور الرحمن نے جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں ڈاکٹر ذاکر حسین کے ساتھ کام کیا تھا۔ علی گڑھ میں جناب نور الرحمٰن نے چند سال رجسٹرار، جامعہ اردوکی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔
تعزیتی جلسہ کے آخر میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کرکے مرحوم کو دلی خراج پیش کیا گیا۔ اس موقع پر شعبہ کے اساتذہ، طلباء اور غیر تدریسی عملہ کے اراکین کثیر تعداد میں موجود رہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو فیکلٹی ممبر نے بھیم تال اور پریاگ راج میں سی ایم ای کا افتتاح کیا
علی گڑھ، 10 اگست: جے این میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اینستھیسیالوجی و کریٹیکل کیئر کے استاد پروفیسر معید احمد نے بھیم تال، اتراکھنڈ اور ایم ایل این میڈیکل کالج، پریاگ راج میں انڈین سوسائٹی آف اینستھیسیالوجسٹ (آئی ایس اے) کے زیر اہتمام منعقدہ دو الگ الگ سی ایم ای کا آئی ایس اے کے صدر کی حیثیت سے افتتاح کیا۔
اپنے صدارتی کلمات میں پروفیسر احمد نے کہا کہ سیکھنا ایک مسلسل عمل ہے اور سی ایم ای طب کے پیشہ سے وابستہ افراد کے لیے سیکھنے کا ایک لازمی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس اے،ایسے سی ایم ای کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تاکہ پریکٹس کرنے والے اینستھیسیالوجسٹ اور نوجوان ریزیڈنٹ ڈاکٹروں کی اہلیت میں اضافہ ہو اور انہیں اپنے شعبے میں ہونے والی پیش رفت سے واقف ہونے کا موقع ملے۔
سی ایم ای کے شرکاء نے نیشنل میڈیکل کونسل کے رہنما خطوط کے مطابق ڈمی کی مدد سے عملی تربیت حاصل کی۔
پروفیسر احمد نے سی ایم ای میں ایئروے مینجمنٹ کے جدید رجحانات اور مکینیکل وینٹیلیشن میں وینٹیلیٹر گرافکس کے کردار پر خطبہ بھی دیا۔
٭٭٭٭٭٭
تحقیق کے مواقع پر فارما سمپوزیم کا انعقاد
علی گڑھ، 10 اگست: جے این میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ فارماکولوجی نے جی-20 پروگراموں کے ایک حصے کے طور پر ریسرچ کے مواقع پر ایک ہند-سعودی فارما سمپوزیم کا انعقاد کیا ۔
اس موقع پر شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی، سعودی عرب کے بایومیڈیکل انجینئرنگ آپشنز، الیکٹریکل و کمپیوٹر انجینئرنگ شعبہ کے پروفیسر محمد آصف حسین نے بایومیڈیکل ریسرچ میں ہونے والی پیش رفت پر روشنی ڈالی اور نینو ٹکنالوجی، تھری ڈائیمنشنل نینو میٹریلز اور میڈیسن میں استعمال ہونے والے دیگر بایو میٹریلز سے متعلق اپنے پروجیکٹوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔
پرنسیز نورہ بنت عبدالرحمن یونیورسٹی،سعودی عرب کے شعبہ فارماکولوجی کی ڈاکٹر عشرت رحمٰن نے منہ کے کینسر کی تحقیق، گرین فائٹونیوٹرینٹس، پری کلینیکل ادویات اور ویکسین کی تیاری پر ہونے والی تحقیق کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی،سعودی عرب کے شعبہ فارماکولوجی کے ڈاکٹر مصباح الدین رفیق نے تعلیمی کریئر میں تحقیق کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور سعودی عرب میں آزاد تحقیقی گرانٹس کے سلسلہ میں اپنے تجربات بیان کئے۔ انہوں نے ذیابیطس، دل اور سانس کے امراض پر خصوصی توجہ کے ساتھ فارماکوجینومکس ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے علاج کے لیے ایک مربوط نقطہ نظر کے سلسلہ میں اپنی تحقیق کے بارے میں بتایا۔
قبل ازیں مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے پروفیسر سید ضیاء الرحمن، چیئرمین ، شعبہ فارماکولوجی نے خاص طور سے طلباء و طالبات کے لئے اس طرح کے پروگراموں کو بہت مفید قرار دیا۔ ڈاکٹر عرفان احمد خان نے پروگرام کی نظامت کی ، جب کہ ڈاکٹر جمیل احمد نے شکریہ ادا کیا۔
٭٭٭٭٭٭
پروفیسر قمرالہدیٰ فریدی ، شعبۂ اردو ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے صدر مقرر
علی گڑھ، 10 اگست: شعبۂ اردو ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ۱۰؍ اگست ۲۰۲۳ء کو شعبے کے نئے سربراہ اور اردو کے معروف ناقد اور محقق پروفیسر قمرالہدیٰ فریدی نے اپنے عہدے کی ذمہ داری سنبھال لی ۔ پروفیسر فریدی کے سوسے زائد مقالات اور سترہ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ ان کی تصانیف کے لیے یوپی اردواکیڈمی اور بہار اردو اکیڈمی سے انھیں ایوارڈ سے سرفرازکیا جا چکا ہے جن میں’’ اردو داستان :تحقیق و تنقید‘‘، ’’طلسم ہوش ربا : ’’تنقید و تلخیص‘‘ ،’’ اظہار و ابلاغ‘‘، ’’سرسید اوراردو زبان وادب‘‘ شامل ہیں۔
پروفیسر فریدی کو ان کی کتاب’’ اردو نثراصناف و اسالیب‘‘ کے لیے کلیم الدین احمدایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔ داستان، تاریخِ زبان، سرسید احمد اور علی گڑھ تحریک ان کی دلچسپی کے خاص موضوعات ہیں۔ درسی کتب کی تیاری کے سلسلے میں این سی ای آرٹی،نئی دہلی کے متعددورکشاپ میں سبجیکٹ ایکسپرٹ کی حیثیت سے پروفیسر فریدی کو مدعو کیا جاتا رہا ہے۔ وہ ماہنامہ تہذیب الاخلاق ، سہ ماہی فکر ونظر علی گڑھ، تنقید (ششماہی) علی گڑھ کے علاوہ الفاظ (سہ ماہی) علی گڑھ اور دانش، آرٹس فیکلٹی جرنل، اے ایم یو کی ادارت کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ ہندی اور شعبہ عربی کی بورڈ آف اسٹڈیز کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کی بورڈ آف اسٹڈیز اورڈیپارٹمنٹل ریسرچ کمیٹی کے ممبر کی حیثیت سے بھی ان کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔
پروفیسر فریدی، چھتر پتی شاہو جی مہاراج یونیورسٹی، کان پور اور ونود بہاری کوئیلانچل یونیورسٹی، دھنباد، جھارکھنڈ کی بورڈ آف اسٹڈیز کے بھی رکن ہیں۔ اب تک ان کی نگرانی میں بائیس طلبا اور طالبات پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرچکے ہیں۔فی الوقت اردو اکیڈمی ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ڈائریکٹر کی اضافی ذمے داری بھی پروفیسر فریدی کے سپرد ہے۔
٭٭٭٭٭٭
Comments are closed.