مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

بین الاقوامی سہ ماہی اردو رسالہ ’ورثہ‘ کا اجراء
علی گڑھ، 12 اگست: بین الاقوامی سہ ماہی اردو رسالہ ’ورثہ‘ کی رسم اجراء پروفیسر عبدالعلیم، ڈین، اسٹوڈنٹس ویلفیئر، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بدست عمل میں آئی۔اس موقع پر ڈی ایس ڈبلیو دفتر میں ’ورثہ‘ کے نگراں اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر پروفیسر ضیاء الرحمٰن صدیقی، ڈپٹی ڈی ایس ڈبلیو کے علاوہ پروفیسر شاہ الحمید، پروفیسر وبھا شرما، سید کلیم زیدی، ڈاکٹر ارشد اقبال، ڈاکٹر جاوید عالم وغیرہ موجود رہے۔
سہ ماہی ورثہ کا یہ خصوصی شمارہ دو سالہ جشن صحافت کے موقع پر منظر عام پر آیا ہے۔ جناب نصر وارثی نے ایڈیٹر اور جناب رئیس وارثی نے چیف ایڈیٹر کے طور پر اپنی گراں قدر خدمات پیش کی ہیں۔
ہندوستان میں اردو صحافت کا آغاز 1822ء میں ’جام جہاں نما‘ کی اشاعت سے ہوا اور سدا سکھ لال اس کے ایڈیٹر تھے۔ 2022ء کو اردو صحافت کے دو سو سال مکمل ہوچکے ہیں۔ اردو صحافت نے ہندوستان کی آزادی میں انگریزوں کے خلاف اہم کردار ادا کیا ۔غیرمسلم صحافیوں کی بھی ایک طویل فہرست ہے۔ اردو صحافت کا مرکز و محور ہندوستان ہی رہا۔
اس خصوصی شمارہ میں ہندوستان کے علاوہ عالمی سطح پر دنیا کے مختلف ممالک میں اردو صحافت کی سمت و رفتار پر قیمتی تحریریں شامل ہیں ۔اس خصوصی شمارے کا اداریہ پروفیسر ضیاء الرحمٰن صدیقی نے مفصل طور پر تاریخی شواہد کے ساتھ قلم بند کیا ہے ۔عالمی سطح پر ’ورثہ‘ کے اس خصوصی صحافت نمبر کی بہت پذیرائی ہوئی ہے اور اسے دستاویزی حیثیت کا حامل قرار دیا گیا ہے ۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں یوم آزادی کے موقع پر روایتی مشاعرہ 14 اگست کی شام کو منعقد ہوگا
علی گڑھ، 12 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں یوم آزادی کے موقع پر حسب روایت 14 اگست کی شام 7:45 بجے شعبہ اردو کے زیر اہتمام یونیورسٹی پالی ٹیکنک ہال میں مشاعرہ منعقد ہوگا۔
شعبہ اردو کے سربراہ پروفیسر قمر الہدیٰ فریدی نے بتایا کہ مشاعرہ کی صدارت اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز کریں گے ۔مشاعرہ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر خالد محمود، پروفیسر محمد احسان الحق کوثر مظہری، سلمیٰ شاہین ،عقیل نعمانی، عادل رضا سمیت دیگر شعراء اپنا کلام پیش کریں گے ۔
٭٭٭٭٭٭
ورک اسپیس کی بدلتی ہوئی نوعیت پر پروفیسر بہار الاسلام کا لیکچر
علی گڑھ، 12 اگست: پروفیسر کے ایم بہار الاسلام، چیئرپرسن، سینٹر فار پبلک پالیسی، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، کاشی پور نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی میں ’انگریزی زبان و ادب: ورک اسپیس کا بدلتا ہوا مزاج ” موضوع پر خطبہ دیا۔
انھوں نے ناقدانہ فکر ، ڈیزائن تھنکنگ اور مصنوعی ذہانت کی اہمیت سے متعلق ورک اسپیس کمیونیکیشن کی بدلتی ہوئی حرکیات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے طلباء کو مشورہ دیا کہ وہ مسابقتی بازار کے پیش نظر اپنی ہنر مندی بڑھانے اور مواقع کی تلاش پر خاص توجہ دیں ۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کانٹینٹ رائٹنگ، برانڈ جرنلزم اور متعلقہ شعبوں میں کمیونکیشن کے تعلق سے بے شمار مواقع موجود ہیں۔
مہمان مقرر کا خیرمقدم کرتے ہوئے صدر شعبہ پروفیسر محمد عاصم صدیقی نے کہا کہ شعبہ انگریزی کے سابق طالب علم پروفیسر اسلام ایک ڈیولپمنٹ کمیونیکیشن اسپیشلسٹ ہیں جو ترسیل و ابلاغ ، ڈیولپمنٹ، پبلک پالیسی اور گوورننس کے شعبوں میں پچیس سال سے زائد عرصے سے کام کر رہے ہیں۔ وہ لندن سکول آف اکنامکس میں وزٹنگ پروفیسر بھی ہیں۔
آخر میں پروفیسر راشد نہال نے شکریہ کے کلمات ادا کئے۔
٭٭٭٭٭٭
پروفیسر یوسف الزماں خاں صدر شعبہ مقرر
علی گڑھ، 12 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ کے پروفیسر یوسف الزماں خاں کو تین سال کی مدت کے لیے شعبہ کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔
پروفیسر خان 25 برسوں سے تدریس و تحقیق میں مصروف ہیں۔ اس کی دلچسپی کے موضوعات میں سگنل پروسیسنگ، کنٹرول سسٹم، بایو میڈیکل انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت، نیورل نیٹ ورکس اور ویولیٹس شامل ہیں۔ انھوں نے یونیورسٹی آف آکسفورڈ سے ڈی فِل کیا ہے اور ہند-کناڈا شاستری موبلٹی پروگرام کے تحت میک گل یونیورسٹی، کینیڈا میں شاستری فیلو کے طور پر بھی کام کیا ہے۔ وہ 2007-08 میں ایسیکس یونیورسٹی، یوکے میں کامن ویلتھ اکیڈمک فیلو رہ چکے ہیں۔
وہ اے ایم یو میں سینٹر آف بایو میڈیکل انجینئرنگ کے کوآرڈینیٹر بھی ہیں۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کی سابق طالبہ نے باوقار اسکالرشپ حاصل کی
علی گڑھ ،12 اگست: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی) ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی سابق طالبہ ڈاکٹر فاریہ حسن نے لندن اسکول آف ہائیجین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن میں ماسٹر آف پبلک ہیلتھ کی تعلیم کے لیے کامن ویلتھ شیئرڈ اسکالرشپ حاصل کی ہے۔ وہ فی الحال فورٹس اسپتال میں سینئر کنسلٹنٹ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔
ڈاکٹر فاریہ حسن نے 2013 میں جے این ایم سی سے ایم بی بی ایس مکمل کیا اور 2017 میں مولانا آزاد میڈیکل کالج ،دہلی سے ایم ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
٭٭٭٭٭٭
نامور مترجم پروفیسر راجیو لوچن ناتھ شکلا کی عزت افزائی
علی گڑھ، 12 اگست: ممتاز مترجم اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ ہندی کے سابق استاد پروفیسر راجیو لوچن ناتھ شکلا کی 75ویں سالگرہ پر ان کی عزت افزائی کے لئے ایک پروقار تقریب کا اہتمام ’راجیو لوچن ناتھ شکلا ابھینندن سمیتی‘ کی جانب سے کیا گیا۔
تقریب کے مہمان خصوصی پروفیسر اشوک متل، سابق ڈین، فیکلٹی آف سوشل سائنس، اے ایم یو اور سابق وائس چانسلر، آگرہ یونیورسٹی نے پروفیسر شکلا کے ساتھ اپنے والہانہ وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے ان کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی اور جدوجہد کے دنوں کا بھی ذکر کیا ۔
انھوں نے کہا ’’پروفیسر راجیو لوچن شکلا ہمیشہ اچھے اور برے دونوں وقتوں میں اپنے ساتھیوں اور دوستوں کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں جو انھیں دوسروں سے منفرد بناتی ہے۔ ‘‘
اپنے خطبہ استقبالیہ میں پروفیسر عبدالعلیم، ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر اور سابق سربراہ، شعبہ ہندی، اے ایم یو نے راجیو لوچن ناتھ شکلا کو ایک خوش اخلاق انسان قرار دیا۔ انہوں نے پروفیسر شکلا کے ساتھ اپنی طویل وابستگی کے حوالے سے متعدد دلچسپ واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ آجکل ایسے افراد عنقا ہوتے جارہے ہیں ۔
شعبہ ہندی کے پروفیسر وید پرکاش نے پروفیسر شکلا کی کثیر جہتی شخصیت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: پروفیسر شکلا سائنسی فکر کے حامل ہیں، توہمات کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ، تعلقات نبھاتے ہیں اور اپنے دشمنوں کا بھی احترام کرتے ہیں۔
پروفیسر محمد عاشق علی، چیئرمین، شعبہ ہندی نے کہا کہ پروفیسر شکلا کا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور اس کی روایات سے جذباتی لگاؤ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے جیسے لوگ ماحول کو خوشگوار بناتے ہیں ، ان کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔
پروفیسر محمد عاصم صدیقی، چیئرمین، شعبہ انگریزی نے پروفیسر راجیو لوچن ناتھ شکلا کی علمی خدمات پر تفصیل سے گفتگو کی۔ انھوں نے کہا ’’ترجمہ کے میدان میں پروفیسر راجیو لوچن ناتھ شکلا ہندوستان کی ایک مشہور شخصیت ہیں۔ وہ سائنس اور ادبی تحریروں کے ترجمے میں مہارت رکھتے ہیں اور ترجمہ کے کام میں چیلنجوں کو ہمیشہ قبول کرتے ہیں‘‘۔
ان کے رفقاء اور خیر خواہوں کی تعریف کرتے ہوئے پروفیسر صدیقی نے کہا کہ آج کے دور میں کسی اہل شخص کے لئے اس طرح کی تقریبات کا انعقاد باعث رشک ہے ۔
جناب اجے بساریہ، ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبہ ہندی، اے ایم یو نے پروفیسر شکلا کی زندگی کے کچھ نامعلوم پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا ’’پروفیسر شکلا نے سائنس کے پس منظر سے ادب کا رخ کیا۔ اگرچہ انہوں نے زندگی بھر ترجمہ پڑھایا، لیکن ادب کے مطالعہ اور تدریس سے ان کا لگاؤ ان کے طرز عمل اور رویے سے بآسانی محسوس کیا جاسکتا ہے‘‘۔
پروفیسر راجیو لوچن ناتھ شکلا کے بڑے بھائی مسٹر رجنیندر ناتھ شکلا اور ان کی چھوٹی بہن مسز پرتیبھا شکلانے جذباتی انداز میں پروفیسر شکلا کی گھریلو زندگی اور کنبہ کے افراد سے تعلقات پر روشنی ڈالی۔
کوی سریش کمار، ڈاکٹر جیہ پریہ درشنی شکلا، ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبہ ہندی، اے ایم یو اور مسٹر ڈی کے اگروال نے بھی اظہار خیال کیا۔
پروفیسر راجیو لوچن ناتھ شکلا نے پروقار عزت افزائی تقریب کے لیے منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور اپنی شعری کائنات، ترجمہ سے متعلق کاموں اور تدریسی زندگی کے تجربات کے حوالے سے گفتگو کی۔
پروفیسر پریم کمار نے انہیں شال پیش کی جب کہ جناب اجے بساریہ نے سپاس نامہ پڑھا۔ پروفیسر پردیپ سکسینہ، پروفیسر ریشماں بیگم، پروفیسر مسعود بیگ، ڈاکٹر جیہ پریہ درشنی شکلا اور مسز فرح ضیاء نے پروفیسر راجیو لوچن ناتھ شکلا اور ان کی اہلیہ محترمہ سدھا شکلا کو یادگاری نشان اور گلدستے پیش کیے۔
پروفیسر عفت اصغر نے شکریہ کے کلمات ادا کئے ۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں ’’میری ماٹی میرا دیش‘‘ مہم کے تحت تقریبات کا اہتمام
علی گڑھ، 12 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) آزادی کا امرت مہوتسو اور ہندوستان میں جی 20 سربراہی اجلاس کے موقع پر ’’میری ماٹی میرا دیش‘‘ مہم میں جوش و خروش کے ساتھ شریک ہے اور’جن بھاگیداری‘ کے عنوان سے مختلف پروگراموں کا اہتمام کیا جارہا ہے۔
اے ایم یو کے سوشل ورک شعبہ نے اساتذہ اور طلباء دونوں کے لیے ایک حلف برداری تقریب کا اہتمام کیا۔ صدر شعبہ پروفیسر نسیم احمد خاں نے ’پنچ پران حلف‘ کا افتتاح کیا، جس میں شرکاء نے اس مہم کے مقصد کا احساس کرنے کے ساتھ ہی شہید حریت پسندوں کو خراج عقیدت پیش کیا ۔
اسی کڑی میں شعبہ اردو نے ’’میری ماٹی میرا دیش‘‘ کے بینر تلے ایک پروگرام کا انعقاد کیا جس میں اساتذہ، طلباء اور ریسرچ اسکالرز نے متحد ہوکر 2047 تک ہندوستان کو خود کفیل بنانے، نوآبادیاتی فکر کے آثار کو مٹانے، اپنے شاندار ورثے کا جشن منانے، اتحاد کو تقویت دینے، اپنی سرزمین کے محافظوں کی تعظیم کرنے اور ایک شہری کے طور پر فرائض کو تندہی سے انجام دینے کا عہد کیا۔
صدر شعبہ پروفیسر محمد قمر الہدیٰ فریدی نے اپنے خطاب میں جدوجہد آزادی سے متعلق ادب کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
نیشنل سروس اسکیم (این ایس ایس) کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ارشد حسین نے بتایا کہ یوم آزادی کے موقع پر 11 سے 17 اگست تک ہفت روزہ پروگراموں کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ آزادی کا امرت مہوتسو کے ایک حصے کے طور پر یہ پہل 30 اگست کو اختتام پذیر ہوگی، جب ہندوستان کے وزیر اعظم کرتویہ پتھ، نئی دہلی میں ایک ’امرت واٹیکا‘ قائم کرنے کے لیے ملک کے مختلف گوشوں سے جمع کی گئی مٹی حاصل کریں گے ۔
انھوں نے مزید بتایا کہ جشن آزادی کی کڑی میں اے ایم یو میں 14 اگست 2023 کو سینٹینری گیٹ سے باب سید تک ’پربھات پھیری‘ نکالی جائے گی۔
٭٭٭٭٭٭

Comments are closed.