الحاج گلزار احمد اعظمی نور اللہ مرقدہ کا انتقال ملک وملت کا عظیم خسارہ ہے:مولانا محمداسلم القاسمی

 

ممبئی 20 اگست

مظلوموں کے مسیحا بے قصور محروسین کی آوازو وآسرامحترم الحاج گلزاراحمد ابن نور محمداعظمی صاحب(سکریٹری قانونی امداد کمیٹی جمعیۃ علماء مہاراشٹر ،ولادت 1934ء) جنھوں نے اکابرین جمعیۃ علماء ھند شیخ الاسلام حضرت مولاناسید حسین احمد مدنی رح(متوفی1957ء)سحبان الھند حضرت مولانا احمد سعید دہلوی رح(متوفی1959ء)مجاہد ملت حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی رح(متوفی 1962ء)کا زمانہ پایا اور انھیں حضرات کی قیادت و رہنمائی میں 1954ءسے ابھی تک جوانوں کی طرح جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے پلیٹ فارم سے پورے ملک میں ہمت وحوصلہ کیساتھ اپنی خدمات پیش کررہے تھے، لیکن آہ افسوس آج علی الصباح ٢٠/ اگست ٢٠٢٣ء بروز اتوار ساڑھے دس بجے جب ہم لوگ ورکنگ کمیٹی کی میٹینگ میں شرکت اور حضرت کی عیادت کیلئے دفتر میں حاضر ہوئے تھے کہ یکایک یہ روح فرسا خبر موصول ہوئی جو ہم سب کارکنان پر بجلی سی بن کر گرگئی کہ شیرِ ہند، روحِ جمعیۃ’ مرد قلندر، سادہ مزاجی کے حامل اور بے لوث خدمات کے شاہکار "مسینا ہاسپٹل” بائیکلہ ممبئی میں حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے اپنے مالک حقیقی سے جاملے” "إنا لله وإنا إليه راجعون. إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلٌّ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى.”

 

اس موقع پر مولانا اسلم القاسمی نے حضرت والا کے اس دار فانی سے دفعۃً اس طرح چلے جانے پر ملک وملت کا عظیم خسارہ بتاتے ہوئے بہت ہی بڑا خلا قرار دیا اور مزید الحاج گلزار اعظمی رحمہ اللہ کی اس خاص بات کو نقل کیا جو جمعیۃ سے غایت درجہ انس ولگاؤ پر مبنی تھی وہ یہ کہ حضرت اکثر مجھ سے یہ کہا کرتے تھے کہ میں نے اپنی پوری زندگی جمعیۃ علماء کی خدمات کیلئے وقف کر رکھی ہے اور اللہ کی ذات سے قوی امید ہے کہ میرا جنازہ بھی ان شاء اللہ جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے دفتر ہی سے رخصت ہوگا حضرت کی یہ بات من وعن صادق آگئی کہ وہ اخیر سانس تک جمعیۃ کے مشن سے ہی منسلک رہے۔ اللہ انکی خدمات اپنی شایانِ شان قبول فرمائے، اور ملک وملت کو انکا نعم البدل عطا فرمائے۔

 

مفتی افضل حسین القاسمی نے بایں موقع گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے ناقابلِ تلافی روح فرسا عظیم خسارہ قرار دیا اور انکی مخلصانہ ستر سالہ خدمات پر رشک بھری لائقِ تقلید مثالی خدمات کا خاکہ پیش کیا، اور انکے حق میں عفو و درگزر اور ترقی درجات کی دعائیں پیش کیں۔

 

نوٹ:ائمہ مساجد،ذمہ داران مدارس عربیہ اور جماعتی احباب سے دعاء مغفرت اور ایصالِ ثواب کی درخواست ہے۔

Comments are closed.