نتیش حکومت اردوکے مسائل کے تئیں بالکل سنجیدہ نہیں
اقلیت نوازی کادعویٰ بے بنیاد،ٹی ای ٹی اورمعاون اردومترجم کامعاملہ تاہنوزالتوا کاشکار
پٹنہ4ستمبر(پریس ریلیز)
نتیش حکومت اردوکے مسائل کے تئیں بالکل بھی سنجیدہ نہیں ہے۔حکمراں محاذمیں شامل جماعتیں سمجھتی ہیں کہ مسلمان مجبورا سہی اسے ہی ووٹ کریں گے،لیکن ایسانہیں ہے،حکمراں محاذکسی غلطی فہمی میں نہ رہے۔اگراسے مسلمان ووٹ چاہیے تواسے مسلمانوں کے مسائل حل کرنے ہوں گے خاص طورپراردوکے ساتھ نتیش حکومت کاجورویہ ہے وہ اسے ڈوبانے کے لیے کافی ہے،مسلمان قریب سے اس رویہ پرنظررکھ رہے ہیں،امن بھائی چارہ مہم چلاکرنتیش کمارکوسیکولرثابت کرنے کی جوہوڑلگی ہے،مسلمان اس کوبھی اچھی طرح سمجھتے ہیں،بہارمیں اردواکیڈمی عرصہ سے معطل ہے،اردومشاورتی بورڈتعطل کا شکارہے،ہزاروں اردوٹی ای ٹی امیدواروں کے ساتھ بہارحکومت کارویہ نتیش سرکارکی اردومخالف پالیسی کی چغلی کھانے کے لیے کافی ہے۔اسی طرح معاون ار دومترجم کے ڈاکیومنٹ و یریفکیشن کوتیرہ ماہ ہوگئے ہیں لیکن اب تک فائنل لسٹ نہیں نکل سکی ہے،حدتویہ کہ جن امیدواروں کے ساتھ نئے این سی ایل کامسئلہ نہیں ہے ان کی بھی لسٹ روک کررکھی گئی ہے،یہ انتہادرجہ کی اردو دشمنی اوربے حسی کاثبوت ہے۔پھرکس طرح نتیش کماراردواوراقلیت نوازہیں؟بارہ ہزاراردوٹی ای ٹی امیدواروں کاکیریئرانھوں نے تباہ کردیاہے،برسوں سے وہ امیدلگاکربیٹھے ہیں،معاون اردومترجم کی ویکنسی کوچارسال ہوگئے ایک فائنل لسٹ نہیں نکال سکے،بارہاتوجہ دلانے کے باوجودنتیش حکومت چپ ہے،ایسارویہ رہا تو الیکشن میں اس کابھاری نقصان ہوگااورکسی کاروان امن وبھائی چارہ نکالنے یاجدیوکے مسلم لیڈران کے دورہ کاکوئی حاصل نہیں ہوگاکیوں کہ عوام اب بیدارہے اور سب سمجھتی ہے،گزشتہ اسمبلی الیکشن میں جدیوکاایک بھی مسلم امیدوارکامیاب نہیں ہوپایاتھا،اسی میں نتیش کمارکے لیے کافی سبق ہے کہ وہ اقلیت نوازہونے کاڈھونگ کرنے کی بجائے حقیقی معنوں میں مسائل حل کریں توان کے لیڈروں کوامن بھائی چارہ کارواں نکالنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ان خیالات کااظہارمحمدنوازمعاون سکریٹری تحفظ اردوکمیٹی پٹنہ،عبدالحفیظ کشن گنج،محمدانوارالہدیٰ لیڈرایم آئی ایم کٹیہار،شجاعت حسین پورنیہ،سرورالہدیٰ رکن تحفظ اردوکمیٹی مدھے پورہ نے اپنی میٹنگ میں کیا۔
کٹیہارکے ایم آئی ایم لیڈرشرافت حسین نے کہاکہ بہارمیں اردودوسری سرکاری زبان ہے لیکن اردومخالف سرکلرنکال کراردوکی لازمیت ختم کی گئی،اس وقت وزیرتعلیم سے لوگوں نے ملاقات بھی کی لیکن معاملہ الجھاکررکھاگیاہے۔اساتذہ کی بحالی کاعمل جاری ہے لیکن اس میں بھی اردوکے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے اوریہاں تک کہ پورنیہ جیسے اقلیتی ضلع میں ایک بھی پرائمری کی اردوسیٹ نہیں ہے۔کاروان تحفظ اردونے مزیدکہاکہ الیکشن میں بہت کم وقت بچاہے،اگرنتیش کمارمسلمانوں سے یک مشت ووٹ کی امیدرکھتے ہیں توانہیں ان تمام مسائل کوحل کرناہوگا،خصوصاََاردوٹی ای ٹی کارزلٹ،معاون اردومترجم کی بحالی کاعمل مکمل کرناہوگانیزورنہ بہارحکومت کے اردواورمسلم دشمن رویہ کے خلاف عوامی بیداری پیداکی جائے گی اورتحریک چلاکرخصوصاََجدیوکے مسلم لیڈران کے خلاف ماحول سازی کی جائے گی کیوں کہ یہ لوگ صرف اپنی گرفت پارٹی میں بنانے کے لیے کوشاں ہیں اردواورمسلمانوں کے مسائل سے انہیں دورکابھی واسطہ نہیں ہے۔اس لیے الیکشن کے وقت نتائج بھگتنے کے لیے تیاررہناچاہیے۔بہارمیں ایم آئی ایم مضبوط ہورہی ہے،اس نے اسمبلی الیکشن میں جدیوکوسبق سکھایاتھااورآئندہ بھی جدیوانتخابی سبق سیکھنے کوتیاررہے۔اسی لیے جدیوکے مسلم لیڈران سیمانچل کادورہ کررہے تھے۔لیکن اس کاکوئی فرق نہیں پڑے گااورنتیش سرکارنے اقلیت مخالف رویہ نہیں بدلاتواس کاانتخابی خمیازہ بھگتناہوگا۔
شجاعت حسین نے کہاکہ باربارتوجہ دلانے کے باوجودنتیش کمارخاموش ہیں،یہ ان کی مسلم مسائل کے تئیں بے حسی کاثبوت ہے۔وہ ہرگزغلط فہمی میں نہ رہیں کہ مسلمان ہرحال میں ان کوووٹ دے دیں گے،الیکشن کے وقت یہ ساری چیزیں ان پربھاری پڑیں گی اوران کوبھاری انتخابی نقصان ہوگا۔اس لیے وقت رہتے ہوئے وہ اردواورمسلمانوں کے تئیں مسائل حل کریں۔اردوٹی ای ٹی کارزلٹ جاری کریں اورمعاون اردومترجم کی فائنل لسٹ جاری کراکربحالی کاعمل جلدمکمل کرائیں۔یہ ان کی پارٹی کے لیے بہترہوگا۔ان کے لیڈران نتیش کمارکوسیکولرزم کامسیحابتانے کی کوشش میں ہیں لیکن حقیقت کیاہے وہ سب کومعلوم ہے،بی جے پی کے ساتھ عرصہ تک سرکارچلاکربھی وہ سیکولرہیں؟بہارمیں اردوکے ساتھ تعصب برت کربھی وہ سیکولراوراقلیت نوازہیں؟مسلمان اس حقیقت کواچھی طرح سمجھتے ہیں۔
Comments are closed.