اساتذہ کا مقام اور ان کی ذمہ داریاں

 

 

ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی

صدر: نوجوانانِ آب حیات ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر کمیٹی بھوپال ایم پی۔9826268925

 

دنیوی و اخروی فوز وفلاح کیلئے تعلیم و تعلم کا ذہبی سلسلہ ایک سنگ میل ہے۔

حصول تعلیم سےلیکر مقاصد تعلیم تک ،متعلم کے آداب سے لیکر معلم کے اوصاف تک اور فضیلت علم سے لیکر طریقہ ہائے تعلیم تک کے تمام مراحل کے بارے ،سیرت طیبہ ہماری مکمل رہنمائی کرتی ہے۔تعلیمی میدان میں متعلمین کی نفسیات کا لحاظ رکھنا،متعلمین کا خیر مقدم کرنا،میسر تعلیمی وسائل کو بر وئے کار لانااور ہمہ وقت اسالیب تعلیم کو ملحوظ خاطر رکھنا،ایک کامیاب اور کامران معلم کے بنیادی اوصاف ہوتے ہیں۔بلا شبہ نبی کریم کی ذات ستودہ ان تمام اوصاف سے متصف تھی۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ قیامت تک انسانیت کے لئے پیشوائی و رہنمائی کا نمونہ ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے۔ ترجمہ: ”تحقیق تمہارے لئے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے“ زندگی کے جملہ پہلوؤں کی طرح معلم کی حیثیت سے بھی نبی اکرم کی ذات اقدس ایک منفرد اور بے مثل مقام رکھتی ہے۔ نبوت اور تعلیم و تربیت آپس میں لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی لئے آپ نے اپنے منصب سے متعلق ارشاد فرمایا۔ ترجمہ:”بے شک میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں“ یہ وہ معلم تھے جن کی تعلیم و تدریس نے صحرا کے بدوؤں کو پورے عالم کی قیادت کے لئے ایسے شاندار اوصاف اور اعلیٰ اخلاق سے مزین کیا جس کی مثال تاریخ انسانیت میں کہیں نہیں ملتی۔تمام بھلائیاں بھی اس میں پوشیدہ ہیں آپ ایک مثالی معلم تھے۔ آپ کی تعلیم و تربیت کردار‘ قول و فعل میں ہم آہنگی راست بازی تحمل و برداشت ایثار عدل استقامت اور ان جیسی بے شمار خوبیوں نے کفر و جہالت کی گھٹا ٹوپ اندھیروں میں اسلام کی شمع روشن کی۔

5/ ستمبر کو ہر سال "ٹیچر ڈے” منایا جاتا ہے، یہ رسم 1994 عیسوی سے جاری ہے، اس دن مختلف النوع کی تقریبات کا کیا جاتا ہے،اس دن اساتذہ کی مدح سرائی کی جاتی ہے، بعض اساتذہ کی خدمت میں ان کی اچھی کارکردگی کے لیے توصیفی اسناد اور یادگاری نشانات پیش کئے جاتے ہیں، کہیں کہیں طلبہ اپنے اساتذہ کی خدمت میں تحائف بھی پیش کرتے ہیں، سیاسی مذہبی اور سماجی رہنما اساتذہ کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔

ظاہر ہے کہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اساتذہ کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے، یہ لوگ نسل نو کو زیور تعلیم سے آراستہ کرتے ہیں اور انہیں حسن اخلاق کے سانچے میں بھی ڈھالتے ہیں۔ معلمین کے لیے یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ اسلام نے روز اول ہی سے ان کا درجہ بلند رکھا ہے، اور ان کو مکرم معزز بنایا ہے، اور اس وقت بنایا ہے جب کسی انسان کو اس کا خیال بھی نہیں آتا تھا کہ معلمین کی قدر افزائی کے لیے کوئی خاص دن متعین کیا جائے اسلام تو اس کا بھی قائل نہیں کہ معلم کی عظمت کا اعتراف کرنے کے لیے کوئی خاص دن معین ہو، وہ تو زندگی کے آخری سانس تک معلمین کی قدر افزائی کرتا ہے بلکہ اس حیات ناپائیدار کے بعد آنے والی دائمی زندگی میں بھی اس کے درجات بلند کرتا ہے۔

معاشرے میں معلم کو وہی حیثیت حاصل ہے جو چمن میں مالی کو حاصل ہوتی ہے، جس طرح پودوں کی مناسب افزائش مالی کی توجہ اور محنت کے بغیر نہیں ہو سکتی اسی طرح معلم کی دلچسپی اور توجہ کے بغیر چمنستان علم کے نونہالوں کی پرورش بھی ممکن نہیں ہے، معلم تعلیمی سرگرمیوں کا بنیادی مرکز اور محور ہے، اس کے بغیر تعلیم کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، دنیا کے ہر مہذب معاشرے میں اساتذہ اور معلمین کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، ہر مذہب نے طبقہ معلمین کی قدر افزائی کی ہے، اسلام کیونکہ بنیادی طور پر علم کا مذہب ہے اس لیے تعلیمات اسلام میں معلمین کی قدر افزائی کا پہلو اپنی پوری تابانیوں کے ساتھ جلوہ گر نظر آتا ہے، اسلام نے معلم کو بہت بلند مقام عطا فرمایا ہے اور اس کی شخصیت کو نہایت مقدس اور انتہائی قابل تعظیم قرار دیا ہے، معلم کی اہمیت اور اس کی عظمت و توقیر کا اندازہ لگانے کے لیے تنہا یہ بات کافی ہے کہ اللہ رب العزت نے خود اپنے آپ کو انسانیت کا معلم اول قرار دیا ہے،ارشادہے: ترجمہ،وہ جو نہایت مہربان ہے اسی نے قرآن کی تعلیم فرمائی، اسی نے انسان کو پیدا کیا اسی نے اس کو بولنا سکھایا۔ گویا اللہ نے اپنی صفت تخلیق کے بیان سے پہلے صفت تعلیم کا ذکر فرمایا ہے جو کم اہم بات نہیں ہے مفسرین نے اس کو اللہ کے بے شمار نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت قرار دیا ہے، فرماتے ہیں "رحمٰن (وہی ہے جس کی بے شمار نعمتیں ہیں ان میں سے ایک روحانی نعمت یہ ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو احکام) قران کی تعلیم دی”(معارف القرآن:٨/٢٤١)

الرحمن علم القرآن کی تفسیر کرتے ہوئے مفسرین نے عجیب و غریب نکتہ بیان فرمایا ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کے بہت سے اسماء حسنیٰ ہیں، ان میں سے ایک الرحمن بھی ہے، یہاں تعلیم قرآن کے ساتھ اللہ کی صفت الرحمن بیان فرمائی گئی ہے جس میں ایک لطیف اشارہ ہے کہ ہر معلم کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اس صفت کے سانچے میں ڈھالے، حقیقت بھی یہی ہے، استاذ میں رحمت کا عنصر کوٹ کوٹ کر بھرا ہونا چاہیے تب ہی وہ اپنے شاگردوں کو کچھ سکھلا سکتا ہے، حتیٰ کہ اس کی سختی، اس کی ناراضگی میں بھی رحمت جھلکنی چاہیے، باپ اپنے بیٹے پر کس قدر شفیق اور مہربان ہوتا ہے، اس کے غصے میں بھی پیار جھلکتا ہے، بس یہی شفقت اور محبت استاذ کے دل میں بھی ہونی ضروری ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دین سیکھنے کے لیے ہر طرح کے لوگ آتے ان میں دیہات کے سادہ لوح افراد بھی ہوتے، بعض حضرات جلدی طیش میں آجاتے، اور وہ اپنی حرکتوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت میں مبتلا کر دیتے، لیکن آپ کبھی ان پر ناراض نہیں ہوئے، بلکہ ان کی ہر اذیت آپ خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرتے رہے، یہ آپ کی رحم دل ہی تو تھی، امت کے ساتھ شفقت ہی تو تھی، قرآن کریم نے بھی آپ کے اس پاکیزہ عمل کی تعریف فرمائی ہے،ترجمہ:پھر اللہ کی رحمت کے سبب سے تو ان کے لیے نرم ہو گیا، اور اگر تو تند خو اور سخت دل ہوتا تو البتہ تیرے گرد سے بھاگ جاتے (آل عمران:١٥٩)

آج کے معلمین اور اساتذہ اکرام کو بھی چاہئے کہ وہ آپ کے اوصاف کو اپناتے ہوئے اپنے معلمانہ پیشے کو باخوبی ادا کر سکتے ہیں اور لوگوں کی رہنمائی اور بھلائی کا فریضہ بہترین طریقہ سے سرانجام دے سکتے ہیں ۔

حصول ِعلم کے بنیادی ارکان میں اہم رُکن استاد ہے، تحصیلِ علم میں جس طرح درسگاہ و کتاب کی اہمیت ہے اسی طرح حصول ِعلم میں استاد کا ادب و احترام مرکزی حیثیت کا حامل ہے۔ استاد کی تعظیم و احترام شاگرد پر لازم ہے کہ استاد کی تعظیم کرنا بھی علم ہی کی تعظیم ہے اورادب کے بغیر علم تو شاید حاصل ہوجائےمگر فیضانِ علم سے یقیناً محرومی ہوتی ہے اسے یوں سمجھئے : ”باادب بانصیب ،بے ادب بے نصیب۔“

حضرت جبرئیل امین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے زانوئے تلمذ طے کر کے آنے والے طلبہ کو یہ تعلیم دے دی ہے کہ انہیں استاذ کے سامنے کیسے بیٹھنا چاہئے،صحابہ کرام نبی کے سامنے ایسے بیٹھتے معلوم ہوتا کہ انکے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہوں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما فقہاء ِصحابہ میں ہیں ، حدیث کی نقل و روایت اور فہم و درایت میں بھی بڑے اعلیٰ درجے کے مالک ہیں اور تفسیر و فہم قرآن کا کیا پوچھنا کہ اُمت میں سب سے بڑے مفسر مانے گئے ہیں ؛لیکن اس مقام و مرتبہ کے باوجود صورتِ حال یہ تھی کہ حضرت زید بن ثابت انصاری ص کی سواری کی رکاب تھام لیتے تھے اورکہتے تھے کہ ہمیں اہل علم کے ساتھ اسی سلوک کا حکم دیا گیا ہے ، (مستدرک حاکم :۳؍۴۲۳) خلف احمر مشہور امام لغت گزرے ہیں ، امام احمد ؒ ان کے تلامذہ میں ہیں ؛ لیکن علومِ اسلامی میں مہارت اور زہد و تقوی کی وجہ سے امام صاحب کو اپنے استاذ سے بھی زیادہ عزت ملی ، اس کے باوجود امام احمدؒ کبھی ان کے برابر بیٹھنے کو تیار نہیں ہوتے اور کہتے کہ آپ کے سامنے بیٹھوں گا ؛ کیوںکہ ہمیں اپنے اساتذہ کے ساتھ تواضع اختیار کرنے کا حکم ہے ، (تذکرۃ السامع و ا لمتکلم ، ص : ۸۷) امام شافعی ؒ امام مالک ؒ کے شاگردوں میں ہیں ، کہتے ہیں کہ جب میں امام مالک ؒکے سامنے ورق پلٹتا تو بہت نرمی سے ، کہ کہیں آپؒ کو بارِ خاطر نہ ہو ، (حوالہ سابق ، ص : ۸۸) خود قرآن مجید نے حضرت موسیٰ ں اور حضرت خضر کے واقعہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے ، باوجودیکہ حضرت موسیٰ ں مقامِ نبوت پر فائز تھے ؛ لیکن انھوں نے نہایت صبر اور تحمل کے ساتھ حضرت خضر کی باتوںکو برداشت کیا اور بار بار معذرت خواہی فرمائی ، امام ابوحنیفہ ؒ کے بارے میں منقول ہے کہ اپنے استاذ حماد ؒکے مکان کی طرف پاؤں کرنے میں بھی لحاظ ہوتا تھا ، امام صاحب ؒ خود اپنے صاحب زادہ کا نام اپنے استاذ کے نام پر رکھا ، قاضی ابویوسفؒ کو اپنے استاذ امام ابوحنیفہؒ سے ایسا تعلق تھا کہ جس روز بیٹے کا انتقال ہوا اس روز بھی اپنے استاذ کی مجلس میں حاضری سے محرومی کو گوارا نہیں فرمایا ۔

حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ "ہم اپنےاستاد سے اتنا ڈرتے اور ان کا اتنااحترام کرتے تھے جیسا کہ لوگ بادشاہ سے ڈرا کرتے ہیں” اور حضرت یحییٰ بن معین جو بہت بڑے محدّث تھے ،حضرت امام بخاری ان کے تعلق سے فرماتے ہیں کہ "محدّثین کا جتنا احترام وہ کرتے تھے اتنا احترام کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں دیکھا” اور حضرت امام ابو یوسف کہتے ہیں کہ "میں نے بزرگوں سے سنا ہے کہ جواستاذ کی قدر نہیں کرتا وہ کامیاب نہیں ہوتا” {ایضاً ص/۲۲}

 

امام اعظم ابو حنیفہ رحمة اللّٰہ تعالیٰ علیہ اپنےاستاذ کا اتنا ادب و احترام کیا کرتے تھے کہ کبھی استاذ کے گھر کی طرف پاؤں کرکے نہیں سوئے- حضرت امام شافعی فرماتے ہیں کہ”میں حضرت امام مالک کے سامنے ورق بہت آہستہ سے الٹتا تھا کہ اس کی آواز ان کو نہ سنائی دے”-

 

حضرت امام ربیع فرماتے ہیں کہ "حضرت امام شافعی کی نظر کے سامنے مجھے کبھی پانی پینے کی جرأت نہیں ہوئی”… بعض بزرگوں نے تو یہاں تک فرمایاکہ” ہمیں اپنے اساتذہ کی اولاداوران کے متعلّقین کی بھی تعظیم وتکریم کرنی چاہیئے” صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ”بخارا کے ایک بہت بڑے امامِ وقت اپنے حلقۂ درس میں مصروفِ درس تھے مگر اثنائے درس کبھی کبھی کھڑے ہوجاتے تھے، جب ان سے اس کا سبب دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میرے استاد کا لڑکا گلی میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا ہے، اور کھیلتے کھیلتے وہ کبھی کبھی مسجد کے دروازے کے پاس آ جا رہا ہے، تو میں اس کے لیے بقصدِ تعظیم کھڑا ہو جاتا ہوں۔بے ادبی صرف انسان کو نہیں برباد کرتی، انسان کی نسلوں کو برباد کرتی ہے،معتزلہ کا بانی بھی حضرت حسن بصری کا گستاخ تھا، ماضی قریب کی بھی ایک دو مثال دی جا سکتی ہیں،اس زمانہ میں نہیں،آج بھی یہ حال ہے کہ بے ادبی کرنے سے انسان بہرحال محروم رہتا ہے اور آج ہمارے طلبا کی زندگی کا مطالعہ کر لیا جائے،کہ ہمارے یہاں بے ادبی کاکیا حال ہے،کبھی استاذ بلانے کے لیے آئیں گے اور استاذ کہیں گے کہ چلو!تو آواز کرنا شروع کردیں گے، یا چپل زمین پر مارنا شروع کردیں گے،یہ سمجھتے ہیں کہ استاذسمجھ نہیں رہا ، استاذ سب سمجھتا ہے،لیکن وہ کہتاہے کہ اللہ کے لیے بلانے کے لیے آئے ہیں، مسجد میں جانے کے لیے ان کو بلایا جارہا ہے، کلاس میں جانے کے لیے ان کو بلایا جارہا ہے، کوئی غلط کام کے لیے تو ان کو نہیں بلایا جارہاہے،لیکن اس کے باوجود بھی یہ ایسی حرکتیں کرتے ہیں،پھر کہتے ہے کہ ہمارا پڑھنے میں دل نہیں لگتا ہے ،کلاس میں دل نہیں لگتا ہے،نہیں لگنے والا، کہاں سے لگے گا، زندگی میں بے ادبی ہوگی تو اللہ نماز کی بھی توفیق نہیں دے گا، کبھی پڑھنے کی بھی توفیق نہیں دے گااور اللہ کے طرف سے کوئی توفیق نہیں ملنے والی، بے ادبی کا انجام آپ چھوٹا موٹا نہ سمجھئے،بے ادبی کا انجام انتہائی بد ترین ہوا کرتاہے۔

اب میں آپ کو بے ادبی کی ایک دو مثال دیتا ہوں، حضرت مولانا یحییٰ رحمۃ اللہ علیہ صاحب ، حضرت مولانا زکریا رحمہ اللہ علیہ صاحب کے والد ہیں فرماتے ہیں کہ میں مولانا رشید احمد گنگوہی رحمة اللہ علیہ کے پاس حدیث پڑھنے کے لیے گیا، تو میں آپ کی خدمت میں تھا اور میں آپ کے پاس پڑھتا تھا،ایک طالب علم بہت ذہین تھا،میری عادت یہ تھی کہ کاندھلہ گنگوہ سے بہت قریب تھا، لیکن میں کبھی گھر نہیں جاتا تھا، میری والدہ نے اصرار کیا کہ تم گھر پر آوٴ،لیکن میں گھر نہیں گیا،لیکن ایک دن مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ میرے حکم پر آج تمہیں گھر جانا پڑے گا،وہ فرماتے ہیں کہ میں گھر گیااور ایک دن کاسبق میرا ناغہ ہو گیا،مجھے بہت تکلیف ہوئی اس پر،جیسے ہی میں آیا تو استاذ نے کہا کہ اچھاتم اس حدیث کے سبق میں نہیں تھے،مولانا رشید احمد گنگوہی رحمة اللہ علیہ کو ان سے کتنا تعلق تھا،کہا کہ حضرت! نہیں، میں نہیں تھا، تو حضرت نے اس حدیث پر تقریر شروع کر دی اور سبق پڑھا یا ،اس دن اتنی لمبی تقریر نہیں کی تھی آج اس سے لمبی تقریر کی،اب وہ طالب علم جو عبارت پڑھتاتھا ،اس کو بہت غصہ آیا،اس طالب علم نے کہاحضرت گنگوہی رحمة اللہ علیہ کے سامنے : اور کوئی حدیث تمہاری چھوٹی ہے کیااور کوئی چھوٹی ہو تو وہ بھی بیان کردو،فرماتے ہیں کہ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی زبان سے کچھ نہیں کہا،تو فرماتے ہیں کہ میں نے کچھ دنوں کے بعد اس شخض کو دیکھا کہ وہ پاگل ہوگیا اور اس شخض کو اپنی آنکھوں سے سڑک پر چن کر کاغذ کھاتے ہوئے دیکھا،تو اس وقت میں نے سوچا کہ نہیں، اگر استاذ کو طالب علم سے تکلیف پہنچتی ہے تو استاذ اپنی زبان سے ایک کلمہ بھی ادا نہ کرے،تب بھی اس کو دنیا اور آخرت میں خسارہ اٹھانا پڑتا ہے اور اگر کلمہ ادا کردیا ہو تو پوچھنا ہی کیا۔

اور پھر اس کے بعد مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے،فرماتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ایک طالب علم پڑھتا تھا،احمد علی نگرامی نام تھا اس کا،اس کانام بھی حضرت نے اپنی کتاب میں نقل کیاہے،کہا کہ وہ انتہائی ذہین تھا، عربی دوم میں وہ جب پہنچ گیا تو وہ عربی سیکھنے لگاا ور جب وہ عربی سوم میں پہنچا تو برجستہ عربی بولتا تھا،تمام استاذوں کواس پر ناز تھا،لیکن حضرت مولانا سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے جب اپنا تعلق حضرت تھانوی سے قائم کیا تو ندوہ کے کچھ طلبا نے ان کی مخالفت کی اور اسٹرائک کی تو یہ طالب پیش پیش تھا ،وہ طالب علم ابھی طالب علمی سے فارغ نہیں ہوا تھا کہ اس کو بیماری لگ گئی،اتنی خطرناک بیماری لگی کہ اس کے گھر والوں نے اس کو ہاتھ پاوٴں باندھ کر گھر پر رکھ دیا،وہ فرماتے ہیں کہ میرے بھائی عبد العلی صاحب چوں کہ ڈاکٹر تھے، لہٰذا نہیں بلایا گیا کہ یہ کونسی بیمار ی میں مبتلا ہو گیا ہے ؟ اس کے بعد انہوں نے بہت علاج کیا، لیکن اچھا ہوا نہیں،میں اپنے استاذ کی خدمت میں گیا اور کہا حضرت اس طالب علم نے آپ کو بہت ستایا ہے،آپ نے اس کو کوئی بددعا تو نہیں دی،وہ فرماتے ہیں کہ ا نہوں نے کچھ بولا ہی نہیں،پھرمیں نے کہا کہ حضرت !بد دعا دی ہو تو معاف کردو، اس کی طرف سے میں معافی مانگتا ہوں،کیوں کہ وہ انتہائی ذہین طالب علم تھا،حضرت نے مجھے کچھ کہا نہیں میں آگیا،دوسرے دن جب میں گیا تو حضرت نے کہا کہ ٹھیک ہے، میں نے اس کو معاف کردیا،میں نے اس کے لیے دعا کی، وہ فرماتے ہیں کہ تیسرے ہی دن میں نے اس کو بازار میں دیکھاکہ وہ بازار میں صحیح سلامت جارہا تھا،مجھے بہت توقع تھی کہ وہ بہت کام کرے گا میرے سے بھی اچھا لکھنے والا تھا،لیکن ہفتہ کے بعد پتا چلا کہ وہ کسی حادثے میں انتقال کر گیا ، استاذ کی بے ادبی انسان زندگی کو بھی ختم کر دیتی ہے۔

استاد کو کبھی ناراض نہ ہونے دیں،اگر انکی شان میں کوئی بے ادبی ہوجائے تو فورا انتہائی عاجزی کے ساتھ معافی مانگ لینا چاہیے۔اس لیے کہ استاذ کی عزت اور ان کا مقام ومرتبہ امر مسلم ہے جس کا انکار کوئی بھی فرد وبشر نہیں کر سکتا۔لہذا ہم سبھوں پر واجب ہے کہ ہم اپنے اساتذہ کی عزت کریں انکے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں تبھی جا کر ہم دین ودنیا دونوں جگہ کامیاب اور بامراد ہوسکتے ہیں۔

اساتذہ کا حق اپنے شاگردوں پر اتنا ہی ہے جتنا باپ کا اولاد پر بلکہ ایک اعتبار سے باپ سے بھی زیادہ، کیوں کہ روح کو جسم پر فضیلت حاصل ہے، والد اگر "صلبی وجسمانی باپ” ہے تواساتذہ "روحانی باپ”

اسی طرح استاذ کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے شاگردوں پر اس طرح مہربان رہے جس طرح اپنے کمسن بچوں پر مہربان رہتا ہے، تمام صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے تلامذہ تھے، زندگی کے ہر نشیب و فراز سے آگاہی ان حضرات نے درسگاہ نبوت سے حاصل کی، مرنے جینے کی تمام ادائیں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و عمل سے سیکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تلامذہ پر کس قدر مہربان تھے، کتنے شفیق تھے اس کا اندازہ صرف اس ایک جملے سے لگایا جا سکتا ہے:انما لکم مثل الوالد لولدہ (ابن ماجہ 374 جلد ١, رقم الحدیث: 309) میں تمہارے لیے ایسا ہوں جیسے باپ اپنے بیٹے کے لیے ہوتا ہے۔”

اسی طرح استاذ کے دل میں اپنے طلبہ کے تئیں خیر خواہی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہونا چاہیے، ہمارے اکابرین اور بزرگوں کی قبروں کو اللہ تعالیٰ نور سے بھر دے۔ یہ حضرات صاحب کمال ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت خلیق اور متواضع بھی تھے۔ اور یہ حضرات علم ک لیے خود کو فنا کر رکھا تھا۔ملفوظات فقیہ الامت:١/٧٤ میں واقعہ لکھا ہے کہ ایک مرتبہ گنگو میں سبق جاری تھا بارش شروع ہو گئی طلباء اپنی اپنی کتاب بغلوں میں دبا کر اندر کی طرف بھاگے، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ جو سبق پڑھا رہے تھے اپنی جگہ سے اٹھے اور طلبہ کے جوتے اٹھا کر اندر کی طرف بڑھے، طلبہ ندامت سے پانی پانی ہو گئے، مگر آپ نے پوری عاجزی انکساری کے ساتھ ارشاد فرمایا: جو لوگ قال اللہ وقال الرسول پڑھتے ہوں رشید احمد ان کے جوتے نہ اٹھائے تو اور کیا کرے۔ یہ حضرات تھے صحیح معنی میں حقیقی معلم اور استاذ کالجوں اور اسکولوں کی بات تو جانے دیجئے اب تو مدارس بھی ان حقیقی استاذوں سے محروم ہو چکے ہیں، لوگ پوچھتے ہیں کہ ہمارے موجودہ مدارس سے متوقع نتائج برآمد نہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟ اب ان مدرسوں سے قاسم و رشید، محمود انور، اشرف و حسین، یحییٰ و خلیل جیسے حضرات کیوں پیدا نہیں ہو رہے ہیں اس کا جواب صرف ایک جملے میں یہ ہے کہ ہمارے مدارس کے اساتذہ نے دور اول کے استاذوں کی روش چھوڑ دی ہے۔

Comments are closed.