مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

مقالات سرسید کی نویں جلد اور جی ٹوینٹی سے متعلق موضوعات پر پانچ کتب کا اجراء
علی گڑھ، 5ستمبر: مولانا محمد اسماعیل پانی پتی کی مرتب کردہ ’مقالات سرسید ‘کی نویں جلد اور جی 20 سے متعلق مختلف موضوعات پر سرسید اکیڈمی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شائع کردہ پانچ کتب کا اجراء یہاں سرسید اکیڈمی کے زیر اہتمام منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں کیا گیا۔
مقالات سرسید کو اکیڈمی نے تصحیح و تہذیب کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس کی نویں جلد اسلامی دنیا اور واقعات حاضرہ پر سرسید احمد خاں کے مضامین پر مشتمل ہے۔ اس میں ترک و یونان، ترکوں کی تہذیب، سلطان روم اور ہندوستان کے مسلمان، ٹرکی کا شیخ الاسلام، ملک یمین، انگلستان ، روس اور ٹرکی کا معاملہ، ترکوں کے یتیموں اور زخمیوں کے لئے چندہ ،قانون میعاد نکاح، خورجہ کا فساد، اودھ اخبار اور منشی غلام محمد خاں، صاحبان یورپ کا دیسی زبان میں امتحان، ترمیم احکام شریعت، لارڈ نارتھ بروک کی فیاضی، نئی تہذیب، واقعہ معراج کی حقیقت و فضیلت سمیت 45 مضامین شامل ہیں۔
کتابوں کا اجراء وزارت سماجی انصاف و اختیاردہی کے سکریٹری مسٹرسوربھ گرگ آئی اے ایس ، ریلائنس انڈسٹریز کے مسٹر روہت بنسل اور اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز نے اے ایم یو رجسٹرار مسٹر محمد عمران آئی پی ایس، سرسید اکیڈمی کے ڈائرکٹر پروفیسر علی محمد نقوی اور سرسید اکیڈمی کے ڈپٹی ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد شاہد کی معیت میں کیا۔
جی 20 سے متعلق جن دیگر کتابوں کا اجراء کیا گیا ان میں ’جی ٹوینٹی: تعارف، تاریخ اور تجزیہ (ہندوستان کے حوالہ سے)‘ از ڈاکٹر اسعد فیصل فاروقی، ’جی ٹوینٹی اور افکار سرسید‘ از ڈاکٹر محمد ناصر، شعبہ دینیات،’ گروپ آف ٹوینٹی: اینڈ انٹروڈکشن‘ (انگریزی) از محمد راحت حسن،’ انڈیاز جی 20 پریسیڈنسی، رائز آف انڈیا ایز گلوبل پاور‘ (انگریزی) از محمد راحت حسن اور’ جی ٹوینٹی: این آؤٹ لائن آف ریلیجن اینڈ کلچر‘ (انگریزی) از فیاض حیدر شامل ہیں۔
ان کتب میں جی ٹوینٹی کے کلیدی مقاصد، تنظیم کے قیام کی وجوہات اور مختصر تاریخ، تنظیم کی ہیئت، شیرپا میٹنگیں، جی ٹوینٹی ممالک کا جائزہ، جی ٹوینٹی اور ہندوستان، جی ٹوینٹی ممالک اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، سرسید اور بین الاقوامی ممالک، سرسید کا سفر ولایت، ترکی میں خواتین کی تعلیم و تربیت، تعلیم نسواں اور افکار سرسید، عالمی ایجنڈے کی تشکیل میں جی ٹوینٹی کا کردار، اکنامک پاور ہاوس، جی ٹوینٹی کی قیادت کے سلسلہ میں ہندوستان کا وِژن، ہندوستان کی سافٹ پاور، آئی ٹی شعبہ میں ہندوستان کی حصولیابیاں، مذہبی امور اور پالیسی سازی، جی ٹوینٹی ممالک کی مذہبی پالیسیاں، جی ٹوینٹی کے بڑے مذہبی ادارے اور اس طرح کے دیگر موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔
٭٭٭٭٭٭
محققین نے سرسید کے بین الاقوامی وِژن کو واضح کیا
علی گڑھ، 5ستمبر: سرسید اکیڈمی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے زیر اہتمام ’ہندوستان کی جی 20 چوٹی کانفرنس 2023: مواقع اور چیلنجز‘ موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی سیمینار کے اکیڈمک سیشن اور آخری دن منعقدہ سیشن میں بڑی تعداد میں اساتذہ اور ریسرچ اسکالر ز نے شرکت کی اور اپنے مقالات پیش کئے۔
اکیڈمک سیشن میں ’سرسید کے بین الاقوامی وِژن‘ پر پروفیسر اے آر قدوائی، پروفیسر سعود عالم قاسمی، پروفیسر عبید اللہ فہد، پروفیسر شافع قدوائی اور پروفیسر محب الحق نے اپنے خیالات کا اظہار کیا، جب کہ پروفیسر حکیم سید ظل الرحمٰن نے صدارت کے فرائض انجام دئے۔
پروفیسر اے آر قدوائی نے سرسید احمد خاں کے سفر لندن کا بطور خاص ذکر کرتے ہوئے کہاکہ یہ سفر سرسید کے اندر پائی جانے والی جستجو اور چیزوں کو جاننے سمجھنے کی طلب کا اظہار ہے۔ اس سفر کے بارے میں سرسید کی تحریروں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کیسے علم شناس تھے جو نئے نئے امور کو سمجھنا اور ان کے حوالے سے قوم و ملت کی رہنمائی کرنا چاہتے تھے۔
پروفیسر شافع قدوائی نے عالمی امور میں سرسید کی خاص دلچسپی اور انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں شائع ہونے والے ان کے مضامین پر روشنی ڈالی ۔ سرسید نے روس اور ترکی کی جنگ سمیت عالمی معاملات پر جو کچھ لکھا ہے پروفیسر قدوائی نے ان کے حوالے سے وقیع گفتگو کی۔
پروفیسر سعود عالم قاسمی نے کہاکہ اسلامی ممالک میں جاری سرگرمیوں پر سرسید کی نظر تھی ۔ وہ مشرق و مغرب کا امتزاج چاہتے تھے اور جہاں کہیں بھی بہتر چیزیں ملیں انھیں اپنانے اور غلط و فرسودہ روایات کو ترک کرنے پر زور دیتے تھے۔
پروفیسر عبیداللہ فہد نے ترکی اور دیگر ممالک کے حالات اور عالمی سطح پر ہونے والی تعلیمی پیش رفت اور ترقیات میں سرسید کی خاص دلچسپی کو موضوع سخن بنایا۔
پروفیسر محب الحق نے سرسید کے دور کے عالمی سیاسی منظرنامہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سرسید نے کس طرح عالمی سیاسی اتھل پتھل، بین الاقوامی تجارت سمیت نئے ابھرتے ہوئے موضوعات و تصورات بشمول قومیت و جمہوریت میں دلچسپی لی، انھیں جانا سمجھا اور ان پر اپنے تبصرے کئے۔
اپنے صدارتی کلمات میں پروفیسر حکیم سید ظل الرحمٰن نے خطبات کو سراہتے ہوئے کہاکہ ایک اہم پہلو سے سرسید کی شخصیت اور طرز فکر پر گفتگو کی گئی جس سے شرکاء مستفید ہوئے۔ اکیڈمک سیشن کی نظامت ڈاکٹر احمد مجتبیٰ صدیقی نے کی۔
بین الاقوامی سیمینار کے آخری دن کی نشستوں میں کل پندرہ مقالات پڑھے گئے۔پروفیسر ظہیرالدین ، سابق نائب شیخ الجامعہ، اے ایم یو نے صدارت کے فرائض انجام دیتے ہوئے مقالات کی نہ صرف تعریف کی بلکہ موضوع کے تنوع پر بھی روشنی ڈالی۔ سرسید اکیڈمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد شاہد نے سبھی شرکاء کا استقبال کیا۔
سیشن میں پروفیسر صلاح الدین قریشی،مسٹر محمد علّام، استاد تاریخ، منٹو سرکل، ڈاکٹر محمد ناصر، شعبۂ دینیات، ڈاکٹر اسعد فیصل فاروقی ، ڈاکٹر تنزیل احمد ، مجاہد اشرف ،ڈاکٹر محمد مختار ، سعدیہ پروین دہلی یونیورسٹی ، محمد نثار فیضی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، محمد ریحان، سید عبدالرئوف ، طہور حسین، ثنا، شیخ صادق اللہ حسین، مسٹر یونس ٹی پی، شعبہ جدید ہندوستانی زبانیں) وغیرہ نے مقالات پیش کئے۔
نظامت یاسر علی خاں ، سرسید فیلو، سرسید اکیڈمی نے کی ۔ سیمینار میں جملہ انتظامی امور کی ذمہ داری سید توقیر حسین اور طارق جمیل انصاری نے سنبھالی۔ آخر میں ڈاکٹر سید حسین حیدر نے شکریہ ادا کیا۔
٭٭٭٭٭٭
فیکلٹی آف تھیالوجی میں طلبہ کے اورینٹیشن پروگرام کا انعقاد
علی گڑھ، 5ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی فیکلٹی آف تھیالوجی میں اورینٹیشن پروگرام ڈین، فیکلٹی آف تھیالوجی پروفیسر توقیر عالم فلاحی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنس پروفیسر مرزا اثمر بیگ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات پوری دنیا میں موجود ہیں اور وہ اپنی قابلیت کے ساتھ ساتھ تہذیب کی بدولت اعلیٰ مقام و مرتبہ پر فائز ہیں۔ لیکن یہ تہذیبی رویات اب تنزلی کی شکار ہیںجس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب طلبہ و طالبات صرف انہی اساتذہ کا ادب و احترام کرتے ہیں جن سے ان کا واسطہ پڑتا ہے جب کہ قدیم طلبہ و طالبات میں یہ تھا کہ وہ اپنے ہر سینئر کا ادب و احترام کرتے ، چاہے ان سے ان کی واقفیت ہو یا نہ ہو اور ان سے کوئی ضرورت وابستہ ہو یا نہ ہو۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہاں کے طلبہ کا یہ خاص امتیاز ہے کہ اس کی زبان شیریں ہوتی تھی، لیکن اب یہ اس لحاظ سے بھی تنزل کی طرف گامزن ہیں۔ اس لئے ہم کو چاہئے کہ ہم اپنی تہذیب بطور خاص یونیورسٹی کی روایات پر عمل پیرا ہوں۔کیونکہ ہمارے والدین نے ہم کو یہاں داخلہ تعلیم کے ساتھ تہذیب و تمدن کے امین و پاسباں بننے کے لئے بھیجا ہے۔
صدارتی خطاب میں ڈین فیکلٹی آف تھیالوجی پروفیسر توقیر عالم فلاحی نے مہمان خصوصی کا خیرمقدم کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے یہاں زیادہ تر طلبہ و طالبات مدارس کے ہیں لہذا ہم کو مدارس کے تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے وہاں کی حاصل کردہ روایات کو فراموش نہیں کرنا چاہئے، اس شعبہ کو یونیورسٹی کے دوسرے شعبہ جات کے مقابلہ میں یہ امتیاز حاصل ہے جس کو ہمیں مستحضر رکھنے کی ضرورت ہے۔
پروفیسر توقیر عالم فلاحی نے طلبہ و طالبات کو بطور خاص مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو شہد کی مکھیوں سے سبق لینے کی ضرورت ہے کہ وہ ہر پھول سے جاکر رس لیتی ہیں اور پھر اس کو شہد میں تبدیل کرتی ہیں، اسی طرح تمام طلبہ و طالبات کو اساتذہ سے علم حاصل کرنے میں منہمک رہنا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم یقینا بظاہر آزاد تو ہیں لیکن ہمارے کردار سے واضح ہوتا ہے کہ ہم آج بھی مغربی تہذیب کے دلدادہ ہیں جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس ادارہ کے بانی کا خیال تھا کہ ایک ہاتھ میں سائنس و فلسفہ ، دوسرے ہاتھ میں قرآن اور سر پر کلمہ کا تاج ۔ سرسید کو پڑھنے اور سمجھنے سے یہاں تک معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت پر اتنا زور دیا جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ تربیت اول درجہ پر ہے اور تعلیم ثانوی درجہ پر۔ کیونکہ سرسید جانتے تھے کہ تربیت کے بغیر تعلیم کوئی فائدہ نہیں دے گی۔
مہمان اعزازی کی حیثیت سے پروفیسر محمد سلیم قاسمی نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ باری تعالیٰ کسی کو مہر لگاکر نہیں بھیجتا ہے کہ اس کو کن عہدوں پر فائز ہونا ہے بلکہ انسان کو جو خداداد صلاحیتیں ملی ہوئی ہیں ان کو بروئے کار لا کر منزل مقصود حاصل کرسکتا ہے۔ انہوں نے طلبہ و طالبات کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ خوش قسمت ہیں کہ عالمی شہرت کے حامل ادارہ میں تعلیم و تربیت کے لعل و گوہر سے اپنے جیب و دامن کو بھرنے آئے ہیں، اس لئے اپنا وقت ضائع کئے بغیر ہمہ تن اپنے مقصد کے حصول میں مصروف رہیں۔ اس پروگرام میںنظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد ناصر نے انجام دئے جبکہ ڈاکٹر ہادی رضا کے کلمات تشکر پر اختتام ہوا۔
٭٭٭٭٭٭
جی 20 سربراہی اجلاس کی ہندوستان کی صدارت کا جشن منانے کے لئے بزنس ایڈمنسٹریشن شعبہ نے بین الاقوامی سمپوزیم کا انعقاد کیا
علی گڑھ ،5 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بزنس ایڈمنسٹریشن شعبہ نے جی 20 سربراہی اجلاس کی ہندوستان کی صدارت کا جشن مناتے ہوئے ’’جی 20ممالک اور مینجمنٹ کی تعلیم: صنعت 4.0 کا تناظر‘‘ موضوع پر ایک بین الاقوامی سمپوزیم کا انعقاد کیا۔
اپنے صدارتی کلمات میں پروفیسر بی پی سنگھ (سابق سربراہ اور ڈین، دہلی اسکول آف اکنامکس، دہلی یونیورسٹی) نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کو ماڈل جی 20 فورمز اور فیسٹیولس میں جی 20 برانڈنگ کو فروغ دینا چاہیے اور غیر ملکی وفود کے ساتھ خیالات کے تبادلہ کے لئے اپنے طلباء کو ثقافتی سفیر کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ تبدیلیوں کے نقیب بنیں اور معیشت اور وسائل کے لحاظ سے دنیا کے طاقتور ترین ممالک میں سے ایک بننے کے قومی ہدف کو آگے بڑھانے کے لیے ملک کے معاشی مواقع کا استعمال کریں۔
’’انڈسٹری 4.0 اور اے آئی : جی 20 کے لئے مضمرات‘‘ موضوع پر اپنی گفتگو میں پروفیسر الیگزینڈر لیمبرٹ (اسکول آف انٹرنیشنل ٹریننگ، جنیوا) نے نچلی سطح پر تبدیلی لانے میں ٹکنالوجی کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ترقیاتی امور کے لیے ڈاٹا کے استعمال میں اے آئی کے کردار پر زور دیا ، ساتھ ہی ڈاٹا کی رازداری، انسانی حقوق اور اخلاقیات کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات پربھی احتیاط برتنے کی وکالت کی۔
پروفیسر فیصل احمد (فور اسکول آف مینجمنٹ، نئی دہلی) نے مینجمنٹ کے نصاب میں جی 20 کی اقتصادیات کو شامل کرنے اور انھیں طلباء کی امنگوں سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے مینجمنٹ کے نصاب میں دیگر مضامین کو شامل کرنے کی اہمیت پر بھی بات کی۔
ڈاکٹر راجن ایس رتنا (اقوام متحدہ – ای ایس سی اے پی، نئی دہلی) نے ’جی 20 کے امور کو آگے بڑھانے میں تعلیمی اداروں کا کردار‘ موضوع پر بات کرتے ہوئے عالمی امور میں معیاری تحقیق پر زور دیا تاکہ پالیسی سازی میں ان کا استعمال ہوسکے۔
پروفیسر مرزا اسمر بیگ (ڈین، فیکلٹی آف سوشل سائنسز، اے ایم یو) نے جی 20 اور بین الاقوامی سیاست پر اس کے مضمرات پر اظہار خیال کرتے ہوئے پالیسی کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی اور بدلتے ہوئے عالمی نظام کے پیچیدہ مسائل پر تمام پہلوؤں سے تحقیق کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
قبل ازیں پروفیسر سلمیٰ احمد (ڈین، فیکلٹی آف مینجمنٹ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ) نے مہمان مقررین کا خیرمقدم کیا اور سمپوزیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
اپنے افتتاحی کلمات میں صدر شعبہ پروفیسر جمال اے فاروقی نے سمپوزیم کی ان ترجیحی شعبوں کے مطابق وضاحت کی جن کی نشاندہی جی 20 ممالک کے بزنس فورم (بی 20) نے کی ہے۔
پروگرام کے آخر میں سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا۔ ڈاکٹر احمد فراز خان نے اختتامی کلمات ادا کئے اور ڈاکٹر لمے بن صابر نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو وائس چانسلر نے جی 20 پر کتاب کا اجراء کیا
علی گڑھ، 5 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز نے ’انڈیاز جی-20 پریسیڈینسی: اے سنتھیسس آف پرسپیکٹیوز‘ نامی ایک کتاب کا اجراء کیا، جسے پروفیسر سلمیٰ احمد، ڈین، فیکلٹی آف مینجمنٹ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ اور ڈاکٹر زرین حسین فاروق ، شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن، اے ایم یو نے مشترکہ طور سے مرتب کیا ہے۔
کتاب کے مدیران اور قلمکاروں کو مبارکباد دیتے ہوئے پروفیسر محمد گلریز نے کہا کہ یہ کتاب اے ایم یو میں جی 20 سربراہی اجلاس کی ہندوستان کی صدارت کا جشن منانے کے لئے ہونے والے پروگراموں کی کڑی میں ایک قیمتی اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات قابل غور ہے کہ کتاب میں مضامین تحریر کرنے والوں میں زیادہ تر خواتین ہیں اور یہ ان کی علمی ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقی معنوں میں نہ صرف خواتین کو بااختیار بنانے بلکہ ’خواتین کی قیادت میں اختیار دہی‘ کی ایک تابندہ مثال ہے۔
قبل ازیں وائس چانسلر اور مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے پروفیسر سلمیٰ احمد نے کتاب کے مشمولات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب مختلف پہلوؤں سے جی 20 ممالک کے موجودہ رجحانات کے ساتھ ساتھ مستقبل کی سمتوں پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔ پروگرام کی نظامت ریسرچ اسکالر ثانیہ خان نے کی۔
٭٭٭٭٭٭
سنسکرت کا عالمی دن منایا گیا
علی گڑھ ،5 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سنسکرت نے سنسکرت کے عالمی یوم پر ایک پروگرام کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر سنسکرت برائے امن وہم آہنگی موضوع پر لیکچر دیتے ہوئے پروفیسر کیدارناتھ شرما، سابق آئی سی سی آر چیئر اور سابق ڈین، فیکلٹی آف آرٹس، جموںیونیورسٹی نے کہا کہ انسانوں کے ذریعہ پیدا کردہ مشکلات اور برائیوں سے ہی انسانیت جوجھ رہی ہے اور یہ ضروری ہے کہ دنیا اپنی آنے والی نسلوں کو ان برائیوں سے بچانے کے لیے اپنے طرز زندگی کو درست کرے۔
انہوں نے کہا کہ لاقانونیت، تشدد اور اعتماد کا فقدان آج معمول بن چکا ہے، امن و ہم آہنگی کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور نام نہاد سپر پاورز ایٹمی اسلحے جمع کرنے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ مزید یہ کہ قدرتی آفات جیسے لینڈ سلائیڈنگ، سیلاب اور زلزلے دنیا کے کئی حصوں میں تواتر سے رونما ہوتے رہتے ہیں جب کہ لاعلاج بیماریاں ہزاروں جانیں لے رہی ہیں۔
پروفیسر شرما نے کہا کہ سنسکرت ادب دنیا کو ’واسودھیوا کٹمبکم‘ یعنی پوری زمین ایک کنبہ ہے کہہ کر عالمگیر بھائی چارے کا پیغام پھیلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویدوں میں ’دو اور لو‘ اور ’جیو اور دوسروں کو جینے دو‘ کے اصولوں پر زور دیا گیا ہے۔
اس سے قبل صدر شعبہ پروفیسر ایچ ایس آچاریہ نے مہمان مقرر کا خیرمقدم کیا۔
٭٭٭٭٭٭
تقریب تقسیم انعامات کا انعقاد
علی گڑھ 5، ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ویمنس کالج اور عبداللہ ہال آف ریزیڈنس نے قومی کھیلوں کے دن کے موقع پر منعقدہ اوپن ڈسٹرکٹ ٹورنامنٹ کے فاتحین کے لئے تقسیم انعامات کی تقریب کا اہتمام کیا۔
پروفیسر نعیمہ خاتون، پرنسپل، ویمنس کالج اور ڈاکٹر غزالہ ناہید، پرووسٹ، عبداللہ ہال نے فاتحین اور رنر اپ کو میڈل اور اسناد تقسیم کئے۔
ٹیبل ٹینس کے کل 14 میچوں کے بعد پہلی پوزیشن ویمنس کالج نے حاصل کی، دوسری اور تیسری پوزیشن دہلی پبلک اسکول، علی گڑھ نے حاصل کی۔ بیڈمنٹن میں، لڑکیوں کے زمرے کے تحت، سینئر سیکنڈری اسکول (گرلز)، اے ایم یو فاتح بن کر ابھرا اور رنر اپ کا انعام اے ایم یو گرلز اسکول کو ملا۔
خواتین کے زمرہ کے تحت بیڈمنٹن میں ویمنس کالج فاتح رہا جبکہ عبداللہ ہال نے رنر اپ پوزیشن حاصل کی۔ والی بال میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ساتھ سخت مقابلے کے بعد ٹیم اسٹیڈیم نے پہلی پوزیشن حاصل کی، دوسری پوزیشن اے ایم یو اور تیسرا مقام تکارام انٹر کالج نے حاصل کیا۔
ڈاکٹر نازیہ خان، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسپورٹس، ویمنس کالج اور مہوش خان، گیمز سپروائزر، عبداللہ ہال نے شکریہ ادا کیا۔ تقریب کی نظامت سید اقصیٰ نے کی۔
٭٭٭٭٭٭
پیٹنٹ آگہی پر ویبینار 9 ستمبر کو
علی گڑھ، 5 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا انٹلیکچوئل پراپرٹی (آئی پی) سیل 9 ستمبر کو صبح 10:30 بجے اے ایم یو اور دیگر اداروں کے اساتذہ اور طلباء کے لیے ’نیپام‘ پیٹنٹ آگہی پروگرام پر ایک ویبینار منعقد کررہا ہے۔
ڈاکٹر رونق حسیب، رکن، آئی پی سیل نے کہا کہ مسٹر سوربھ ترویدی، بانی، آئی پی سمادھان اور ڈائریکٹر، اتارکسیا آئی پی، مہمان مقرر کے طور پر خطاب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اے ایم یو اور ہندوستان کے دیگر اداروں کے اساتذہ اور طلباء جو ویبینار میں شامل ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں، 6 ستمبر 2023 تک ویب لنک https://forms.gle/DujNiJZtVbYkNJH88 پر اپنا رجسٹریشن کر سکتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے ریسرچ اسکالرز کا بطور اسسٹنٹ پروفیسر انتخاب
علی گڑھ 5 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے گیارہ پی ایچ ڈی طلباء کو ٹریننگ و پلیسمنٹ آفس (جنرل) اے ایم یو کے زیر اہتمام ایک بھرتی مہم کے توسط سے ڈیمڈ یونیورسٹی، وگنان فاؤنڈیشن فار سائنس، ٹکنالوجی اینڈ ریسرچ، آندھرا پردیش نے اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر منتخب کیا ہے۔
ٹی پی اور مسٹر سعد حمید نے بتایا کہ منتخب امیدواروں میں انجنی کمار سنگھا (کمپیوٹر سائنس)، شبیر حسین (کمپیوٹر سائنس انجینئرنگ)، وسیم احمد میر (سی ایس ای)، عاشق حسین (ریاضی)، محمد اعظم (ریاضی)، ناصر حسین (ریاضی)، احسن محبوب (ریاضی)، محمد اسد (اپلائیڈ میتھ)، مرزا آدم (انگریزی)، رمیز احمد بھٹ (انگریزی) اور عامر (لسانیات) شامل ہیں۔
٭٭٭٭٭٭
چیئرمین مقرر
علی گڑھ، 5 ستمبر: جے این میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ آرتھوپیڈک سرجری کے پروفیسر عبدالقیوم خاں کو کو تین سال کی مدت کے لیے شعبہ کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔
جانسن اینڈ جانسن فیلو اور آرتھوپیڈکس میں اے این سریواستو ا وزٹنگ فیلو پروفیسر خان کو تدریس و تحقیق میں بیس برسوں کا تجربہ ہے اور انہوں نے قومی اور بین الاقوامی شہرت یافتہ جرائد میں 100 سے زائد مقالے شائع کیے ہیں۔
ان کی دلچسپی کے موضوعات میں جنرل آرتھوپیڈکس، ٹراما، آرتھوپیڈک آنکولوجی، آرتھروپلاسٹی اور پیلیاسیٹبولر سرجری شامل ہیں۔ انھیں 2010 میں یوپی او اے فیلوشپ اور 2019 میں یوپی او اے انٹرنیشنل فیلوشپ سے بھی نوازا گیا۔ وہ انڈین جرنل آف آرتھوپیڈکس میں سیکشن ایڈیٹر بھی ہیں۔
٭٭٭٭٭٭

 

Comments are closed.