آر ایل ڈی میں شامل ہونگے عمران مسعود؟جینت چودھری نے شروع کی کوششیں

دیوبند،5؍ ستمبر(سمیر چودھری؍بی این ایس)
کچھ دن پہلے بی ایس پی نے مغربی یوپی کے کنوینر عمران مسعود پر ڈسپلن اور پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں پارٹی سے نکال دیا تھا۔ عمران مسعود کو آر ایل ڈی میں شامل کرنے کے لیے جینت چودھری نے اپنی پوری طاقت لگادی ہے ۔ عمران مسعود کے بی ایس پی سے نکالے جانے کے بعدراشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) نے انہیں اپنی پارٹی میں لانے کے لئے کوششیں شروع کردی ہیں۔ آر ایل ڈی کے سربراہ جینت چودھری چاہتے ہیں کہ عمران مسعود آر ایل ڈی میں شامل ہوں، عمران مسعود کو آر ایل ڈی میں شامل کرکے جینت چودھری 2024 میں مغربی یوپی میں بڑا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ عمران مسعود کے آر ایل ڈی میں شامل ہونے سے آر ایل ڈی کو مغربی یوپی میں بڑا فائدہ مل سکتا ہے، کیونکہ عمران مسعود کی مغربی یوپی کے مسلمانوں پر مضبوط گرفت سمجھی جاتی ہے۔ کچھ دن پہلے بی ایس پی نے مغربی یوپی کے کنوینر عمران مسعود پر ڈسپلن اور پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں بی ایس پی سے نکال دیا تھا۔ بی ایس پی سے نکالے جانے کے بعد عمران مسعود بھی نئے گھر کی تلاش میں ہیں۔ یہ بحث چل رہی تھی کہ عمران مسعود کانگریس میں اپنے پرانے گھر جا سکتے ہیں، تاہم عمران مسعود نے اس پر فی الحال کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا۔ ساتھ ہی آر ایل ڈی نے بھی عمران مسعود کو پارٹی میں شامل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ جینت چودھری نے عمران مسعود کو آر ایل ڈی میں شامل کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دی ہے۔ آر ایل ڈی لیڈر مسلسل عمران مسعود سے رابطے میں ہیں۔ کئی بڑے رہنما فون پر عمران مسعود سے مسلسل رابطے میں ہیں، جب کہ کچھ رہنما ان سے ملنے سہارنپور میں ان کے گھر بھی پہنچے۔ پارٹی کے ایک عہدیدار اور ایک ایم ایل اے نے اتوار کی رات عمران مسعود کے ساتھ ان کے گھر پر طویل بات چیت کی، جو دو گھنٹے سے زیادہ تک جاری رہی۔ یہ دونوں لیڈر جینت چودھری کے خاص ہیں۔ پہلے بھی کئی لیڈرمل چکے ہیں، لیکن بعد میں جینت نے ان دونوں لیڈروں کو ذمہ داری سونپی۔ ان دونوں لیڈروں نے عمران مسعود کو آر ایل ڈی تنظیم میں بڑا عہدہ دینے اور لوک سبھا الیکشن لڑنے کی بات کی ہے۔ تاہم عمران مسعود نے ابھی تک ہاں نہیں کی۔ سیاسی حلقوں میں یہ بحث چل رہی ہے کہ آیا آر ایل ڈی عمران مسعود کو منانے میں کامیاب ہو جائے گی یا نہیں۔ اگر آر ایل ڈی لیڈر عمران مسعود کو آر ایل ڈی میں شامل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو عمران مسعود کو کیرانہ سے لوک سبھا کا امیدوار قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ عمران مسعود کو آر ایل ڈی میں بھی بڑا عہدہ دیا جا سکتا ہے۔ ایسا کرنے سے آر ایل ڈی مغربی یوپی میں بڑا پیغام دے گی۔ یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ عمران مسعود مسلمانوں کا ایک بڑا چہرہ ہیں اور مغربی یوپی میں عمران مسعود کی ان کے ووٹوں پر مضبوط گرفت ہے۔ آر ایل ڈی عمران مسعود کو اسٹار کمپینر بنا کر لوک سبھا انتخابات میں بھی میدان میں اتار سکتی ہے۔آر ایل ڈی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر راجکمار سنگوان کا کہنا ہے کہ عمران مسعود بڑے لیڈر ہیں، بات چیت کا دور چل رہا ہے۔ ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ عمران مسعود آر ایل ڈی میں شامل ہو جائیں، اگر ایسا ہوتا ہے تو یقیناً آر ایل ڈی کو 2024 میں مغربی یوپی میں بڑا فائدہ ہوگا۔ آر ایل ڈی یا کانگریس میں شامل ہونے کے چرچے پر عمران مسعود کا کہنا ہے کہ 10 ستمبر کو سہارنپور میں انہوں نے اپنے لوگوں کی میٹنگ بلائی ہے، بزرگ جو بھی کہیں گے میں اسی راستے پر چلوں گا، میں خود فیصلہ نہیں کر سکتا کہ کس پارٹی میں جاؤں لیکن کسی بھی پارٹی میں جانے کا فیصلہ میرے بزرگ کریں گے۔

Comments are closed.