معاون اردومترجم کے امیدواروں نے ایم ایل سی قاری صہیب کاشکریہ اداکیا

پٹنہ:20ستمبر(پریس ریلیز)
معاون اردومترجم کے امیدواروں نے راجدلیڈرجناب قاری صہیب صاحب رکن قانون سازکونسل بہارکاشکریہ اداکیاہے۔رکن قانون سازکونسل جناب قاری صہیب نے بہاراقلیتی کمیشن کوخط لکھ کراردوکے مسائل اٹھائے ہیں جن میں معاون اردومترجم کامعاملہ اہم ہے۔پی ٹی اورمینس رزلٹ کے بعدگزشتہ سال جولائی، اگست میں معاون اردومترجم کے ڈاکیومنٹ ویریفکیشن بھی ہوگئے لیکن بہاراسٹاف سلیکشن کمیشن نے اب تک فائنل لسٹ بلاوجہ روک رکھی ہے۔جب کہ ایک ماہ میں لسٹ آسکتی تھی اوراب بھی سرکارچاہے توایک دن میں لسٹ آسکتی ہے اورتقرری کی کارروائی شروع ہوسکتی ہے۔ یہ ویکنسی 2019میں آئی تھی۔چارسال ہوگئے، اب تک اس پرتقرری کاعمل پورانہیں ہوسکاہے۔قاری صہیب نے دیگرمسائل کے ساتھ خاص طورپرمعاون اردومترجم کامسئلہ اٹھایاہے۔اس کے لیے معاون اردو مترجم کے امیدواروں صدف جہاں،فیاض الدین،صفی الرحمن،انورعالم،نازیہ پروین، محمد فاضل، سرفراز احمد، صالحہ خاتون سمیت امیدوارشکرگزارہیں۔
امیدواروں نے کہاہے کہ قاری صہیب اردواوراقلیتی مسائل کے تئیں فکرمندرہتے ہیں اورانھوں نے قانون سازکونسل میں بھی کئی اہم مسائل اٹھائے ہیں۔انھوں نے معاون اردومترجم کامسئلہ اٹھایاہے،اگرالیکشن سے پہلے اسے حل نہ کیاگیااورتقرری کاعمل مکمل نہ کرایاگیاتویہ عظیم اتحادحکومت کے لیے دردسربن جائے گااوراس کے مسلم لیڈروں کے پاس جواب دینے کے لیے کچھ نہیں ہوگا۔اس لیے سرکارمداخلت کرکے معاون اردومترجم کی فائنل لسٹ جاری کرائے۔ا س سے حکومت کی بدنامی ہورہی ہے۔امیدواروں نے یہ بھی کہاہے کہ جوامیدوارجنرل کے ہیں یااوبی سی کے وہ امیدوارجن کے پاس پرانااین سی ایل ہے اورجوامیدوارای ڈبلیوایس کے ہیں اوران کے پاس 4دسمبر2019سے پہلے کاڈاکیومنٹ ہے،ان کی فہرست جاری کرنے میں کوئی تکنیکی دشواری نہیں ہے۔جس طرح بی پی ایس سی،پرائمری اساتذہ امتحان میں بی ایڈوالوں کارزلٹ روک کرصرف ڈی ایل ایڈوالوں کارزلٹ دے رہاہے اسی طرح بی ایس ایس سی بھی نئے این سی ایل والوں کارزلٹ روک کرکم ازکم ان لوگوں کی لسٹ جاری کرے جوبی ایس ایس سی کے نوٹیفکیشن کے مطا بق ہیں۔یاپھربی ایس ایس سی اپنے 2019اور2022کے نوٹیفکیشن کے مطابق سبھی لسٹ جاری کردے اورجن کے پاس پرانااین سی ایل نہیں ہے ان کوباہرکرکے دوسرے لوگوں کوموقع دے جس طرح اس نے اردومترجم کے مسئلہ میں کارروائی کی۔یہ بی ایس ایس سی کے رول کے مطابق ہوگااوراس میں کوئی دشواری نہیں ہے۔جولوگ نئے این سی ایل کی منظوری کامطالبہ لے کرکورٹ گئے ہیں ان کاکیس بہت کمزورہے،وہ صرف بحالی کولٹکاناچاہتے ہیں جس سے ہزاروں امیدواروں اوراردوکانقصان ہورہاہے۔اس لیے یاتوبی ایس ایس سی اپنے 2019کے نوٹیفکیشن کے مطابق اردومترجم کی طرح معاون اردومترجم کی لسٹ جاری کرے یاپھرکم ازکم ان لوگوں کی لسٹ جاری کرے جن کے ساتھ نئے این سی ایل کامسئلہ نہیں ہے۔یعنی جوجنرل امیدوارہیں یاای ڈبلیوایس کے وہ امیدوارجن کے پاس 4دسمبر2019سے پہلے کا(بی ایس ایس سی کی شرط کے مطابق)ای ڈبلیوایس سرٹیفکیٹ ہے یااوبی سی کے وہ امیدوارجن کے پاس بی ایس ایس سی کی شرط کے مطابق پرانااین سی ایل ہے۔
امیدواروں نے مزیدکہاہے کہ وزیراعلیٰ،نائب وزیراعلیٰ کواس مطالبہ پرتوجہ دینی چاہیے۔ا س سے قبل امارت شرعیہ کے ناظم جناب مولاناشبلی القاسمی اوربہاراقلیتی کمیشن کے سربراہ جناب ریاض الحق عرف راجونے بھی خط لکھ کروزیراعلیٰ،نائب وزیراعلیٰ اوردیگرذمہ داروں کوتوجہ دلائی تھی لیکن حکومت اردوکے مسائل کے تئیں بالکل سنجیدہ نہیں ہے۔ایساتاثرعام ہورہاہے کہ حکومت اردواوراقلیتوں کے ساتھ انصاف نہیں کررہی ہے۔اس سے بہارحکومت کی اچھی شبیہ نہیں بن رہی ہے۔ اگر اسے مسلم ووٹ چاہیے تو اردوکے مسائل حل کرنے ہوں گے۔امیدواروں نے ایک بارپھرقاری صہیب ایم ایل سی بہار،امارت شرعیہ اوربہاراقلیتی کمیشن کاشکریہ ادا کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ وہ محترم وزیراعلیٰ اوربہاراسٹاف سلیکشن کے سربراہ سے ملاقات کرکے بھی معاون اردومترجم کامسئلہ حل کرانے کی کوشش کریں،حل بہت آسان ہے۔اورحکومت چاہے تو ایک دن میں یہ کرسکتی ہے اورایک دن میں لسٹ جاری ہوسکتی ہے لیکن خواہ مخواہ لسٹ روک کررکھی گئی ہے۔یہ اردوکے ساتھ سراسرظلم ہے اوراقلیتوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔

Comments are closed.