دیندار طبقہ بے دین افراد سے ہمدردانہ دوستی کا سلسلہ جاری رکھے: غیاث احمد رشادی
بیدر، مناکھیلی، چنچولی کے سہ روزہ دورہ سے صدر منبر و محراب فاؤنڈیشن کا خطاب
حیدرآباد(پریس ریلیز)ملک کے بدلتے حالات میں اگر ملت کا وہ تیس فیصد طبقہ جو دین اسلام سے جڑا ہوا ہے اور جس کا رشتہ اسلامی شریعت سے مضبوط ہے اس حساس طبقہ کی یہ اہم ترین ذمہ داری ہے کہ وہ ملت کے اس ستر فیصد طبقہ سے ہمدردانہ تعلقات قائم کرے جو بے دینی کی زندگی پر مطمئن اور غرق ہے اور جس طبقہ کا نہ قرآن مجید سے رشتہ ہے اور نہ صاحبِ قرآن سے ، نہ دین و ایمان سے رشتہ ہے اور نہ مسجد اور مدرسہ سے۔ اگر تیس فیصد دیندار طبقہ میں یہ شعور جاگ جائے اور وہ اس بے دین اکثریتی طبقہ کے قریب ہوجائے اور اس طبقہ سے دوستی کرنے کی ہمت پیدا کرے اور اس طبقہ کے ساتھ نبوی طرز پر ہمدردانہ سلوک کرنے لگ جائے تو وہ دن دور نہیں کہ یہ ستر فیصد طبقہ بھی دین سے مانوس ہوجائے گا۔ ان خیالات کا اظہار مولانا غیاث احمد رشادی نے چندا پور چنچولی کی وسیع ترین مدینہ مسجد میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اور چلو! کچھ تدبیر کریں کچھ کام کریں سے متعلق پندرہ نکاتی پروگرام کے مقصد سے آگاہ کیا اور سینکڑوں کی تعداد میں موجود شرکاء سے کہا کہ اگر حاضرین میں سے ہر شخص یہ عزم مصمم کرے کہ وہ ہر دن ایک بے دین فرد سے ملاقات کرے گا تو ہزاروں لوگوں کو دیندار بنانے میں کامیاب ہوسکے گا۔ اس اجلاس میں مولانا نذیر احمد رشادی صدر منبر و محراب فاؤنڈیشن کرناٹک نے پندرہ نکاتی پروگرام کو تفصیل کے ساتھ پروجیکٹر کے ذریعہ پیش کیا اور لوگوں کے ضمیروں کو جھنجوڑا۔ کیرانہ یوپی سے تشریف لائے مولانا محفوظ الرحمن صاحب نے کہا کہ آج ہر گاؤں اور ہر محلہ میں نوجوان لڑکیوں اور عورتوں کو دین سے جوڑے رکھنے کیلئے مراکز نسوان کا قیام ناگزیر ہے۔ واضح ہوکہ منبر و محراب فاؤنڈیشن کے قومی صدر مولانا غیاث احمد رشادی گزشتہ چار مہینوں سے اپنی نئی تحریک چلو! کچھ تدبیر کریں کچھ کام کریں کو عوام و خواص میں متعارف کرنے کیلئے ملک گیر سطح پر اسفار پر ہیں۔ سورت، سہارنپور، دیوبند، کریم نگر، گلبرگہ، عادل آباد، آصف آباد، بھینسہ اور نرمل وغیرہ کے اسفار سے فراغت کے بعد ان دنوں بیدر اور اس کے اطراف و اکناف کے دوروں پر ہیں اوراپنے اسفار کے ذریعہ ملت کے مختلف طبقات سے ملاقات کرتے ہوئے ملک کے موجودہ حالات اور درپیش چیلنجس کے سلسلہ میں لوگوں میں شعور بیدار کررہے ہیں۔ مولانا غیاث احمد رشادی نے اپنی متحرک ٹیم کے ذریعہ 17، 18 اور 19 ستمبر کو ضلع بیدر کا دورہ کیا۔ 17 ستمبر کو پیس فیڈریشن آف انڈیا کے تحت منعقدہ مسابقۂ ناظرہ قرآن میں حصہ لیااور والدین کو اپنی اولاد کی صحیح تربیت کی ترغیب دی۔ جامع مسجد بیدر میں بعد نماز ظہر شہرکے خواص اور عمائدین سے خطاب کیا اور ملک کے بدلتے حالات میں جن منصوبوں اور عملی طورپر اقدامات کی ضرورت ہے اس پر زور دیا۔ بعد نماز مغرب اجلاس عام سے بھی خطاب کیا اور پندرہ نکاتی تحریک سے متعلق اہم امور سے عوام و خواص کو آگاہ کیا۔ 18 ستمبر کو گلشن فاطمہ میں مقامی علماء کرام سے مولانا رشادی نے خطاب کیا اور صفا بیت المال کے تحت قائم ٹیلرنگ سنٹرس کی ایک سو سے زائد تربیت یافتہ خواتین میں خطاب کیا اور اسنادات تقسیم کئے۔ اس دن شاہین اسکول و کالج کے چار ہزار طلبہ اور چھ ہزار طالبات سے ایک گھنٹہ تربیتی خطاب کیا اور دیگر چھ ہزار طالبات کو آن لائن خطاب کیا۔ بعد ازاں شاہین اسکول کے اقامتی نظام کا جائزہ لیا۔ جناب ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب نے مولانا کی شال پوشی کی۔ بعد نماز عشاء مناکھیلی کی جامع مسجد میں پندرہ نکاتی پروگرام سے متعلق اجلاس عام منعقد ہوا جس میں مولانا نذیر رشادی اور مولانا محفوظ الرحمن قاسمی کے علاوہ مولانا غیاث احمد رشادی نے خطاب کیا۔ اس اجلاس میں کثیر تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ 19 ستمبر کو مولانا رشادی نے مدرسہ تجویدالقرآن کے شعبۂ حفظ کا جائزہ لیا اور چنچولی کی مدینہ مسجد میں خطاب کیا۔ مولانا کے ساتھ اس سہ روزہ دورہ میں مولانا مختار احمد رشادی اور حافظ عاشق الٰہی بھی موجود تھے۔
Comments are closed.