مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
سرسید ہال (ساؤتھ) میں سالانہ تقریب کا اہتمام
علی گڑھ، 20 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سرسید ہال (ساؤتھ) کے اسٹریچی ہال میں سالانہ ہال تقریب کا اہتمام کیا گیا۔
ہال کے پرووسٹ ڈاکٹر فاروق احمد ڈار نے اپنے ابتدائی خطاب میں طلباء کو یونیورسٹی کی روایات پر عمل کرنے کی ترغیب دی اور سالانہ ہال فنکشن کے مقاصد کا ذکر کیا۔
تقریب کی صدارت اجمل خان طبیہ کالج میں فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کے ڈین پروفیسر عبید اللہ خاں نے کی۔ انھوں نے ہال انتظامیہ اور آرگنائزنگ ٹیم کی ستائش کرتے ہوئے انسانی اقدار کی اہمیت اور علمی روایات کے تحفظ پر زور دیا۔
مہمان خصوصی، پروفیسر رضوان خان، شعبہ انگریزی، اے ایم یو نے یونیورسٹی کی مخصوص روایات پر روشنی ڈالی اور طلباء کو شخصیت کی نشوونما اور کریئر پر خاص توجہ دینے کی تلقین کی ۔
اے ایم یو میں اردو اکیڈمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر زبیر شاداب خان نے طلباء کے مستقبل کی تعمیر میں تعلیم اور روایت کی اہمیت پر زور دیا۔
سینئرہال مسٹر احتشام الاسلام خان نے سبھی حاضرین کا خیرمقدم کیا ۔ انہوں نے ہال کی سالانہ رپورٹ پیش کی اور تقریب کو کامیاب بنانے کے لئے عہدیداران اور انتظامیہ کمیٹی کا شکریہ ادا کیا ۔
٭٭٭٭٭٭
ایم ایس ڈبلیو کے طلباء کے اورینٹیشن پروگرام کی تکمیل
علی گڑھ، 20 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سوشل ورک شعبہ میں ایم ایس ڈبلیو (ماسٹر آف سوشل ورک) کے نئے طلباء کا 28واں اورینٹیشن پروگرام کامیابی کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔ اختتامی تقریب فیکلٹی آف آرٹس میں منعقد ہوئی۔
مہمان خصوصی جناب محمد عمران آئی پی ایس،رجسٹرار، اے ایم یو نے طلباء و طالبات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ سوشل ورک کا کورس انھیں مختلف مہارتوں سے آراستہ کرے گا اور پیچیدہ عالمی چیلنجوں سے نپٹنے کے لئے انھیں تیار کرے گا ، چنانچہ انھیں سنجیدگی کے ساتھ یہ کورس مکمل کرنا چاہئے۔
انھوں نے صحت عامہ اور کارپوریٹ سماجی ذمہ داری میں سوشل ورک کے اہم کردار کا ذکر کرتے ہوئے کریئر میں آگے بڑھنے میںٹکنالوجی کے اہم کردار پر بھی زور دیا اور طلباء کو پیشہ ور سوشل ورکر بننے کے لئے سنجیدہ کوششیں کرنے کی تلقین کی۔
شعبہ سوشل ورک کے چیئرپرسن پروفیسر نسیم احمد خاں نے پروگرام کے کامیاب اختتام پر جناب محمد عمران کے تعاون کے لئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب میں شرکاء، منتظمین اور ریسورس پرسنس کو اسناد بھی پیش کی گئیں۔
شعبہ سوشل ورک کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خاں نے نظامت کے فرائض انجام دئے ۔ ایم ایس ڈبلیو فرسٹ سمسٹر کی طالبہ مدیحہ فاطمہ نے شکریہ کے کلمات ادا کئے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو استاد کوباوقار ریسرچ فیلوشپ سے نوازا گیا
علی گڑھ، 20 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایڈوانسڈ سینٹر فار ویمنس اسٹڈیز کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر جوہی گپتا کو برمنگھم یونیورسٹی نے انڈیا انسٹی ٹیوٹ ویمن اِن ریسرچ فیلوشپ سے نوازا ہے۔ یہ فیلوشپ خاتون محققین کو بنیادی تحقیق کے لئے دی جاتی ہے۔
اس فیلوشپ کے لیے ڈاکٹر گپتا کا انتخاب نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ اے ایم یو کے لیے بھی گرانقدر ہے، کیونکہ آئی آئی ٹی اور بمبئی یونیورسٹی کے محققین کے بعد یہ فیلوشپ حاصل کرنے والی وہ تیسری خاتون ریسرچر ہیں۔ مزید برآں، سوشل سائنسز کے میدان سے یہ فیلوشپ حاصل کرنے والی وہ پہلی خاتون ہیں جو اے ایم یو کے تحقیقی امتیاز و تنوع کو ظاہر کرتا ہے۔
ایڈوانسڈ سنٹر فار ویمنس اسٹڈیز کی ڈائریکٹر پروفیسر عذرا موسوی نے ڈاکٹر جوہی گپتا کو مبارکباد دیتے ہوئے خواتین کے اہم مسائل کو حل کرنے میں انٹرڈسپلینری تحقیق کی اہمیت پر زور دیا۔ انھوں نے کہاکہ اس فیلوشپ کے دوران ڈاکٹر گپتا کی تحقیق، صنفی حرکیات کے بارے میں نئے پہلوؤں کو سامنے لائے گی جو ممکنہ طور پر پالیسی سازی میں مددگار ثابت ہوگی۔
٭٭٭٭٭٭
احمدی اسکول کے طلباء نے ڈراماپیش کیا
علی گڑھ، 20 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے احمدی اسکول کے طلباء نے حال ہی میں جی 20 سربراہی اجلاس کے موضوع کے تحت ماحولیاتی تحفظ، صحت، صفائی اور پانی کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ایک خصوصی پروگرام کے تحت ایک ڈراما پیش کیا۔
پرنسپل ڈاکٹر نائلہ راشد نے کہا کہ طلباء نے مسحور کن موسیقی کے ساتھ ڈراما پیش کیااور اپنی صلاحیتوں سے متاثر کرتے ہوئے ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت اجاگر کی۔
٭٭٭٭٭٭
انفراسٹرکچر سیفٹی آڈیٹنگ سسٹم پر تربیتی پروگرام کا انعقاد
علی گڑھ، 20 ستمبر: ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سول انجینئرنگ نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزاسٹر مینجمنٹ (این آئی ڈی ایم)، وزارت امور داخلہ، حکومت ہند کے تعاون سے جی 20 کے ذیلی موضوع ’ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن‘ کے تحت ’انفراسٹرکچر سیفٹی آڈیٹنگ سسٹم‘ پر 3 روزہ مختصر مدتی تربیتی پروگرام کا اہتمام کیا۔
اپنے افتتاحی خطاب میں مہمان خصوصی،اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز نے ملک میں بنیادی ڈھانچے کی صحت و سلامتی کے مسئلے پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ سول انجینئرز کے کردار کو دیگر متعلقہ شعبوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عمارتوں کو پائیدار بنانے کے لیے تعمیرات اور جیو اسپاشیئل ٹکنالوجی کے درمیان خلیج کو ختم کیا جا سکے۔
انہوں نے اے ایم یو کیمپس میں مختلف عمارتوں کا حوالہ دیتے ہوئے جن میں سے کچھ اپنی ڈیزائن کردہ مدت سے زیادہ قدیم ہوچکی ہیں کہا کہ ان عمارتوں کی حفاظت و سلامتی کا جائزہ لینے کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے اے ایم یو کو مالی تعاون دینے کے لیے این آئی ڈی ایم کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ تربیتی پروگرام ،یونیورسٹی اور پی ڈبلیو ڈی سے تعلق رکھنے والے انجینئروں و ماہرین کے درمیان مفید علمی تبادلے میں مددگار ہوگا۔
این آئی ڈی ایم کے کنوینر پروفیسر چندن گھوش نے پروگرام کے موضوع کا تعارف کرایا اور این آئی ڈی ایم کی سرگرمیوں کا اجمالی تذکرہ کیا۔ انہوں نے 1988 سے امریکہ میں نافذ بنیادی ڈھانچے کی درجہ بندی کے نظام کا بھی ذکر کیا، جس میں سول انجینئرنگ کے ماہرین کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ آفات سے پہلے اور بعد میں تعمیراتی سہولیات اور ڈھانچوں کی صحت کی جانچ کے عمل کو ترجیحی بنیادوں پر اپنانے کی ضرورت ہے کیونکہ سول انجینئرنگ پروجیکٹوں میں آج بھی طریقہ کار کی کوتاہیاں موجود ہیں۔ انہوں نے اے آئی کی مدد سے ڈیزائن اور تعمیراتی نگرانی پورٹل کا استعمال کرتے ہوئے ڈجیٹل تعمیراتی ٹکنالوجی کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
کورٹیکس سلوشن، نئی دہلی کے انجینئر مسٹر منیش بھارتی نے مختلف ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے تعمیراتی ڈھانچوں کی جانچ کے بارے میں گفتگو کی۔
اس سے قبل صدر شعبہ پروفیسر آئی ایچ فاروقی نے حاضرین کا خیرمقدم کیا اور پروگرام کے مقاصد بیان کئے۔
پروفیسر ایم التمش صدیقی، ڈین، فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈٹکنالوجی اور پروفیسر ایم سفیان بیگ، پرنسپل ، ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی بطور مہمان اعزازی موجود تھے۔
آرگنائزنگ سکریٹری پروفیسر ریحان اے خاں نے اظہار تشکر کیا۔
٭٭٭٭٭٭
ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دینے کے لیے شجرکاری مہم
علی گڑھ، 20 ستمبر: ماحولیاتی بیداری اور سرسبز مستقبل کے عزم کے ساتھ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بیگم عزیز النساء ہال اور پرانی چنگی کے قریب لال زار کوٹھی کے سامنے شجر کاری مہم کا انعقاد کیا گیا۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے اپنی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کی سرگرمی کے تحت اے ایم یو کے لینڈ اینڈ گارڈن شعبہ کے اشتراک سے اس مہم کا اہتمام کیا۔
مہمان خصوصی جناب امیت ناتھ جھا (ریجنل منیجر، ایس بی آئی، آر بی او 4، علی گڑھ) نے سرسبز اور زیادہ پائیدار ماحول پیدا کرنے میں سی ایس آر سرگرمیوں کی اہمیت پر زور دیا۔
مہمان خاص پروفیسر محمد محسن خان (فنانس آفیسر، اے ایم یو) نے کہا کہ آج لگائے گئے پودے نہ صرف ہوا کے معیار کو بہتر بنائیں گے اور سایہ فراہم کریں گے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے دیرپا میراث بھی چھوڑیں گے۔ شجرکاری مہم کی کامیابی سرسبز و شاداب کیمپس اور ماحولیاتی پائیداری کے لیے کمیونٹی کی لگن کی نشاندہی کرتی ہے۔
پروفیسر ذکی انور صدیقی، ممبر انچارج، شعبہ لینڈ اینڈ گارڈن نے شجر کاری مہم میں جوش و خروش کے ساتھ شمولیت کیلئے سبھی کا شکریہ ادا کیا۔
یہ مہم ایس بی آئی کی ماحولیات کے تئیں مثبت مہم اور شجرکاری کو فروغ دینے کی کاوشوں کا حصہ ہے ۔ فرخ شمیم (چیف منیجر، ایس بی آئی، اے ایم یو برانچ)، عمر پیرزادہ (پی آر او، اے ایم یو)، لیلا سمن (ڈپٹی برانچ منیجر، ایس بی آئی، اے ایم یو برانچ)، قائم مقام پرووسٹ اور بیگم عزیز النساء ہال کے عملہ کے اراکین، مسٹر شہاب الدین خان (ہارٹیکلچرسٹ منیجر) اور لینڈ اینڈ گارڈن شعبہ کے عملہ کے اراکین نے اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
ڈاکٹر طارق آفتاب (ایسوسی ایٹ ممبر انچارج) نے بتایا کہ ایس بی آئی کی طرف سے ہفتہ بھر کی شجرکاری مہم کے دوران 1700 سے زیادہ پودے لگائے جائیں گے۔
٭٭٭٭٭٭
ہیماٹولوجی پراے ایم یو میں بین الاقوامی سی ایم ای کا آغاز
علی گڑھ، 20 ستمبر: ’’ہیماٹو پیتھولوجی انسانی جسم کے متعدد اعضاء کے نظاموں کو متاثر کرنے والی بیماریوں کے وسیع میدان کو سمجھنے،ان کی تشخیص اور علاج میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے‘‘۔ یہ باتیں پروفیسر باکل دلال، یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا، وینکوور، کینیڈا (صدر، ایسوسی ایشن آف انڈین پیتھالوجسٹ اِن نارتھ امریکہ) نے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ پیتھالوجی کے زیر اہتمام ہیماٹولوجی پر دو روزہ بین الاقوامی سی ایم ای کے افتتاحی اجلاس میں کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہیں۔
پروفیسر دلال نے کہا کہ ہیماٹو پیتھولوجی مسلسل ترقی کر رہی ہے اور اس میں تحقیق و اختراع کے نئے پہلو سامنے آرہے ہیں۔ انھوں نے ایک کروڑ روپے سے زائد مالیت کی مشین شعبہ پیتھالوجی کو عطیہ کرنے کا بھی وعدہ کیا جس سے خون کی بیماریوں اور کینسر کی تشخیص میں مدد ملے گی۔
افتتاحی اجلاس کے مہمان خصوصی جناب محمد عمران، آئی پی ایس، رجسٹرار، اے ایم یو نے کہا کہ ہیماٹولوجی بیماریوں اور ان کے حالات کے وسیع دائرے کا احاطہ کرتی ہے جو مہلک اور غیر مہلک دونوں بیماریوں سے متعلق ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بہتر تشخیصی تکنیکوں کی دریافت سے اس بارے میں ہماری سمجھ بہتر ہوئی ہے اور یہ شعبہ مسلسل ترقی کررہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو طلباء ہیماٹولوجی میں دلچسپی رکھتے ہیں ان کے پاس مختلف قسم کے کریئرہیں ۔یہ سی ایم ای شرکاء کو خیالات کے تبادلے، نئے مواقع تلاش کرنے اور ان کے علم کو وسیع کرنے میں بہت مددگار ہوگی۔
پروفیسر وینا مہیشوری، ڈین، فیکلٹی آف میڈیسن نے کہا کہ ہیماٹولوجی بہت کارآمد شعبہ ہے، جس میں مریضوں کی دیکھ بھال اورجان لیوا بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی مدد کرنے کا موقع ہے۔ پروفیسر مہیشوری نے کہا کہ ہیماٹولوجی کے شعبے میں پیش رفت نے مریضوں کا علاج کرنے یا ان کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں ہیماٹولوجسٹوں کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کے ساتھ ساتھ بیرون ملک کے مختلف مراکز سے متعلقہ شعبوں کے نامور ماہرین اس کانفرنس میں اپنی قیمتی گفتگو اور تجربوں سے شرکاء مستفید کریں گے۔
پروفیسر حارث منظور خاں، پرنسپل اور سی ایم ایس نے کہا کہ ہیماٹولوجی ایک دلچسپ شعبہ ہے جس میں جدید دریافتیں جان لیوا ہیماٹولوجک امراض میں مبتلا مریضوں کے لئے بہت مفید و مؤثر ہیں۔
آرگنائزنگ چیئرمین پروفیسر محبوب حسن نے کہا کہ اس سی ایم ای کا انعقاد ہیماٹولوجی کے معروف ماہرین کے ساتھ مل کر کیا گیا ہے۔ پوسٹ گریجویٹ طلباء اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اپنے علم میں اضافہ کر سکتے ہیں اور اس شعبے کے نامور ماہرین کے ساتھ مکالمے کے ذریعے تازہ ترین رجحانات پر تبادلہ خیال کر سکتے ہیں۔
سی ایم ای کی آرگنائزنگ سکریٹری پروفیسر نشاط افروز نے کہا کہ لیکچرز اور مباحثے خاص طور پر ہیماٹولوجسٹ، کلینشین بشمول امراض اطفال کے ماہرین اور متعلقہ افراد کے لیے فائدہ مند ہوں گے ۔
مہمان اعزازی پروفیسر سمیت گجرال، ٹاٹا میموریل اسپتال، ممبئی نے جے این میڈیکل کالج کے ریزیڈنٹس کو ٹاٹا میموریل اسپتال، ممبئی کا دورہ کرنے کی دعوت دی اور انھیں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا یقین دلایا۔
سی ایم ای کی آرگنائزنگ سکریٹری پروفیسر روبینہ خان نے شکریہ کی تجویز پیش کی جبکہ معاون آرگنائزنگ سکریٹری ڈاکٹر بشریٰ صدیقی نے پروگرام کی نظامت کی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو پروفیسر نے این ای پی پر خطاب کیا
علی گڑھ، 20 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ کامرس کے پروفیسر نواب علی خاں نے ’قومی تعلیمی پالیسی 2020 اور اس کے اعلیٰ تعلیمی اداروں پر اثرات‘ موضوع پر ایک پروگرام میں یونیورسٹی اور کالج کے اساتذہ سے خطاب کیا اور نیشنل اسسمنٹ اینڈ ایکریڈیشن کونسل ، نیشنل بورڈ آف ایکریڈیشن اور این آئی آر ایف رینکنگ اور اسسمنٹ پر گفتگو کی۔ پروگرام کا اہتمام یوجی سی – ایچ آرڈی سی ، جے نارائن ویاس یونیورسٹی، جودھپور نے کیا تھا۔
پروفیسر خان نے قومی تعلیمی پالیسی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کی اہم خصوصیات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ہندوستانی تعلیم کے بدلتے ہوئے منظر نامے اور اس تناظر میں اسسمنٹ اور رینکنگ کی اہمیت کو بیان کیا۔
انہوں نے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے معیار کو یقینی بنانے میں اسسمنٹ اور ایکریڈیشن کی اہمیت کی وضاحت کی، جسے قومی تعلیمی پالیسی میں بھی واضح کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کی این اے اے سی اور این بی اے کے اسسمنٹ اور این آئی آر ایف کی درجہ بندی سے طلباء اور ان کے سرپرستوں کو اعلیٰ تعلیمی اداروں کا بہتر طریقہ سے انتخاب کرنے میں کافی مدد ملتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کی سرکاری زبان (ہندی) عملدرآمد کمیٹی کے زیر اہتمام ’ہندی ہفتہ‘ کی تقریبات کی تکمیل
علی گڑھ، 20 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طرف سے سرکاری زبان (ہندی) عملدرآمد کمیٹی کے زیراہتمام منعقدہ ہندی ہفتہ کی اختتامی تقریب کے موقع پر کلیدی مقرر، مشہور ناول نگار بھگوان داس موروال نے کہا کہ ہندی کی طاقت لوک زبانیں ہیں۔ اگر لوک زبانوں کو ہٹا دیا جائے تو ہندی کی شکل و صورت بدل جائے گی۔
مسٹر موروال نے کہا کہ انسان جس زبان میں سوچتا ہے، وہ زبان جس میں وہ خواب دیکھتا ہے وہ اس کی مادری زبان ہے، اور صرف مادری زبان میں لکھا ہوا ادب ہی لازوال ہے۔ نہ صرف ادب کے میدان میں بلکہ سینما کے میدان میں بھی وہی سینما لازوال ہوتا ہے جو لوک ثقافت اور لوک موسیقی کی عکس بندی کرتاہے۔انھوں نے کہا کہ ہندی ہفتہ کے نام پر ہم لوک زبانوں پر کھل کر بات کرتے ہیں، یہی ہندی کی طاقت ہے۔
اے ایم یو کے فنانس آفیسر پروفیسر محمد محسن خان نے کہا کہ آج یونیورسٹی میں پہلے کے مقابلے ہندی میں زیادہ کام ہو رہا ہے۔ یہ ہندی کی ہی طاقت ہے کہ شعبہ کمپیوٹر سائنس، شعبہ فزکس، شعبہ ریاضی، عربی اور اردو اور شعبہ تعلیم کے طلباء و طالبات نے بھی ہفتہ بھر جاری رہنے والی تقریبات اور مقابلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی ہندی کی ترقی کے لیے ہر طرح کی مالی مدد فراہم کرنے کے لیے پابند عہد ہے۔
اپنے صدارتی خطاب میں اے ایم یو کے ڈی ایس ڈبلیو پروفیسر عبدالعلیم نے ہندی ہفتہ کے مختلف مقابلوں میں شرکت کرنے والے سبھی لوگوں کو مبارکباد پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ ہندی کے ساتھ ساتھ دیگر ہندوستانی زبانوں کی ترقی پر بھی زور دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آج مادری زبان میں تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ مادری زبان میں تعلیم دینے سے ہی ملک کی ترقی میں تیزی آئے گی۔
پروگرام کے مہمان خاص، ڈین ،فیکلٹی آف آرٹس، پروفیسر عارف نذیر نے مقابلوں میں انعامات حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ہندی ذخیرہ الفاظ بہت بھرپور ہے اور آج ہندی کو مختلف مضامین میں استعمال کیا جانا چاہئے۔
مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے سرکاری زبان (ہندی) عملدرآمد کمیٹی کے سکریٹری پروفیسرعاشق علی نے کہا کہ ہندی میں کام بڑھانے کی ضرورت ہے، ہندی صرف ادب کی زبان نہیں ہے، یہ لوگوں کی زبان ہے۔ انہوں نے طلباء کو ہندی ترجمہ کے میدان میں کریئر بنانے کی ترغیب دی۔
پروگرام کے کوآرڈینیٹر ڈپٹی ڈین اسٹوڈنٹ ویلفیئر پروفیسر ایم شاہ الحمید نے ہفتہ بھر جاری رہنے والے پروگراموں کی تفصیلات پیش کیں اور جیتنے والوں کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مختلف مقابلوں میں 250 شرکاء نے حصہ لیا اور 48 فاتحین کو انعامات دئیے گئے۔
پروفیسر تسنیم سہیل نے شکریہ کے کلمات ادا کئے ، جب کہ پروگرام کی نظامت پروفیسر شمبھوناتھ تیواری نے کی۔
اس موقع پر مضمون نویسی، خطوط نویسی، اصطلاحات کے علمی مقابلے اور فی البدیہہ تقریرکے مقابلوں کے فاتحین کو یادگاری نشان اور اسناد دی گئیں۔
مضمون نویسی میں ملازمین کے زمرہ میں راہل پاریک کو پہلا، فہمینہ نفیس کو دوسرا اور دیوش اگروال کو تیسرا انعام دیا گیا۔ ریسرچر زمرہ میں نسرین بانو، ثنا فاطمہ اور محمد دانش کو بالترتیب اول، دوم اور سوم انعام دیا گیا۔ پوسٹ گریجویٹ زمرہ میں شیلیندر پرتاپ سنگھ، کرشن کانت شرما اور صابر خان اور انڈر گریجویٹ زمرہ میں عاقل حسین، پریہ اپادھیائے اور نوشین خان کو بالترتیب پہلا، دوسرا اور تیسرا انعام دیا گیا۔
خطوط نویسی کے مقابلے میں ملازمین کے زمرہ میں ساجد علی، محمد شاہنواز، محمد علی، ریسرچر کے زمرہ میں قیوم علی، سلمیٰ اشفاق، شریف الحسن، پوسٹ گریجویٹ زمرہ میں عثمان احمد، عادل حسین، محمد زید اور گریجویٹ زمرہ میں ام ورقہ، محمد عالم خان اور عاقب خان کو بالترتیب پہلا، دوسرا اور تیسرا انعام دیا گیا۔
اصطلاحات کے علمی مقابلے میں ملازمین کے زمرہ میں راہل پاریک، سنجے شرما، ساجد علی، ریسرچر زمرہ میں نسرین بانو، قیوم علی، گورو یادو، پوسٹ گریجویٹ زمرے میں شیلیندر پرتاپ سنگھ، محمد حسن اور ابھیناش کمار اور گریجویٹ زمرہ میں شاداب عالم ، حبیب الرحمٰن اور پریہ اپادھیائے کو بالترتیب پہلا، دوسرا اور تیسرا انعام دیا گیا۔
تقریری مقابلے میں ملازمین کے زمرہ میں اقرار علی، محمد ارشاد، سنجے شرما، ریسرچر زمرہ میں گورو یادو، آشوتوش، محمد تسلیم، پوسٹ گریجویٹ زمرہ میں مجاہد حسین، مناظر خان اور ابھیناش کمار اور گریجویٹ زمرہ میں پریتی یادیو، مبرور اشرف اور حبیب الرحمان کو بالترتیب پہلا، دوسرا اور تیسرا انعام دیا گیا۔
Comments are closed.