اے پی سی آر اُترکنڑا وفد کا کاروار جیل دورہ، ایک شخص کو دلائی گئی رہائی
بھٹکل:22 ستمبر (پریس ریلیز) اسوسی ایشن فور پروٹیکشن آف سیویل رائٹس (اے پی سی آر) کے ایک وفد نے گذشتہ روز کاروار ڈسٹرکٹ جیل کا دورہ کرتے ہوئے جیل کے اعلیٰ حکام سمیت قیدیوں سے بھی بات چیت کی تھی، جس کے بعد جیل میں تین ماہ سے بند ایک قیدی کو جرمانہ ادا کرکے رہائی دلائی گئی ہے۔
دھارواڑ سے تعلق رکھنے والا محمد صادق موبائل چوری کے معاملے میں جیل میں بند تھا اور تین ماہ سے جرمانہ کی رقم نہ بھرنے کی وجہ سے رہانہیں ہوپارہا تھا، جیلر سے ضروری معلومات حاصل کرکے اے پی سی آر کی طرف سے جرمانہ ادا کردیا گیا اور پانچ چھ دن تک چلی کاغذی کاروائیوں کے بعد اب صادق جیل سے باہر آگیا ہے۔
اے پی سی آر کے کارگزار ضلعی سکریٹری مولانا محمد امین رکن الدین ندوی کی قیادت میں اے پی سی آر وفد جب جیل پہنچا تو اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولس ایرّنا بی رنگاپور نے وفدکا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے جیل کے قیدیوں کو نصیحت کرنے کی گذارش کی۔ جیل میں بندقریب 135 قیدیوں سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نے فرمایا کہ جن غلطیوں کی پاداش میں آپ لوگوں کو جیل میں بند کیا گیا ہے، اس کی وجہ سے آپ کے گھروالوں کو کتنی پریشانی ہوتی ہوگی، وہ آپ کو رہائی دلانے کے لئے عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہوں گے۔ آپ خوشی کے موقعوں پر اور اپنے تہواروں کے موقع پر اپنے گھروالوں کے ساتھ خوشی نہیں مناسکتے، وہ اپنے گھر پر پریشان ہیں، آپ لوگ یہاں پریشان ہیں، آپ کو اپنی غلطیوں کی وجہ سے دنیا میں سزا مل رہی ہے، لیکن مرنے کے بعد دوسری زندگی بھی ہے، وہاں بھی آپ لوگوں کو خدا کے سامنے اپنی غلطیوں کی وجہ سے جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آپ اچھا کام کریں، عزت کے ساتھ رہیں، بھلے کم پیسہ کمائیں، لیکن غلط کام نہ کریں تو آپ لوگ ہی نہیں آپ کے گھروالے اور آپ کے رشتہ داروں کو بھی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑےگا، سماج میں بھی عزت ملے گی اور آخرت میں بھی نیکیاں لے کر خدا کے پاس جائیں گے۔ مولانا نے قیدیوں سے درخواست کی کہ وہ خدا کے آگے اپنی غلطیوں کی معافی مانگیں اور اپنے کئے پر توبہ کریں اور جیل سے جب رہا ہوکر باہر جائیں تو غلط کاموں سے باز آجائیں اور عزت دار زندگی گذاریں۔ مولانا کے اُردو خطاب کا جیلر نے کنڑا میں ترجمہ پیش کیا۔
جیل کا دورہ کرنے والے وفد میں اے پی سی آر کے نائب صدر محمدوسیم منّا، محمد سلیمان، رمیز کولا، مصباح الحق، عبدالجامع ایس کے وغیرہ بھی موجود تھے۔ جیلر نے بتایا کہ 135 لوگ جیل میں بند ہیں اور ان سبھوں کے معاملات عدالت میں زیر سماعت ہیں۔ جیلر نے یہ بھی بتایا کہ اس میں سے 21 لوگ مسلم ہیں، جبکہ تمام قیدیوں میں 50 فیصد لوگوں پر پوکسو کے تحت معاملات درج ہیں۔
Comments are closed.