رابطہ مدارس اسلامیہ مدھیہ پردیش کا اہم اجلاس منعقد، دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی کی شرکت
بھوپال
( پریس ریلیز )
مورخہ12 ربیع الاول 1445ھ مطابق 28 ستمبر 2023ء بروز جمعرات بعد نماز ظہر بمقام جامعہ اسلامیہ عربیہ مسجد ترجمہ والی بھوپال زیر صدارت کاروان دیوبند کے قافلہ سالار اور دار العلوم دیوبند کی حالیہ تعلیمی و انتظامی امور کے روح رواں شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد ابو القاسم نعمانی بنارسی مہتمم و صدر رابطہ مدارس اسلامیہ کل ہند دار العلوم دیوبند پہلی نشست منعقد ہوئی،جس میں مہمان خصوصی حضرت مولانا مفتی شوکت علی قاسمی بستوی استاذ تفسیر و ادب دارالعلوم دیوبند و ناظم عمومی کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دار العلوم دیوبند نے شرکت فرمائی ،نظامت کے فرائض مولانا مفتی ضیاء اللہ قاسمی ناظم عمومی رابطہ مدارس اسلامیہ مدھیہ پردیش نے ادا کیے، قرآن کی تلاوت اور نعت نبی سے جلسہ کا آغاز ہوا۔سب سے پہلے مولانا محمد اسحاق سالیہ ، حافظ محمد افضل شاجاپور ،مفتی ذکاء اللہ شبلی اندور،
حافظ و قاری محمد تقی اجین ، مولانا شمس الدین سیہور، مولانا سلامت اللہ کھنڈوہ، نے اپنے اپنے تاثرات پیش کیے، جس میں مدارس کے داخلی و خارجی نظام کو بہتر بنانے، زمین کے کاغذات مستحکم رکھنے،اکابرین کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کرنے اور دیگر ضروری اموروں کی طرف توجہ دلائی گئی،اور کہاگیا کہ ہم سب کے لئے لازمی و ضروری ہے کہ ہم سب رابطہ کے تمام اصولوں پر سو فیصد عمل کریں۔
اسکے بعد مہمان خصوصی حضرت مولانا مفتی شوکت علی صاحب قاسمی بستوی نے دینی مدارس کی اہمیت و ضرورت، مدارس کے داخلی و خارجی نظام کو بہتر بنانے،مشترکہ امتحانات ،تدریب المعلمین پر تفصیلی روشنی ڈالی،آپ نے فرمایا کہ یہ دینی مدارس ہی ہیں جنکی وجہ سے ہمارے ایمان و عقائد کی حفاظت ہو سکتی ہے،جب علم ہوگا تو اسکے ذریعہ ہی دعوت ،اصلاح کا کام بخوبی انجام دیا جا سکےگا،مدارس جتنا مضبوط ہونگے دین کا کام اتنا ہی عمدہ اور منظم طریقہ پر ہوگا،تعلیم کے ذریعہ ہی دین کے تمام کام ہونگے چاہے وہ باطل فرقوں کا تعاقب ہو چاہے عوام کی اصلاح ہو ،مشترکہ امتحانات کے بھی اپنے کئی فوائد بیان کیے اور فرمایا کہ اکثر صوبوں میں اجتماعی امتحان کا بڑا منظم نظم قائم ہوگیا ہے جسکے بہت بہتر نتائج سامنے آئے ہیں، آپنے تدریب المعلمین کی اہمیت کو بھی بیان فرمایا۔
اجلاس کی دوسری نشست بعد نماز عصر منعقد ہوئی ، جس میں صدر جلسہ حضرت مولانا مفتی محمد ابو القاسم صاحب نعمانی مدظلہ العالی نے فرمایا کہ رابطہ مدارس اسلامیہ کے قیام کامقصد ملک میں پھیلے مدراس کا باہم ربط قائم کرنا ہے ،ہر مدرسہ کے ذمہ دار ایک دوسرے کے رفیق بنیں حریف نہ بنیں،دین کی نشرو اشاعت کی جو کوششیں ہو رہی ہیں اسمیں متحدہ طور ایک دوسرے کے معاون بنیں، جلد سے جلد مشترکہ امتحانات کا نظم قائم کریں، جموں کشمیر میں دورہ حدیث تک مشترکہ امتحانات ہو رہے ہیں،اس سے بہت سے مدارس بھاگتے ہیں اسکی دو وجہ ہیں یا تو نصاب تعلیم دار العلوم دیوبند کے مطابق نہیں ہے ،الگ ہے یا پھر وہ مدارس منظم طریقہ پر مدرسہ نہیں چلا رہے ہیں اور ان مدارس کے بچے کمزور ہیں،طلباء کی تعلیم و تربیت پر خاصا دھیان دیا جائے ،کیونکہ ہمارے ادارہ مردم سازی کی فیکٹریاں ہیں یہاں تعلیم حاصل کرنے والا ایک اچھا عالم دین ،اچھا مسلمان اور ایک اچھا انسان بن کر باہر نکلے، تعلیم کے ساتھ تربیت کی بہت زیادہ ضرورت ہے، ذمہ داران مدارس اور اساتذہ کرام طلباء کے اخلاق کو،انکے معاملات کو ،نماز کی پابندی،وضع قطع کو دیکھیں ،ان پر نظر رکھیں اور جو چیزیں غلط نظر آئیں ان باتوں سے انکو بچانے کی پوری کوشش کریں،کیونکہ کل یہ قوم کے اندر ذمہ دار بن کر کام کریں گے، اس وقت سب سے بڑا فتنہ موبائل ہے، تعلیم انتہائی یکسوئی چاہتی ہے،تعلیمی زمانہ میں کوئی دوسرا مشغلہ نہ ہو، مکاتب کے قائم کرنے پر بہت زیادہ زور دیا ،عصری تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو عقائد کی تعلیمدینے اور بے شمار قیمتی نصیحتیں بھی
فرمائی. مولانا مفتی تبریز جامعی نے جامعہ اسلامیہ عربیہ مسجد ترجمہ والی بھوپال کے تمام اساتذہ کی جانب سے سپاس نامہ پڑھ کر سنایا، آخر میں مولانا مفتی محمد احمد خان صدر رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ مدھیہ پردیش نے صدر جلسہ حضرت مہتمم صاحب، مہمان خصوصی حضرت مولانا شوکت علی صاحب قاسمی اور تمام مہمان کرام کا شکریہ ادا کیا اور حضرت مہتمم صاحب کی دعا پر جلسہ کا اختتام ہوا بعد نماز مغرب مجلس عاملہ منعقد ہوئی ۔
اس اجلاس میں خاص طور پر مولانامنیر احمد شہڈول، محی الدین (ببو بھائی)دیواس،حافظ ریاض احمد ڈبرا، مولانا مفتی محمود الحسن جبلپور، ، مولانا مفتی علی احمد ودیشہ،مولانا مفتی عبد الحکیم سیکاں، یوسف لالہ اندور ، مولانا غیاث الدین اندور، مولانا ابو الکلام بکائن، مفتی علی احمد ہردو،مولانا ابوالکلام مفتی شہر بھوپال ، مولانا مفتی علی قدر حسینی نائب قاضی شہر بھوپال،مولانا عبد الحفیظ عارف نگر بھوپال، حاجی عبد المجید خان سالار، مولانا مفتی رشید الدین قاسمی ، مولانا عثمان نصراللہ گنج،مولانا عبد الودود قاسمی ،مولانا انیس الرحمن گنا، قاری فرید دتیا، حاجی عطاء الرحمن شیوپوری، صاحبزادہ عبد الرشید، مولانا عبد الودود (ابا میاں ) مولانا حاجی عبد العزیز ترجمہ والی مسجد بھوپال، اور صوبہ کے الگ الگ اضلاع سے تمام ہی ضلعوں کے تقریبا 435 مدارس کے نظماء و مہتممین حضرات نے شرکت فرمائی،
Comments are closed.