جامعہ مظاہر علوم سہارنپور کے آمین عام مولانا سید شاہد الحسینی کے انتقال پر ترجمہ والی مسجد بھوپال میں تعزیتی اجلاس منعقد
اظہارِ تعزیت ، ایصال ثواب و دعائے مغفرت
جامعہ مظاہر علوم کے امین عام مولانا سید محمد شاہد الحسنی سہارنپوریؒ کا انتقال پر ملال۔
جامعہ اسلامیہ عربیہ مسجد ترجمہ والی بھوپال میں منعقد ہوا تعزیتی جلسہ اور قرآن خوانی و ایصالِ ثواب کا کیا گیااہتمام۔
بھوپال / پریس ریلیز
عالمی شہرت یافتہ دینی درسگاہ جامعہ مظاھر علوم سہارنپور کے امین ِعام ،ممتاز ومشہور عالم ِ دین مولانا سید محمد شاہد الحسنی سہارنپوری طویل علالت کے بعد٢٠ ربیع الاول ١٤٤٥ھ مطابق ٦/اکتوبر ٢٠٢٣ ء بروز جمعہ مغرب کی نماز سے قبل ٧٣ سال کی عمر میں اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
جیسے ہی یہ خبر عام ہوئی تو علمی و ملی حلقوں کی فضا مغموم ہوگئی،ناظم جامعہ اسلامیہ عربیہ مسجد ترجمہ والی بھوپال مولانا مفتی محمد احمد خان کو جس وقت یہ خبر موصول ہوئی اس وقت وہ دہلی میں تھے دہلی سے آپ فوراََ سہارنپور کے لئے روانہ ہوئے جہاں آپ نے جنازہ میں شرکت فرمائی اور آپ ہی کے حکم پرکل صبح 09:30 ترجمہ والی مسجد بھوپال میں تمام اساتذہ کرام و طلباءعظام جمع ہوئے اور مولانا سید محمد شاہدالحسنی رحمة اللہ علیہ کے لئے قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا نیز دعائے مغفرت و درجات بلندی کی دعا کی گئی ۔ بعدہ ایک تعزیتی جلسہ منعقد ہوا ،تعزیتی جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے مولانا مفتی رشید الدین قاسمی نے فرمایا کہ مولانا سید محمد شاہدالحسنی رحمة اللہ علیہ نہایت خوش مزاج، ملنسار اور بے شمار صلاحیتوں کے مالک تھے آپ نے جامعہ مظاہر علوم کو ترقی کے اعلی مقام پر پہونچایا ،آپ کے ساتھ بے شمار نسبتیں جوڑی ہوئی ہیں،آپ حضرت شیخ زکریا صاحب ؒ کے نواسے ،حضرت مولانا انعام الحسن صاحب ؒ کے داماد اور حضرت مولانا زبیر حسن صاحب ؒ کے بہنوئی تھے،اتنی ساری نسبتیں ہونے کے ساتھ ساتھ آپ خود بھی ایک زبردست اور مقبول عالمِ دین تھے ، آپ بھوپال بھی کئی مرتبہ تشریف لائے، تاج المساجد میں جب تک تبلیغی اجتماع ہوتا رہا اس میں مظاہر علوم سے جو قافلہ آیا کرتا تھا اس میں آپ ہمیشہ تشریف لایا کرتے تھے ،جامعہ اسلامیہ عربیہ مسجد ترجمہ والی بھوپال میں بھی آپ کی کئی مرتبہ آمد ہوئی اور مولانا مفتی ضیاءاللہ قاسمی نے تعزیت کرتے ہوئے فرمایا کہ موت تو ہر ایک کو آنا ہے مگر کچھ شخصیات اس دنیا میں ایسی ہوتی ہیں، کہ جنکے اس دنیا کے کوچ کرنے پر کہا جاتا ہے ’موت العالم موت العالم ‘ اور مولانا سید محمد شاہد الحسنی ؒ انہیں لوگوں میں سے ہیں،آپ نے مزید فرمایا کہ مظاہر علوم کے سارے امور ،اسکی پوری نگرانی اتنے بڑے ادارہ کی پوری ذمہ داری مولانا سید محمد شاہد الحسنیؒ کے ذمہ تھی اور آپ کا جو خصوصی وصف تھا وہ لکھنے کا تھا ،آ پ نے درجنوں کتابیں تصنیف فرمائی ،آپ بہت عمدہ لکھتے تھے،اللہ نے آپ کو قلم کی ایسی صلاحیتوں سے نوازا تھا کہ اس وقت پورے ملک میںآپکا کوئی ثانی نظر نہیں آتا،حضرت کی رحلت امتِ مسلمہ اور مظاہر علوم کے لئے بہت بڑا خسارہ ہے ۔
آخر میں جامعہ کے تمام خدام اللہ تعالی سے دعا گوہیںکہ اللہ رب العزت مرحوم ؒکی خدمات کو شرف قبولیت بخشے، بشری لغزشوں سے درگزرفرمائے،جنت الفردوس کا مکین بنائے ،اپنے جوار و رحمت میں جگہ عنایت فرمائے اور آپکے فرزندگان، پسماندگان و لواحقین کو صبر جمیل اور قوم وملت کو آپکانعم البدل عطا فرئے۔ آمین
Comments are closed.