"اردو افسانے ہر دور کے مسائل کا احاطہ کرنے کی بھرپور خوبی رکھتے ہیں ” سرفراز آرزو
"اردو کارواں کے مقابلہ افسانہ گوئی کے ذریعے اردو کے عظیم افسانہ نگاروں کو خراج”
ممبئی ٩ اکتوبر: اردو کارواں کے زیر اہتمامِ آل انڈیا خلافت کمیٹی کالج آف ایجوکیشن کے زیر اشتراک ،ممبئی اور تھانہ ضلع کے آٹھ ڈی ایڈ کالج کے طلبہ کے درمیان انٹر ڈی ایڈ کالج مقابلہ افسانہ گوئی کا انعقاد کیا گیا، اس مقابلے میں ہر کالج سے ایک طالب علم نے حصہ لیا ۔پروگرام کے آغاز میں اردو کارواں کے صدر فرید احمد خان نے پروگرام کی غرض و غاءیت بیان کی اور کہا کہ "اردو کارواں اپنے قیام سے لے کر اب تک مسلسل طلبہ کے درمیان ان کی مخفی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے مختلف اقسام کےمقابلوں کا انعقاد کرتا چلا ایا ہے اور آج کا یہ مقابلہ بھی اسی کی ایک کڑی ہے۔ بظاہر تو یہ افسانہ گوئی کا مقابلہ ہے مگر اس کے ذریعے طلبہ میں شوق مطالعہ پیدا کرنا، اور افسانوں کو یاد کرنا مطلب ان کی یادداشت کو تیز کرانا اور ان میں ایک داستان گو کی صفت پیدا کرنا مقصود ہے۔”
مہمان خصوصی محترمہ ڈاکٹر مسرت صاحب علی سابق پرنسپل ایس ٹی کالج میٹرو نے طالبات کو خاص طور پر مبارکباد دیتے ہوئے یہ فرمایا کہ "ایسے مقابلوں میں حصہ لینے سے جب مستقبل میں ایک معلمہ بنیں گی تو اپ کو احساس ہوگا کہ مقابلوں میں حصہ لینے کے فوائد کیا ہیں، خاص طور پر آپ نے صحیح تلفظ کی ادائیگی پر بھی زور دیا۔ پروگرام میں صدارت کے فرائض انجام دیتے ہوئے ال انڈیا خلافت کمیٹی کے چیئرمین سرفراز ارزو صاحب نے سب سے پہلے اردو کارواں کو اس مقابلے کے انعقاد کے لیے مبارکباد پیش کی اور کہا کہ "خلافت ہاؤس کے دروازے فروغ اردو کے سلسلے میں ہونے والے ہر پروگرام کے لیے کھلے ہوئے ہیں خاص طور پر ایسے مقابلے کہ جن کا تعلق طلبہ کی تعلیم سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔” اپ نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ مقابلے میں حصہ لینے والے طلبہ نے اچھی تیاری سے افسانوں کو یاد کیا اور بنا دیکھے انہیں خوبصورت آواز و انداز سے پڑھا اور خاص طور پر معاشرے کے وہ مسائل جو اج سے ایک صدی پہلے بھی تھے وہی مسائل آج بھی ہندوستان میں کہیں نہ کہیں موجود ہیں، ایسے مسائل کو ان افسانوں کے ذریعے واضح گیا ۔
افسانہ گوئی کے اس مقابلے میں منصف کے فرائض انجام دیتے ہوئے معروف اور نوجوان افسانہ نگار و معلم وسیم عقیل شاہ نے طلبہ کو نہ صرف افسانہ گوئی بلکہ مستقبل میں افسانہ نگاری کی جانب بھی ترغیب دلائی اور انہوں نے بھی صحیح تلفظ کی ادائیگی پر زور دیا۔
مقابلے کے دوسرے منصف خان عبداللہ عبدالکریم ریٹائرڈ پرنسپل بی ایم سی نے نتائج کا اعلان کیا۔
پہلا انعام سید امیر انصار آر سی اردو جونیئر کالج اف ایجوکیشن امام باڑہ کو ملا دوسرے انعام کی مستحق مومنہ منیبہ ذوالفقار علی، سوایم سدھی مترا سنی کالج اف ایجوکیشن بھیونڈی ٹہریں، تیسرا انعام بھی بھیونڈی کی ایک طالبہ شیخ عتیقہ نثار احمد ایس اے ایم ڈی ایل ایڈ کالج بھیونڈی کو ملا نیز حوصلہ افزائی کا انعام خان ثانیہ حاجی اسماعیل ڈی ایل ایڈ شعیب کالج ممبرا کو ملا۔
اس مقابلے میں اپنے طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے ہر طالب علم کے ساتھ یا ان کے پرنسپل یا اساتذہ ساتھ میں شریک تھے، جن میں آر سی ڈی ایڈ کالج آف ایجوکیشن ماہم کے پرنسپل ڈاکٹر خالد احمد خان، اے کے ائی کالج کی لیکچرر انصاری حنا نے شرکت کی ۔ سوائم سدھی کالج کی ٹیچر انصاری پروین نے بھی شرکت کی۔
مقابلے میں ممتاز پوزیشن پانے والے چاروں طلبہ کو ٹرافی اور سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔
اخر میں شبانہ ونو پرنسپل آل انڈیا خلافت کمیٹی ڈی ایڈ کالج کی جانب سے تمام مہمانوں و شرکاء کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا گیا۔
Comments are closed.