بین الاقوامی سمینار میں حذیفہ شکیل قاسمی کا مقالہ لائق تحسین
پٹنہ(پریس ریلیز)میر کی اتباع کرنے والے شعراء کی طویل فہرست میں ایک نمایاں نام عظیم آباد سے تعلق رکھنے والے منفرد لب و لہجے کے با کمال شاعر کلیم عاجزؔ کا ہے۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں عظیم آباد کی ادبی فضا میں ایک خوش نوا فقیر کی سی صدا اٹھی، جس نے درد و الم، کرب و اذیت اور غم دل کی حکایتوں کو اپنی مترنم مگر پرسوز آواز میں اس طرح گنگنانا شروع کیا کہ بہت جلد یہ سوز سے بھرپور ساز اور حزنیہ لَے، لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئی ،سبھوںنے محسوس کیا گویا دو صدی قبل کا میرؔ کلیم عاجزؔ کے اندر پھر اسی آب و تاب کے ساتھ حلول کر گیا ہو، اور پھر اس احساس کی ترجمانی کلیم عاجزؔ کی زبانی یوں ہوئی کہ:
اس قدر سوز کہاں اور کسی ساز میں ہے
کون ،یہ نغمہ سرا میرؔ کے انداز میں ہے
دو روزہ بین الاقوامی سمینار میں ’’ماضی قریب کا میر : کلیم عاجزؔ ‘‘ کے عنوان پر دربھنگہ کے سی ایم کالج میں اپنے مقالہ میں پٹنہ یونیورسٹی کے گولڈ میڈلسٹ ، پاٹلی پترا یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر حذیفہ شکیل قاسمی نے مذکورہ خیالات پیش کرتے ہوئے کہا کہ کنہیا لال کپور کہتے ہیں: ’’کلیم عاجزؔ دور جدید کے پہلے شاعر ہیں جنہیں میرؔ کا انداز نصیب ہوا ہے۔ ان کی غزلوں کے تیور نہ صرف میرؔ کی بہترین غزلوں کی یاد دلاتے ہیں بلکہ ہمیں اس سوز و گداز سے بھی رُوشناس کراتے ہیں جو میرؔ کا خاص حصہ تھا۔‘‘
مقالہ نگار نے اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے بر جستہ کہا کہ میر تقی میرؔ اور کلیم عاجزؔ کے اشعار میں جو حیرت انگیز مشابہت ہے، وہ اسلوب اور موضوع دونوں اعتبار سے ہے، اور اس کی اہم ترین وجہ یہ ہے کہ دونوں شعراء کی زندگی میں بھی قدرے یکسانیت ہے۔نشست کے صدر پروفیسر افتخار احمد ، پرنسپل ، ملت کالج دربھنگہ نے کہا کہ حذیفہ شکیل کے مقالے سے کچھ نئے گوشے سامنے آئے ہیں۔پروفیسر انجم عثمانی ، پروفیسر عبد الحئی ، شعبۂ اردو، سی ایم کالج، ڈاکٹر فیضان حیدر ، شعبۂ فارسی ، سی ایم کالج، ڈاکٹر نور اشرف ، شعبۂ فارسی، مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی ، ڈاکٹر منور راہی ، ڈاکٹر ریحان قادری ، ڈاکٹر ارشد سلفی، ڈاکٹر رضوان نے اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے علمی مقالہ کی تحسین کی ۔ متھلا یونیورسٹی کے سابق رجسٹرار اور سی ایم کالج کے پرنسپل پروفیسر مشتاق احمد نے مقالہ پیش کئے جانے پر حوصلہ افزائی کی ۔
Comments are closed.