مدرسہ دارالعلوم داؤد رحمۃ اللہ علیہ میں کلکتہ کے علماء کے ایک موقر وفد کی آمد
کولکاتا (پریس ریلیز) سندر بن کے علاقے میں مکتب ذیشان القرآن کے تحت چلنے والے ادارے مدرسہ دار العلوم داؤد رحمۃ اللہ علیہ میں ششماہی امتحان کی تعطیل کے موقع پر آج کولکتہ شہر سے ایک وفد مدرسہ حاضر ہوا جس میں ادارے کے روح رواں ماسٹر عظمت حیات، ان کے دیرینہ رفیق ماسٹر توصیف اور مہمان خصوصی (مفتی) شاداب الاسلام (امام و خطیب مدرسہ مسجد) شریک رہے..
مہمان خصوصی مفتی شاداب الاسلام قاسمی نے اساتذہ کرام و طلباء عظام کے سامنے اپنے قیمتی نصائح میں مکتب کی اہمیت و فضیلت پر تفصیلی گفتگو فرمائی جس میں انہوں نے حضرات اساتذۂ کرام کو ان کی ذمہ داری کا احساس دلایا اور واضح انداز میں فرمایا کہ موجودہ زمانے میں اپنی نسلوں کے ایمان کی حفاظت کی فکر ان کے معاشی فکر سے زیادہ ضروری ہے مزید ادارے کے تعلیمی و تربیتی نصاب پر حد درجہ اطمینان کا اظہار فرمایا..
اخیر میں مکتب ذیشان القرآن کے تحت ان کے پچاسوں مکاتیب میں 15 اگست کے موقع پر ہونے والے ثقافتی پروگرام کے تعلق سے حافظ سعید الشیخ کو مہمان خصوصی مفتی شاداب الاسلام کے ہاتھوں ایوارڈ سے نوازا گیا، اخیر میں ادارے کے سر پرست ماسٹر عظمت حیات نے مہمانوں کا شکر ادا کیا..
مہمان خصوصی نے اپنے نصائح میں مکتب کی تعلیم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ زمانے میں مکتب کی تعلیم اس اعتبار سے فرض کا درجہ رکھتی ہے کہ اگر بچپن میں ہمارے بچے دین کی بنیادی تعلیمات سے دور رہے اور مکاتیب کے قیام پر زور نہیں دیا گیا تو وہ دن دور نہیں کہ ہمارے بچے اپنے تشخصات اور اسلامی شعائر کو خیر آباد کہہ دیں اور اگر ایسا ہوا تو ان کے اس جرم میں ان کے والدین برابر کے شریک ہوں گے..
مفتی شاداب نے قرآنی آیت بل تؤثرون الحیاۃ الدنیا والآخرۃ خیر و ابقی سے بہترین استدلال فرماتے ہوئے کہا کہ اس آیت میں اللہ رب العزت نے ہمیں تعلیم دی ہے کہ ختم ہونے والی چیزوں کی فکر چھوڑ کر اپنی ساری توجہات ترجیحات باقی رہنے والی چیز میں لگانی چاہیے اور چونکہ دینی تعلیم ہی واحد وہ تعلیم ہے جو دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی برقرار رہے گی اس لئے اپنی مصروفیات اس کار خیر میں لگائیں..
واضح ہو کہ مکتب ذیشان القرآن کے تحت قائم ہونے والی پچاسویں شاخ کے ضمن میں بارگاہ الہی میں اظہار تشکر کے لئے آج مدرسہ دار العلوم داؤد یتیم خانہ سندربن میں اس مجلس کا انعقاد کیا گیا تھا اس موقع پر مکتب ذیشان القرآن کے روح رواں اور مدرسہ دار العلوم داؤد یتیم خانے کے مہتمم ماسٹر عظمت حیات نے طلباء و اساتذۂ کرام کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ حضرات اپنے مقاصد کے حصول کے لئے بڑی مستعدی اور انہماک کے ساتھ لگے رہیں، اخلاص کی اللہ رب العزت کے یہاں بڑی قیمت ہے اور اللہ نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے کہ اخلاص کے ساتھ کی گئی خدمت کا ضرور صلہ عطا فرمائے گا.. ماسٹر عظمت حیات نے مجلس میں موجود تمام شاخوں کے اساتذہ کرام سے گذارش کی آپ حضرات اپنے طلباء کی ذہنی تربیت تو کر رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ بچوں کی روحانی تربیت کے لئے قرب و جوار کے علاقے میں دعوت دین کے مقصد سے بھی بھیجا کریں یاد رکھیں یہ بچے مذہب اسلام کا اثاثہ ہیں انہیں ہر طرح سے تیار کرنا ہمارا دینی فریضہ ہے تا کہ یہ بچے مستقبل میں امت کی ہر جہت سے کامیاب رہنمائی کر سکیں..
آخر میں سرپرست اعلی نے یہ خوشخبری سنائی کہ مستقبل قریب میں کشن گنج اور اتر دیناجپور میں مزید شاخیں کھولی جائیں گی.. آج کی اس بابرکت مجلس میں 15 اگست کے موقع پر تمام شاخوں میں ہونے والے قومی پروگرام میں اعلی کردار ادا کرنے والے حافظ سعید الشیخ کو مہمان خصوصی مفتی شاداب الاسلام قاسمی کے ہاتھوں ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا.. آخر میں پر سوز دعا پر مجلس کا اختتام ہوا..
Comments are closed.