فلسطین وغزہ پٹی کے علاقوں پر اسرائیلی حملوں سےہونے والی ہلاکتوں پر ملی کونسل کا شدید ردّعمل
نئی دہلی، 12 اکتوبر (پریس ریلیز)
فلسطین واسرائیل کے درمیان ہورہی خون ریز جنگوں پر ملی کونسل نے اپنے شدید اضطراب وتشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی طاقتوں اور امن پسند ممالک سے بالخصوص ان پر روک لگوانے کی ہر ممکن کوشش کی اپیل کی ہے۔ کونسل سے جاری پریس بیان میں اسسٹنٹ جنرل سکریٹری شیخ نظام الدین نے کہا کہ جس طرح غاصب اسرائیل کے ذریعہ فلسطینی زمین پر بڑے قبضوں کے باوجود فلسطینیوں کو اُن کے وطن سے بے وطن کرنے کی آڑ میں جس طرح مظالم ڈھائے جاتے رہے ہیں، اس کا لازمی نتیجہ ہے کہ بالآخر تصادم کی نوبت آگئی، لیکن اسرائیل کا عرب کی اس مقدس سرزمین پر جس طرح جابرانہ تسلط اور تشدد کا تسلسل رہا ہے، فلسطینی عوام اپنی آزادی اور قبلہ ¿ اول کی بازیابی کے لیے اگر کوئی جدوجہد کریں تو اُسے ’دہشت گردی‘ سے تعبیر کیا جارہا ہے اور گزشتہ ایک ہفتہ سے اسرائیل خود کو مظلوم (Victim) بناکر دنیا کو یہ کہہ رہا ہے کہ اُس پر ظلم ہوا ہے جس کا وہ بدلہ لے رہا ہے جو انتہائی شرمناک اور صریح ظلم ہے۔
ہندوستانی عوام ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے رہے ہیں، کیوںکہ گزشتہ 7 دہائیوں سے غاصب اسرائیلیوں نے ہزارہا ہزار فلسطینیوں کی نہ صرف جانیں لی ہیں بلکہ اُن کی زمینوں پر غاصبانہ حملے کرکے انھیں اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے اور اس کا یہ توسیع پسندانہ عمل آگے بھی جاری ہے۔ موجودہ صورت حال یہ ہے کہ آج راکٹوں، مزائلوں اور ہزاروں ٹن بارود برساکر اُس پورے خطے کو تہس نہس کرنے کی ظالمانہ کوششیں ہورہی ہیں، جو انسانیت کی کھلی خلاف ورزی ہے اور جس پر بلاتاخیر تمام امن پسند ممالک، عالمی طاقتوں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور ورلڈ مسلم لیگ جیسے اداروں کو مداخلت کرکے حالات کو قابو میں کرانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
ملی کونسل نے اپنے صحافتی بیان میں آگے کہا کہ ہندوستان گزشتہ 7-8 دہائیوں سے غاصب اسرائیلیوں کی مذمت کرتا رہا ہے اور اس کا یہ موقف واضح طور پر ہا ہے کہ فلسطینیوں کی زمین کو غاصب اسرائیلیوں سے نہ صرف واپس دلائی جائے بلکہ ان کے حقوق پر دست درازی بھی مکمل طور پر بند کی جائے۔ کیوںکہ شروع ہی سے ہندوستان کا موقف بڑا واضح تھا کیوںکہ وہ مجبور ومقہور فلسطینیوں کے ساتھ ہے، اور ہمیشہ رہے گا جب تک کہ انھیں ان کی زمینیں واپس نہ دے دی جائیں۔ شیخ نظام الدین نے آگے یہ بھی کہا کہ ملک کے معماروں نے ہمیشہ فلسطین کے حق میں آوازیں لگائی اور ان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور اسرائیل کے طرز عمل کی مخالفت کی ہے لیکن ادھر کے چند برسوں میں ملک کی خارجہ پالیسی میں جو بدلاو ¿ دیکھا جارہا ہے، وہ اس ملک کی وسیع النظری کے بالکل منافی ہے۔ ہندوستان کو اپنے حالیہ اس موقف سے دستبردار ہوکر اپنی خارجہ پالیسی میں مثبت بدلاو ¿ لانے کی ضرورت ہے اور سابقہ پالیسیوں کے ساتھ مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ آنے کی خاطر اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرنے پر فوری توجہ دینی چاہیے۔
Comments are closed.