مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

اے ایم یو نے آن لائن ’کوشل دیکشانت سماروہ‘ میں حصہ لیا
علی گڑھ، 12 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے اساتذہ، طلباء و طالبات اور عملہ کے اراکین نے آن لائن ’کوشل دیکشانت سماروہ‘ میں حصہ لیا اور وزیر اعظم کے خطاب کو بغور سنا۔ اس پروگرام کے براہ نشریہ کو دیکھنے اور سننے کا اہتمام اے ایم یو کے مختلف اسکولوں، شعبہ جات اور اقامتی ہالوں میں کیا گیا جہاں حاضرین نے سالانہ اسکل کانووکیشن تقریب کو براہ راست دیکھا۔
’کوشل دیکشانت سماروہ‘ کی خاص بات وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی تقریر تھی جس میں انھوں نے اکیسویں صدی کے طلباء کی امنگوں کے مطابق ہنر پر مبنی تعلیم کو فروغ دینے کے اپنی حکومت کے عزم پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کوشل دیکشانت سماروہ کے پس پشت تصور یہ ہے کہ اسکولوں میں ہنر پر مبنی چیزیں سکھائی جائیں اور صلاحیتوں کو پروان چڑھائیں تاکہ طلبا دنیا کے سامنے اپنی صلاحیتیں دکھانے کے قابل بن سکیں۔
لائیو تقریب کے دوران تعلیم، ہنر فروغ اور انتریپرینئرشپ کے مرکزی وزیر جناب دھرمیندر پردھان اور دیگر معززین نے بھی خطاب کیا اور ہنرمندی کو فروغ دینے کے عزم کو دوہرایا۔
’کوشل دیکشانت سماروہ‘ میں پردھان منتری کوشل کیندر ، صنعتی تربیتی ادارے (آئی ٹی آئی )،ڈی جی ٹی، پی ایم کے وی وائی، سنکلپ، اپرنٹس، آئی آئی ای، نیپون، اسکل انڈیا انٹرنیشنل سنٹر، نیس بڈ اور جن شکشن سنستھان سمیت دیگر اداروں کے طلباء و طالبات شریک ہوئے۔
اے ایم یو برادری نے اس تقریب کی ستائش کی، جس کے ذریعہ انٹرڈسپلینری نقطہ نظر، صنعتوں کے مطابق معیاربندی، جدید نصاب، اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ہنر مندی پر زور دیا گیا۔
٭٭٭٭٭٭
ایروبک ٹریننگ ورکشاپ کا اہتمام
علی گڑھ، 12 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ فزیکل ایجوکیشن نے 5 اکتوبر سے 28 دسمبر 2023 تک 12 ہفتوں پر محیط ’’ایروبک ٹریننگ ورکشاپ‘‘ کا اہتمام کیا ہے، جس کا مقصد موٹاپے سے نمٹنے اوراس پر قابو پانے اور صحت مند طرز زندگی اپنانے میں مدد کرنا ہے۔
پروگرام کے ڈائریکٹر اور صدر شعبہ پروفیسر طارق مرتضیٰ نے کہا کہ ورکشاپ میں عام لوگوں نے زبردست دلچسپی ظاہر کی اور روزانہ بڑی تعداد میں لوگ اس کے لیے رجسٹریشن کر ارہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایروبک ورکشاپ میں سونا باتھ اور اسٹیم باتھ سے لے کرشاور اور جاکوزی سمیت مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا ہے جس سے لوگوں کو فائدہ ہوگا اور وہ جسمانی اور ذہنی طور سے خود کو زیادہ تندرست محسوس کریں گے ۔
آرگنائزنگ سکریٹری ڈاکٹر محمد ارشد باری نے کہا کہ اس ورکشاپ کے ذریعہ ہمارا مقصد شرکاء کو صحت مند اور فعال زندگی گزارنے کے لیے ضروری علم اور ہنر سکھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فزیکل ایجوکیشن شعبہ لوگوں کے اندر تندرستی اور مجموعی صحت کے کلچر کو فروغ دینے کے لئے وقف ہے۔
ڈاکٹر محمد سعد احمد خاں، ورکشاپ کے جوائنٹ آرگنائزنگ سکریٹری ہیں۔
٭٭٭٭٭٭
لا فیسٹیول کا اختتام
علی گڑھ، 12 اکتوبر: لاء سوسائٹی، اے ایم یو سنٹر، ملاپورم کے زیر اہتمام، لا فیسٹیول ’لیکس جسٹس 2023‘ کے اختتامی سیشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے ایڈوکیٹ منوج کمار این، وائس چیئرمین، ایگزیکٹو کمیٹی، بار کونسل آف انڈیانے قانون کے طلباء پر زور دیا کہ وہ تعلیم کے عملی پہلوؤں پر توجہ دیں کیونکہ اس سے انہیں قانونی اداروں کے کام کرنے کے انداز کو سمجھنے اور انہیں پیشہ ورانہ نقطہ نظر اپنانے میں مدد ملے گی اور ان کا قانون کا کریئر بہتر ہوگا۔
ایڈوکیٹ منوج کمار نے موجودہ قانونی منظر نامے اور قانونی پیشے کے مستقبل کی تشکیل میں طلباء کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مختلف مقابلوں کے فاتحین کو مبارکباد دی اور کیمپس آمد پر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔
اپنے صدارتی کلمات میں اے ایم یو سنٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فیصل کے پی نے طلباء کی ہمہ جہت ترقی کے لیے ہم نصابی سرگرمیوں کے انعقاد کے لئے لاء سوسائٹی کی کوششوں کو سراہا۔
قبل ازیں ڈاکٹر شیلی وکٹر، کنوینر، لاء سوسائٹی نے مہمانوں اور شرکاء کا خیر مقدم کیا۔ کنشک گپتا، سکریٹری، لاء سوسائٹی نے پروگرام کی نظامت کی۔
٭٭٭٭٭٭
اردو اکادمی، اے ایم یو میں’’ سر سید اور ان کے کارنامے‘‘ کے عنوان سے پروگرام کا انعقاد
علی گڑھ، 12 اکتوبر: اردو اکادمی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے زیر اہتمام ’’ سر سید اور ان کے کارنامے ‘‘ عنوان کے تحت ایک پروگرام منعقد کیا گیا جس کی صدارت پروفیسر قمرالہدی فریدی نے کی۔ پروگرام میں بطور مہمان خصوصی ماہر سر سیدپروفیسر شان محمد جبکہ مہمان اعزازی کے طور پر ڈاکٹر راحت ابرار، سابق ڈائرکٹر، اردو اکادمی شریک ہوئے۔
پروفیسر شان محمد نے سر سید کی تحقیقی و تنقیدی ،علمی و ادبی، سماجی اور اصلاحی کارناموں پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور سرسید کے سیاسی نقطہ نظر پر اپنی تحقیقی سفر کے متعدد واقعات بیان کرتے ہوئے طلبا کی رہنمائی کی۔ انھوں نے طلباء و طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ مطالعہ و تحقیق کے دوران کسی موضوع پر اصل متن کو سامنے رکھے بغیر کوئی حتمی رائے قائم نہ کریں۔ انھوں نے کہا ’’کوئی بات کہیں پڑھنے کو ملتی ہے تو اسے کراس چیک کریں اور اصل متن کو دیکھیں ، کیونکہ بسااوقات کوئی بات کسی اسکالر سے منسوب کرکے آگے بڑھادی جاتی ہے اور اسے قبولیت کا درجہ مل جاتا ہے حالانکہ ضروری نہیں کہ وہ سچ ہو ‘‘۔
مہمان اعزازی ڈاکٹر راحت ابرار نے سر سید احمد خاں کی ادبی و لسانی خدمات پر سیر حاصل گفتگو کی اورسر سید کی ادبی تصانیف و تحریروں کے حوالے سے اہم گوشوں کو اجاگر کیا ۔
پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر زبیر شاداب ، ڈپٹی ڈائرکٹرنے نظامت کا فریضہ انجام دیا۔ انھوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے تحقیق کے اصولوں کا ذکر کیا اور سرسید کے حوالے سے مستند علمی کاموں کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے کہاکہ سرسید کے سلسلہ میں سچائی سے دور بہت سی باتیں رائج ہوگئیں کیوںکہ کسی اسکالر نے جو کچھ بھی لکھ دیا لوگوں نے اسے سچ مان لیا۔ انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا ’’تحقیق کے بنیادی اصول اور مسلّمہ ریسرچ میتھڈلوجی کا یہ تقاضا ہے کہ کسی اسکالر کی بات کو اس وقت تک درست نہ مانیں جب تک کہ اصل مأخذ یا متن سے اسے ملا نہ لیا جائے‘‘۔
پروگرام کے منتظم ڈاکٹر رفیع الدین نے سبھی شرکاء کا خیر مقدم کیا۔
اس پروگرام میں کل ۱۱ ؍ مقالے مختلف عنوانات و موضوعات کے تحت پڑھے گئے ۔ ڈاکٹر محمد ابو صالح نیــ’’ سید احمد خاں کی وسیع المشربی‘‘، ڈاکٹر رفیع الدین نے ’’ سر سید اور سماجی سروکار‘‘ ، ڈاکٹر عرفان احمد ندوی نے ’’ سر سید اور دینی تعلیم :ایک جائزہ‘‘ ، ڈاکٹر حنا یاسمین ،شعبۂ فارسی نے ’’ تحقیق و تدوین متن سر سید کا طریقۂ کار‘‘، ڈاکٹر محمد معروف نے ’’ سیرت فریدیہ: ایک مطالعہ‘‘ ، صبا منور ریسرچ اسکالر شعبۂ اردو نے ’’ سر سید احمد خاں کے تعلیمی نظریات‘‘، سامیہ عابدین ریسرچ اسکالرشعبۂ اردو نے ’’ سر سید کی مضمون نگاری‘‘،محمد اکرام نے ’’سر سید کا نظریۂ قومیت اور قومی یکجہتی کا تصور‘‘،صبا ریحان شعبۂ دینیات نے ’’ سر سید احمد خاں بہ حیثیت مصلح قوم‘‘ اور گلستاں نے ’’ سر سید کون ‘‘ کے عنوان سے اپنے مقالے پیش کئے۔
اس موقع پر ڈاکٹر آفتاب عالم نجمی، ڈاکٹر مامون رشید اور بڑی تعداد میں ریسرچ اسکالرز موجود رہے۔ پروفیسر قمر الہدی فریدی نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ محترمہ فرحین اور شاہد حسین نے انتظامی امور کی ذمہ داری نبھائی۔
٭٭٭٭٭٭
سرسید اور ان کی وراثت موضوع پر لیکچر
علی گڑھ، 12 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سنٹر آف کنٹینیونگ اینڈ ایڈلٹ ایجوکیشن اینڈ ایکسٹینشن میں ’سرسید اور ان کی وراثت‘ موضوع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر معید الرحمٰن، شعبہ اردو، اے ایم یو نے کہا کہ سرسید احمد خاں ایسے مصلح قوم و ملت تھے جنھوں نے تعلیم، معاشرتی و تہذیبی امور، زبان اور مذہب و سائنس سمیت متعدد شعبوں میں انقلابی کام کئے اور مستقبل کو سنوارنے کی راہ دکھائی۔ انھوں نے کہا ’سرسید نے ماضی کی تاریخ کو مرتب کرنے کی کوشش کی کیونکہ ماضی کو سمجھے بغیر مستقبل نہیں بنایا جاسکتا‘۔ سرسید نے سائنٹفک سوسائٹی قائم کی اور سائنس و جدید موضوعات کی تعلیم پر زور دیا۔ انھوں نے قرآن و حدیث کو عقلی اعتبار سے سمجھنے کی کوشش کی اور کہاکہ مذہب و سائنس میں کوئی تضاد نہیں ہے ۔
ڈاکٹر معید الرحمٰن نے کہاکہ سرسید نے اپنی دنیا آپ تعمیر کرنے کی تلقین کی اور عزت نفس اور وقار کے ساتھ جینے کا فلسفہ دیا۔ انھوں نے ایک ایسے کالج کی بنیاد رکھی جس میں مغربی و مشرقی علوم کی تعلیم کے ساتھ ہی تربیت پر خاص زور دیا۔ ڈاکٹر معید نے سرسید کی سیکولر فکر کا بطور خاص ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے مسجدوں کے ساتھ مندروں کے بھی نقشے جمع کئے اور رواداری کا عملی مظاہرہ کیا۔
سنٹر آف کنٹینیونگ اینڈ ایڈلٹ ایجوکیشن اینڈ ایکسٹینشن کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمیم اختر نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔
٭٭٭٭٭٭

Comments are closed.