مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

شجرکاری مہم
علی گڑھ، 13 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی فیکلٹی آف ایگریکلچرل سائنسز کے زیر اہتمام شجر کاری مہم میں مختلف شعبوں کے سربراہان، تدریسی اور غیر تدریسی عملے کے اراکین اور طلباء و طالبات نے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا اور ماحولیاتی چیلنجوں پر قابو پانے کی عالمی کوششوں کے ساتھ ماحولیات اور پائیداری کے تئیں اپنی بیداری کا ثبوت دیا۔
پروفیسر اکرم احمد خان، ڈین، فیکلٹی آف ایگریکلچرل سائنسز کی رہنمائی میں مختلف قسم کے 100 سے زائد پودے لگائے گئے، جن میں بوتل پام، آنولہ، اشوک پنڈولا، ایکزورا، کروٹون، اراکاریا، گل فانوس اور ہرسنگار وغیرہ شامل تھے۔
پروفیسر خان نے انسانی زندگی میں سرسبز و شاداب ماحول کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور ہر ایک پر زور دیا کہ وہ کیمپس کے سرسبز و شاداب ماحول کو فروغ دیں۔ پروگرام کے دوران طلباء کو حاصل ہونے والا تجربہ انمول تھا، جس سے ماحولیات کے تئیں ذمہ داری اور فکر مندی کے جذبہ کو فروغ ملا، جو اجتماعی طور پر ایک زیادہ پائیدار اور ماحولیات کے تقاضوں سے آگاہ کیمپس اور معاشرے کی تعمیر کے لئے ضروری ہے۔
پروفیسر اقبال احمد، کوآرڈینیٹر بی ایس سی (آنرز) ایگریکلچر ، سنٹر آف ایگریکلچر ایجوکیشن کے یوجی اور پی جی کے طلباء و طالبات کے ساتھ اس مہم میں شامل ہوئے۔
٭٭٭٭٭٭
دماغی صحت کا عالمی دن منایا گیا
علی گڑھ، 13 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے جے این میڈیکل کالج کے شعبہ سائیکیاٹری اور کالج آف نرسنگ نے مشترکہ طور پر او پی ڈی ٹراما سنٹر اور شعبہ میں دماغی صحت کے عالمی دن کے موقع پر ایک پروگرام کا انعقاد کیا، جس میں دماغی صحت کے بارے میں سماج میں بیداری کی ضرورت اجاگر کی گئی ۔
دماغی صحت سے متعلق مسائل کے بارے میں مستند معلومات لوگوں تک پہنچانے کے لیے ایک ڈراما پیش کیا گیا اور کوئز و پوسٹر سازی کا مقابلہ بھی منعقد کیا گیا۔
کلیدی خطبہ دیتے ہوئے سائیکیاٹری شعبہ کے پروفیسر آر کے گوڑ نے دماغی صحت کے چیلنجوں سے نبرد آزما افراد کے لیے بہتر اور دیکھ بھال والا ماحول پیدا کرنے پر زور دیا۔
ڈاکٹر فرح اعظمی، پرنسپل، کالج آف نرسنگ، اے ایم یو نے کہا کہ سماج میں دماغی صحت کے حوالے سے بہت لاعلمی پائی جاتی ہے اور یہ دن خصوصی پروگراموں کے ذریعہ عوام میں بیداری پھیلانے کا ایک بہتر موقع ہے۔
پروگرام میں ڈاکٹر ریاض، ڈاکٹر جتیندر، ڈاکٹر فیصل، ڈاکٹر وجے لکشمی ورما، مسز پامیلا جوزف، مسز دیپتی منج، مسز مہوش مسیح، مسز روبینہ ناز، مسز ریشما لطفی اور دیگر افراد نے شرکت کی۔
٭٭٭٭٭٭
این ای پی کے نفاذ پر آن لائن مختصر مدتی کورس کی تکمیل
علی گڑھ، 13 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے یوجی سی ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ سینٹر کے زیر اہتمام قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے نفاذ سے متعلق ہفت روزہ آن لائن کورس کامیابی کے ساتھ اختتام کو پہنچا، جس میں ملک بھر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی نمائندگی کرتے ہوئے 100 کالجوں کے اساتذہ شریک ہوئے۔
سنٹر فار پروفیشنل ڈیولپمنٹ اِن ہائر ایجوکیشن ، دہلی یونیورسٹی کی ڈائریکٹر پروفیسر گیتا سنگھ نے اختتامی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرتے ہوئے قومی تعلیمی پالیسیوں کے اہم پہلوؤں کو واضح کیا۔ انہوں نے تدریس میں علاقائی زبانوں کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ مادری زبانیں فکری نشو و نما کے لئے اہم ہوتی ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ہم ہندوستانی میں خواب دیکھتے ہیں، انگریزی، فرانسیسی یا جرمن میں نہیں۔انہوں نے اردو کی ثقافتی اہمیت کا بھی ذکر کیا جو ہندوستان میں پیدا ہوئی اور یہیں پروان چڑھی۔
پروفیسر گیتا سنگھ نے مالویہ مشن سینٹر اسکیم کے تحت یوجی سی ایچ آرڈی سنٹروں کو تفویض کردہ ذمہ داریوں کی وضاحت کی۔ انہوں نے قومی تعلیمی پالیسی کے بارے میں بیداری پھیلانے میں ان مراکز کے اہم کردار پر زور دیا اور تعلیمی ترقی میں بنارس ہندو یونیورسٹی کے بانی پنڈت مدن موہن مالویہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خاں کے نظریات کے درمیان مماثلت کا ذکر کیا۔
یو جی سی ایچ آر ڈی سی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر فائزہ عباسی نے قومی تعلیمی پالیسی کے بنیادی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ملک کے تعلیمی ایجنڈے کی تشکیل میں اساتذہ کے اہم کردار پر زور دیا اور قومی تعلیمی پالیسی کے تجویز کردہ اقدامات کو اپنانے کے سلسلہ میں اے ایم یو کے عزم کا اعادہ کیا۔
کورس کوآرڈینیٹر پروفیسر ساجد جمال، شعبہ تعلیم نے کورس کے بارے میں بتایا۔ مختلف ریسورس پرسنز نے کورس کے الگ الگ سیشن میں اظہار خیال کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یوکے ریسرچ اسکالر کو بیسٹ پیپر ایوارڈ سے نوازا گیا
علی گڑھ، 13 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ لائبریری و انفارمیشن سائنس کے ریسرچ اسکالر مسٹر الطاف علی کو انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ ٹکنالوجی، غازی آباد کے زیر اہتمام مینلبنیٹ کی اکیسویں بین الاقوامی کانفرنس میں ان کے مقالے کے لیے ’بیسٹ پیپر‘ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ان کے مقالے کا عنوان تھا: اے ببلیومیٹرک انالیسز آف ٹاپ سائٹیڈ آرٹیکلس پبلشڈ اِن ہائی رینکڈ نالج مینجمنٹ جرنلس۔ انھوں نے یہ مقالہ ڈاکٹر شکیل احمد، لائزن لائبریرین (سعودی عرب) کے ساتھ مل کر لکھا۔ ایوارڈ ، سرٹیفیکٹ اور پانچ ہزار روپے پر مشتمل ہے۔
مسٹر علی، ڈاکٹر محمد ناظم کی نگرانی میں ریسرچ کر رہے ہیں۔صدر شعبہ پروفیسر نشاط فاطمہ نے مسٹر علی اور شریک مصنف کو ان کی حصولیابی پر مبارکباد پیش کی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو نے سرسید مضمون نویسی مقابلہ کے نتائج کا اعلان کیا
علی گڑھ، 13 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے دفتر رابطہ عامہ کے زیر اہتمام منعقدہ آل انڈیا مضمون نویسی مقابلہ میں اے ایم یو کی ہی انڈر گریجویٹ طالبہ علمہ خان نے انگریزی میں، اے ایم یو کی ریسرچ اسکالر مریم بی نے اردو میں اور اے ایم یو کے ایک دیگر انڈر گریجویٹ طالب علم امان بیگ نے ہندی میں پہلا انعام حاصل کیا ہے۔
انگریزی، اردو اور ہندی زبانوں میں اس مضمون نویسی مقابلے کا اہتمام علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے دفتر رابطہ عامہ کی جانب سے عظیم مصلح اور اے ایم یو کے بانی سرسید احمد خاں کے یوم پیدائش (یوم سرسید) کی مناسبت سے کیا جاتا ہے۔
انگریزی، اردو اور ہندی میں دوم انعام بالترتیب یونیورسٹی آف نارتھ بنگال، دارجلنگ کے بی کام کے طالب علم دافع الحق ، ایمن جبین (بی ایڈ، اے ایم یو) اور قیوم علی (ریسرچ اسکالر، اے ایم یو) سے حاصل کیا ہے۔
اسی طرح سوم انعام انگریزی میں این ریحاناز (ایم ایس سی، نہرو آرٹس اینڈ سائنس کالج، تھرومالیمپالیم، کوئمبٹور)، اردو میں تبسم پروین (ایم ایڈ، انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن فار ویمن، کولکاتہ) اور ہندی میں مدیحہ ممتاز (بی یو ایم ایس، ایچ ایس زیڈ ایچ گورنمنٹ یونانی میڈیکل کالج، بھوپال) نے حاصل کیاہے۔
اس سال علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے انگریزی، اردو اور ہندی میں ’’زبان و ادب پر سرسید کا اثر‘‘ موضوع پر مضمون نویسی مقابلے کا انعقاد کیا تھا۔ ہر زبان میں پہلا، دوسرا اور تیسرا انعام جیتنے والوں کو بالترتیب 25000، 15000، اور 10000 روپے بطور انعام دئے جائیں گے۔ فاتحین کو یہ انعامات 17 اکتوبر کو اے ایم یو ، علی گڑھ میں منعقد ہونے والی یوم سرسید تقریب میں پیش کئے جائیں گے۔
٭٭٭٭٭٭

Comments are closed.