انڈیانے فیس بک اورگوگل کے نام لکھا خط،غیرجانبداری برتنے کاکیامطالبہ
نئی دہلی(ایجنسی)
کانگریس پارٹی کی زیرقیادت نئے اپوزیشن اتحاد ‘انڈیا’ سے وابستہ چودہ لیڈروں نے فیس بک کے سی ای او مارک زکر برگ اور گوگل کے سی ای او سندر پچائی کے نام اپنے مشترکہ مکتوب اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھارت میں سن 2024 کے عام انتخابات سے قبل غیر جانبداری کو یقینی بنائیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ایک سیاسی جماعت کی جانب جھکاؤ اور تعصب ملک کی جمہوریت میں مداخلت کے مترادف ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں واشنگٹن پوسٹ نے اپنے ایک خصوصی مضمون میں انکشاف کیا تھا کہ بھارت میں فیس بک، واٹس ایپ اور یو ٹیوب کو مبینہ طور پر فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے کے لیے کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔ ‘انڈیا’ اتحاد نے میٹا اور گوگل کے سی ای اوز کو اسی مناسبت سے خطوط لکھے ہیں۔
مارک زکربرگ اور سندر پچائی کو لکھے گئے خطوط میں انڈیاکے رہنماؤں نے واشنگٹن پوسٹ کی حالیہ رپورٹس کا حوالہ دیا اور کہا کہ فیس بک اور یوٹیوب بھی ”حکمران جماعت بی جے پی کی فرقہ وارانہ نفرت کی مہم میں مدد کر رہے ہیں۔”
اپوزیشن رہنماؤں نے ان پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آنے والے لوک سبھا انتخابات سے پہلے ان کے پلیٹ فارمز ”غیر جانبدار” ہوں۔ ان سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کو ”دانستہ یا نادانستہ طور بھارتی سماج میں بدامنی پھیلانے یا ملک کے جمہوری نظریات کو مسخ کرنے کے لیے استعمال کرنے” کی اجازت نہ دیں۔
اس حوالے سے ایک مضمون کی سرخی ہے ”بھارتی دباؤ کے تحت، فیس بک نے پروپیگنڈا اور نفرت انگیز تقاریر کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا۔”
اپوزیشن نے اس مضمون کو بطور ثبوت پیش کرتے ہوئے فیس بک کے بانی مارک زکر برگ سے کہا ہے کہ ان کا پلیٹ فارم حکمران جماعت کی کھلی طرفداری کر رہا ہے۔
مکتوب میں کہا گیا، ”اپوزیشن میں ہمیں یہ ایک طویل عرصے سے اچھی طرح سے معلوم تھا اور ماضی میں بھی کئی بار اس مسئلے کو اٹھایا جا چکا ہے۔”
کانگریس پارٹی کے صدر ملک ارجن کھڑگے کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے پاس ایسے اعداد و شمار ہیں، جو ظاہر کرتے ہیں کہ فیس بک پلیٹ فارم پر ”اپوزیشن لیڈروں کے مواد کو دبانے کے ساتھ ہی حکمراں پارٹی کے مواد کو فروغ دیا جا تا ہے۔”
خط میں کہا گیا ہے کہ ”ایک پرائیویٹ غیر ملکی کمپنی کی جانب سے ایک خاص سیاسی جماعت کے لیے اس طرح کی صریح جانبداری اور تعصب بھارتی جمہوریت میں مداخلت کے مترادف ہے، جسے ہم انڈیا اتحاد میں ہلکے سے نہیں لیں گے۔”
اس میں مزید کہا گیا، ”سن 2024 میں آنے والے قومی انتخابات کی روشنی میں، ہماری آپ سے پرزور اور فوری التجا ہے کہ آپ ان حقائق پر سنجیدگی سے غور کریں اور فوری طور پر اس بات کو یقینی بنائیں کہ بھارت میں میٹا کی سرگرمیاں غیر جانبدار رہیں اور سماجی بدامنی پھیلانے یا بھارتی جمہوری قدروں کو بگاڑنے میں دانستہ یا نادانستہ طور پر استعمال نہ ہوں۔”
انڈیااتحادکے رہنماؤں نے گوگل کے سربراہ سندر پچائی کو بھی یاد دلایا کہ امریکی اخبار نے کس طرح تفصیل سے بتایا ہے ان کے پلیٹ فارم ‘ یوٹیوب’ پر کس طرح ایک بھارتی شخص نے ملک میں مسلمانوں پر ہونے والے حملے کو لائیو نشر کیا۔
اس حوالے سے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ کس طرح ”بی جے پی کے اراکین اور حامیوں کے ذریعہ یوٹیوب کا استعمال کرتے ہوئے گھٹیا، فرقہ وارانہ تفرقہ انگیز پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔”
Comments are closed.