اردو کارواں اپنے قیام سے لے کر اب تک مسلسل ادبی شاہراہ پر رو بہ سفر ہے : فرید احمد خان
خاکہ گوئی کے پروگرام کے ذریعے خاکہ نگاری کے فن کو جلا بخشی گئی ہے:عارف مہمتلے
ممبئی(پریس ریلیز)اردو ادب کی کئی اصناف سخن جو اب دھیرے دھیرے معدوم ہوتی جا رہی ہیں ان میں سے ایک صنف سخن خاکہ نگاری بھی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اردو کارواں نے طلبہ کے درمیان اس کا احیاء کرنے کے لیے مقابلہ خاکہ گوئی کا انعقاد کیا ۔ممبئی اور ممبئی کے اطراف کے اضلاع سے تقریبا آٹھ ڈی ایڈ کالج کے طلبہ نے خاکہ گوئی کے اس انوکھے مقابلے میں حصہ لیا، اردو کے معروف خاکہ نگاروں کے خاکوں کوطلبہ نے انتہائی خوبصورت انداز میں خاکہ گوئی کے ذریعے پیش کیا۔حاضرین محفل طلبہ کی فن خاکہ گوئی میں یوں محو ہو گئے کہ گویا صاحب خاکہ روبرو آنکھوں کے سامنے موجود ہو گئے ہوں۔اور کیوں نہ ہو جب مجتبیٰ حسین، بابائے اردو مولوی عبدالحق جیسے خاکہ نگاروں کے خاکے پیش کیے جائیں۔
پروگرام کے آغاز میں اردو کارواں کے صدر فرید احمد خان نے فن خاکہ نگاری کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے اردو کے معروف خاکہ نگاروں کے بارے میں بتایا ساتھ ہی انہوں نے معدوم اصناف سخن کے احیاء کے سلسلے میں اردو کارواں کی ادنیٰ سی کوششوں کی جھلکیاں بیان کی۔
انہوں نے کہا کہ "اردو کارواں اپنے قیام سے لے کر اب تک ادبی شاہراہ پر مسلسل رو بہ سفر ہے اور انشاءاللہ یہ سفر مسلسل جاری رہے گا”
پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے معروف شاعر اور فکر پاروں کے خالق جاوید ندیم نے فرمایا کہ میں "اردو کارواں کے فروغ اردو کی کوششوں اور خاص طور پر طلبہ کے اس قسم کے مقابلوں کے انعقاد پر ذمہ داران اردو کارواں کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔”
پروگرام کے ایک منصف ابراہیم مہم تلے سر نے فرمایا کہ” اردو کارواں کے خاکہ گوئی کے اس پروگرام کے ذریعے خاکہ نگاری کے فن کو نئے سرے سے جلاء بخشی گئی ہے”۔
پروگرام کے ایک اور منصف ڈاکٹر ابراہیم شیخ تین اف ایڈمنسٹریشن صابو صدیق کالج اف انجینئرنگ جو کہ خود بھی ایک خاکہ نگار ہیں، فن خاکہ نگاری کے رموز و نکات سے طلبہ کو آگاہ کیا۔
پروگرام میں تیسرے منصف عبداللہ خان سر نے نتائج کا اعلان کیا اور ساتھ ہی انہوں نے مزید نکھار کے لیے طلبہ کو اور اساتذہ کو اہم نکات سے روشناس کرایا۔
پروگرام میں اول انعام آر سی ڈی ایڈ کالج اف ایجوکیشن امام باڑہ کی طالبہ سید عائشہ عبدالغفور کو صادقین نامی خاکہ پڑھنے پر ملا۔
دوسرا انعام مومن عبداللہ عقیل احمد کو آغاحشر کاشمیری کی شخصیت پر مبنی خاکہ گوئی پر ملا، جن کا تعلق سوائم سدھی متر سنگھی جونیئر کالج اف ایجوکیشن بھیونڈی سے ہے۔
تیسرا انعام شیخ زکری بیگم سلمان کو مولانا محمد علی جوہر کی شخصیت پر مبنی خاکہ پیش کرنے پر ملا، اپ شعیب جونیئر کالج اف ایجوکیشن ممبرا کی طالبہ ہیں۔
حوصلہ افزائی کا خصوصی انعام شیخ مسکان عبدالخالق کو ابراہیم جلیس نامی خاکہ گوئی پر ملا ان کا تعلق آرسی ڈی ایڈ کالج اف ایجوکیشن ماہم سے ہے۔
پروگرام کے اخر میں رسم شکریہ آر سی ڈی ایڈ کالج اف ایجوکیشن امام باڑہ کی پرنسپل سائرہ خان نے ادا کیا۔ واضح رہے کہ اس پروگرام کا انعقاد اسی کالج کے اشتراک سے کیا گیا تھا۔
پروگرام میں اپنے طلبہ کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کے لیے مقابلوں میں حصہ لینے والے تمام کالج کے اساتذہ یا پرنسپل حضرات میں کوئی نہ کوئی ایک فرد ساتھ میں ایا تھا۔انجمن اسلام جونیئر کالج آف ایجوکیشن کی ڈاکٹر روبینہ نے خاص طور پر اس پروگرام میں شرکت کی۔اردو کارواں کی رکن مجلس عاملہ اور شاعرہ تبسم ناڈکر نے بھی اس پروگرام میں شرکت کی ۔پروگرام میں ممتاز پوزیشن حاصل کرنے والے تمام طلبہ کو سرٹیفکیٹ اور ٹرافی سے نوازا گیا اور دیگر طلبہ کو حصے داری کی سرٹیفیکیٹ سے نوازا گیا۔
پروگرام کی تیاریوں میں وسیم شیخ سر کا خصوصی کردار رہا۔
آخر میں فرید احمد خان صدر اردو کارواں نے دسمبر میں منعقد ہونے والے اردو کارواں کے سالانہ پروگرام عشرہ اردو کے مقابلوں میں حصہ لینے کے لئے اساتذہ و طلباء کو تیار رہنے کے لئے کہا۔
Comments are closed.