اے ایم یو نے اپنے بانی سر سید احمد خاں کو شایان شان خراج عقیدت پیش کیا

علی گڑھ، 17 اکتوبر:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے بانی سرسید احمد خاں کے 206ویں یوم پیدائش پر 17 اکتوبر کو یونیورسٹی کے گلستان سید میں منعقدہ جشن یوم سرسید سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے ممتاز قانون داں اور الہ آبادہائی کورٹ ، لکھنؤ بنچ کے سینئر جج جسٹس عطاء الرحمن مسعودی نے کہاکہ ایک ادارہ اپنا انفرادی سفر شروع کرتا ہے لیکن اس سفر کا رخ اجتماعی مقصد کی طرف ہونا چاہیے کیونکہ آغاز کامیابی یا ناکامی کا تعین نہیں کرتا، بلکہ مقصد اس کی کامیابی یا ناکامی کا تعین کرتا ہے۔
جسٹس مسعودی نے ہندوستانی آئین سے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین کی تمہید ’’ہم ‘‘ سے شروع ہوتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم بطور ہندوستانی ’’میں‘‘ کے خود ساختہ دائرے سے نکل کر اجتماعی اہداف کی طرف بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ آج اس حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ آیا ہم میں سے ہر ایک فرد یا ہر ایک ادارہ اجتماعیت کا حصہ بن سکتا ہے۔
جسٹس مسعودی نے 1985 میں اے ایم یو میں داخلہ کی نیت سے اپنی آمد کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ لاء میں کریئر بنانے کے مقصد سے وہ یہاں آئے تھے مگر تاخیر سے آنے کی وجہ سے داخلہ نہیں ہوسکا، مگر یہاں سے انھیں ایک تحریک ملی ۔ انھوں نے کہاکہ اے ایم یو کے مختصر قیام نے ان کی زندگی کو ایک سمت دینے میں بڑی مدد کی۔
تقریب کے مہمان اعزازی ریٹائرڈ آئی اے ایس ، اے ایم یو سے فارغ التحصیل اور جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے سابق وائس چانسلر جناب سید شاہد مہدی نے اپنے خطاب میں سرسید پر دو قومی نظریہ کا خالق ہونے یا علاحدگی پسند ہونے کے الزام کی سختی سے تردید کی۔ انھوں نے لاہور سے فروری 1884 میں شائع ہونے والے ایک اخبار میں چھپی ایک خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آریہ سماج کا ایک وفد لالہ سنگم لال کی قیادت میں سرسید سے ملا اور انھوں نے صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ تمام ہندوستانیوں کے لیے آواز اٹھانے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ لالہ سنگم لال نے کہا تھا کہ یہ ان کے لیے بڑے فخر اور خوشی کی بات ہے کہ سرسید جیسا عظیم مصلح ہندوستان میں پیدا ہوا۔
مسٹر شاہد مہدی نے زور دے کر کہا کہ سرسید کی شخصیت کے اس پہلو کا مطالعہ کرنے اور عوام کی معلومات کے لیے اسے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔
تقریب کے دوسرے مہمان اعزازی جناب سنجیو صراف (بانی، ریختہ فاؤنڈیشن) نے کہا کہ علی گڑھ اور اردو ان کے لئے یکساں ہیں ، جب انہوں نے پہلی بار اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے کام کرنے کے بارے میں سوچا تو بہترین، بھروسہ مند اور گرانقدر وسائل کے مرکز کے طور پر ان کے ذہن میں علی گڑھ کا نام ہی آیا ۔
انہوں نے کہا کہ علی گڑھ کے درو دیواربے شمار اردو شعراء اور ادیبوں کی کہانیاں بیان کرتے ہیں ۔ اردو کے کئی شاہکار یہاں سے نکلے ہیں۔ مسٹر صراف نے کہا کہ ترقی پسند شاعری کا آغاز علی گڑھ میں ترقی پسند تحریک کے آغاز سے بہت پہلے ہو چکا تھا اور یہ درحقیقت سرسید کی اردو نثر کی اصلاح کی کوششیں تھیں کہ ان کے زمانے میں بامقصد شاعری کے بیج پڑ گئے تھے۔
مہمان اعزازی ڈاکٹر لارنس گوٹیئر (سینٹر ڈی سائنسز ہیومینز، نئی دہلی) نے کہا کہ سرسیدان عظیم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں جن کے بارے میں انھیں جاننے کا موقع ملا۔ ہندوستان کے سب سے اہم مصلحین میں سے ایک کے طور پر سرسید کا اثر نہ صرف مسلمانوں بلکہ پورے ملک پر رہا ہے۔
محترمہ گوٹیئر نے کہا کہ ایک عظیم مصلح کی پہچان یہ ہے کہ وہ ایسی میراث چھوڑتا ہے جو وقت کے ساتھ جامد نہیں رہتا، بلکہ وہ بحث و مباحثہ کا باعث بنتا ہے اور ان کے جانشین اس پر مستقبل کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ اس طرح شیخ عبداللہ نے اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر لڑکیوں کے لیے ایک اسکول قائم کیا، جو بعد میں طالبات کا مشہور کالج بنا۔ سرسید نے جو کچھ کیا تھا اسے انھوں نے نہ صرف دوبارہ پیش کیا بلکہ بدلتے ہوئے حالات میں ان کی میراث کو آگے بڑھایا۔
اپنے صدارتی کلمات میں وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز نے یوم سرسید کے پرمسرت موقع پر پوری دنیا کی اے ایم یو برادری کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ دن یقیناً ایک عظیم شخص، اس کے وژن، اس کے عزم و لگن، اس کی قربانیوں اور خدمات پر جشن منانے کا دن ہے۔
انھوں نے کہا’’سرسید کے نزدیک امید حکمت عملی میں تھی اور حکمت عملی طاقت تھی، حکمت عملی تصادم کی نہیں بلکہ مکالمے اور ڈائیلاگ کی جو علم کی دولت اور مافی الضمیر ادا کرنے کے فن پر استوار ہو‘‘۔
پروفیسر گلریز نے کہا کہ علی گڑھ کا تعلیمی مقصد اس وقت کے دوسرے کالجوں سے مختلف تھا، کیونکہ اس میں اجتماعی شعور، جمہوری نقطہ نظر اور فکری بیداری پر زور دیا گیا تھا۔ سرسید اپنے طلباء کے لئے یہ چاہتے تھے کہ وہ ایک فکری عمل کی ابتدا کریں، اندھی اطاعت پر سوال اٹھائیں، صحیح اور غلط میں فرق کریں، نڈر ہوں، اخلاق اور رواداری کا گہرا احساس رکھیں، اور ایک ایسی شخصیت کے حامل ہوں جس کا ظاہر بھی مثبت و مؤثر پیغام دیتا ہو۔
انہوں نے کہا کہ سرسید چاہتے تھے کہ علی گڑھ ایک فکری اور ثقافتی مرکز بنے جس میں ہندوستان کے تمام ورثے محفوظ ہوں۔ سماجی ہم آہنگی، مشترکہ ثقافت، سبھی کی شمولیت اور اجتماعی ترقی کے تئیں سر سید کی وابستگی ، اے ایم یو کے ادارہ جاتی طرز عمل کی رہنمائی کرتی رہی ہے۔
پروفیسر گلریز نے حالیہ برسوں میں یونیورسٹی کی دستیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اے ایم یو نے این آئی آر ایف کی درجہ بندی میں ملک کی نویں بہترین یونیورسٹی، انڈیا ٹوڈے کی درجہ بندی میں تیسری بہترین یونیورسٹی کا درجہ اور ٹائمز ہائر ایجوکیشن کی درجہ بندی (2023) میں چھٹا مقام حاصل کیا ہے۔ یو ایس نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ 2023 میں اے ایم یو کے شعبہ ریاضی کو ملک میںریاضی کا سب سے بہتر شعبہ قرار دیا گیا اور دنیا میں 137 واں مقام دیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی نے قومی تعلیمی پالیسی 2020 کو نافذ کرنے میں بڑی پیش رفت کی ہے اور تدریسی عمل کو مزید اختراعی اور صنعت رخی بنانے کے لیے کچھ نئے پروگرام متعارف کرائے ہیں جن میں ایم ایس سی سائبر سیکورٹی،ایم ایس سی ڈاٹا سائنس، بی ٹیک اور ایم ٹیک آرٹیفیشل انٹیلی جنس، ویژول آرٹس میں بیچلر اور ماسٹر ، چار سالہ انٹیگریٹیڈ ٹیچنگ پروگرام، آئی ٹی ای پی وغیرہ شامل ہیں۔
وائس چانسلر نے طلباء پر زور دیا کہ وہ اپنے دن کلاس روم و لائبریری میں اور اپنی شامیں کھیلوں میں گزاریں اور صحت مند مباحثوں میں حصہ لیں، اس کے ساتھ ہی ڈھابوں پر اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے سے گریز کریں۔ وائس چانسلر نے بدھ کو تدریسی عمل معطل رہنے کا اعلان کیا۔
قبل ازیں اے ایم یو کے رجسٹرار جناب محمد عمران نے استقبالیہ تقریر کی ۔
مہمان خصوصی جسٹس مسعودی اور پروفیسر محمد گلریز نے انگریزی، ہندی اور اردو میں ’زبان و ادب پر سرسید کا اثر‘ موضوع پر دفتر رابطہ عامہ کے زیر اہتمام منعقدہ کل ہند مضمون نویسی مقابلہ کے فاتحین کو انعامات پیش کئے۔ ہر زبان میں پہلا، دوسرا اور تیسرا انعام جیتنے والوں کو بالترتیب 25000، 15000، اور 10000 روپے ، یادگاری نشان اور سرٹیفیکٹ دئے گئے۔ اِنوویشن کونسل و یونیورسٹی انکیوبیشن سینٹر کے زیر اہتمام منعقدہ اسٹوڈنٹس ریسرچ کنونشن کے فاتحین کو بھی انعامات پیش کئے گئے۔
سرسید احمد خاں کی تعلیمات، فلسفہ، خدمات اور مشن پر پروفیسر عائشہ منیرہ رشید (شعبہ انگریزی) اور پروفیسر توقیر عالم، ڈین، فیکلٹی آف تھیالوجی، اور طلباء میں سے مس سمرانہ مظفر اور سید فہیم احمد نے تقاریر کیں۔
اس موقع پر مسٹر مجیب اللہ زبیری (کنٹرولر)، پروفیسر محمد محسن خان (فنانس آفیسر) اور پروفیسر محمد وسیم علی (پراکٹر) دیگر معززین کے ساتھ موجود تھے۔ ڈین،ا سٹوڈنٹس ویلفیئر پروفیسر عبدالعلیم نے شکریہ ادا کیا۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر فائزہ عباسی اور ڈاکٹر شارق عاقل نے کی۔
جشن یوم سرسید کی تقریب کا آغاز یونیورسٹی مسجد میں نماز فجر کے بعد قرآن خوانی سے ہوا۔ وائس چانسلرپروفیسر گلریزنے یونیورسٹی کے اساتذہ اور افسران کے ساتھ مزار سرسید پرپھولوں کی چادر پیش کی۔ اس کے بعد وائس چانسلر نے سرسید ہاؤس میں سرسید احمد خاں کی حیات و خدمات سے متعلق کتب و تصاویر کی نمائش کا افتتاح کیا جس کا اہتمام مشترکہ طور سے مولانا آزاد لائبریری اور سرسید اکیڈمی نے کیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭

Comments are closed.