سر سید احمد خاں جیسی شخصیت صدیوں میں پید ا ہو تی ہے

سرسید احمد خاں کے یوم پیدائش کے حوالہ سے سہیل صدیقی کااظہار خیال
دیوبند،17؍ اکتوبر(سمیر چودھری؍بی این ایس)
مسلم فنڈ دیوبند کے منیجر اور متعدد تعلیمی اداروں کے روح رواں سہیل صدیقی نے کہاکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی اور عظیم شخصیت سرسید احمد خاںکے یوم پیدائش کے حوالہ سے تعلیم کی اہمیت کو بیان کیا او رکہاکہ سرسید احمد خاں جیسی شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہے اور صدیوں تک ہی اپنا اثر دکھاتی ہے،انہوںنے ملک و ملک کو جدید و عصری علوم سے ہم آہنگ کرنے کی منظم داغ بیل ڈالی تھی۔ 1857کی بغاوت کی ناکامی کے بعد انہوںنے عصری علوم سے مسلمانوں کو منسلک کرنے کے لئے جدید تعلیم کا خاکہ تیار کیا اور اپنے مشن کی کامیابی کے لئے تہذیب الاخلاق رسالہ جاری کیا اور سائنٹفک سوسائٹی کی بنیاد رکھی۔ سرسید احمد خان نے مذہب اور سائنس کے درمیان غیر معمولی ہم آہنگی پیدا کی۔ سہیل صدیقی نے کہاکہ سرسید احمد خان جدید تعلیمی نصاب کو دیکھنے اور سمجھنے کے لئے انگلستان گئے اور وہاں قیام کر کے کیمبرج یونیورسٹی اورآکسفورڈ کے تعلیمی نظام کا مشاہد ہ کیا۔ سرسید احمد خان ان یونیورسٹیوں کے نظام تعلیم سے بے حد متاثر ہوئے اور ہندوستان میں اسی طرز کی یونیورسٹی قائم کرنے کا عزم مصمم کیا۔ لہٰذا اس سمت میں پیش قدمی کرتے ہوئے سرسید احمد خان نے ایک مدرسہ کی بنیاد ڈالی بعد ازاں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کا سنگ بنیاد رکھا۔ آج یہی اینگلو اورینٹل کالج علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی شکل میں ہمارے سامنے ہے جو پوری دنیا میں علمی اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے۔ اس یونیورسٹی کا شمار ہندوستان کی دس سر فہرست یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔ سرسید احمد خان کے نظریہ تعلیم کے جائزہ سے اندازہ ہوتا ہے ان کا نظریہ تعلیم ہمہ گیر اور بہت وسیع تھا ،سر سید احمد خان تعلیم میں مکمل آزادی کے قائل تھے اور چاہتے تھے کہ مسلمانوں کی تعلیم ان کے ہاتھ میں رہے وہ خود اپنی تعلیم کے مالک ہوں اور بغیر کسی مداخلت کے پوری قوم علم سے سیراب ہوتی رہے۔ سرسیدا حمد خان ایک ایسے متحرک باعمل اور علم دوست شخص تھے جنہیں دنیا کبھی بھول نہیں سکتی۔سر سید احمد خان 17؍اکتوبر 1817کو پیدا ہوئے تھے۔

Comments are closed.