معاون اردومترجم معاملے پرافسران وزیراعلیٰ کوگمراہ کررہے ہیں

لسٹ جاری کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں،جان بوجھ کرتاخیر:کاروان تحفظ اردو
پٹنہ:18اکتوبر(پریس ریلیز)معاون اردومترجم کے امیدواروں کارزلٹ گزشتہ سال آیا۔گزشتہ سال ان کی کونسلنگ بھی ہوگئی۔لیکن ایک سال سے زیادہ ہوگیااب تک کونسلنگ کے بعدفائنل لسٹ جاری نہیں کی گئی۔وزیراعلیٰ کی بارہاتوجہ ا س پردلائی گئی، وزیراعلیٰ نے افسران سے وجہ دریافت کی توافسران نے وزیراعلیٰ کوبھی گمراہ کردیاکہ معاملہ کورٹ میں ہے اس لیے تاخیرہورہی ہے۔یہ بالکل گمراہ کن اورادھوراسچ ہے۔معاملہ کورٹ میں ان لوگوں کاتھاجن کے پاس پرانانان کریمی لیئر سرٹیفکیٹ (این سی ایل)بہاراسٹاف سلیکشن کمیشن(بی ایس ایس سی) کے نوٹیفکیشن کے مطابق نہیں تھا۔لیکن جوجنرل امیدوارہیں یاای ڈبلیوایس کے وہ امیدوارجن کے پاس بی ایس ایس سی کی شرط کے مطابق فارم بھرے جانے کی آخری تاریخ سے پہلے کی دستاویزہیں،یااوبی سی کے جن امیدواروں کے پاس بی ایس ایس سی کے نوٹیفکیشن کے مطابق پرانااین سی ایل ہے،ان کی لسٹ روکے جانے کاکوئی جوازنہیں ہے۔نیزیہ بھی دل چسپ ہے کہ کورٹ نے کوئی اسٹے نہیں لگایاجب اسٹے نہیں لگایاتوایک سال سے لسٹ کیوں روک کررکھی گئی۔ بی ایس ایس سی اردودشمنی میں بلاوجہ تاخیرکررہی ہے اس نے وزیراعلیٰ کوگمراہ کیاہے،وزیراعلیٰ کواس پربی ایس ایس سی کے افسران سے سوال کرناچاہیے تھا۔اب جب کہ امیدواروں نے کورٹ سے کیس واپس لیاہے۔توافسران کابہانہ بھی ختم ہوگیا۔اب تاخیربالکل ناقابل برداشت ہے۔حکومت مداخلت کرکے فورافائنل لسٹ جاری کرائے اورتقرری کی کاررائی آگے بڑھائے۔یہ مطالبہ کاروان تحفظ اردونے اپنے پریس بیان میں کیاہے۔
کاروان تحفظ اردوکے صدرمحمدنوشادنے خبردارکرتے ہوئے کہاہے کہ افسران اگراردودشمنی میں بلاوجہ لسٹ روک کربیٹھے ہوئے ہیں توحکومت کیاکررہی ہے۔وزیراعلیٰ اتنے کمزورکیوں ہیں کہ ان کوافسران گمراہ کردیتے ہیں۔کیاانہیں حقیقت کاعلم نہیں ہے۔انھوں نے افسران سے کیوں کاؤنٹرسوال نہیں پوچھاکہ کورٹ نے جب اسٹے نہیں لگایاتوسال بھرسے لسٹ کیوں روکی ہوئی ہے؟جن کامعاملہ کورٹ میں نہیں ہے،ان کی لسٹ میں تاخیرکیوں کی گئی؟اب جب کہ کورٹ کابہانہ بھی ختم ہوگیا۔اورامیدواروں نے اردوکی محبت میں کیس واپس لے لیاتوبی ایس ایس سی اورحکومت کے پاس کوئی جواب نہیں ہے اورلسٹ میں تاخیرکاکوئی بہانہ نہیں ہے۔حکومت فورامداخلت کرکے معاون اردومترجم کی لسٹ جاری کرائے،اوراردوڈائریکٹوریٹ جلدتقرری کاعمل مکمل کرائے۔انتخاب قریب ہے۔حکمراں جماعتیں خودکومسلم نوازاوراقلیتوں کامسیحاثابت کرنے میں لگی ہیں،ایسے میں اردومخالف اقدامات سے حکومت کی شبیہ اچھی نہیں ہے،افسران اگربے قابواوراردومخالف ذہنیت رکھتے ہیں توان کوکنٹرول کرنااورکام لیناحکومت کی ذمہ داری ہے،اس لیے اس ذمہ داری سے وہ نہیں بچ سکتی۔اب ذرابھی تاخیرکی گئی توکاروان تحفظ اردوحکومت کے مسلم اوراردومخالف چہرے کومسلمانوں کے درمیان لائے گی۔اس لیے یہ حکومت اوراس کے نزدیکیوں کے مفادمیں بھی ہے کہ جلد از جلد اردو اور اقلیتوں کے متعلق مسائل حل کیے جائیں، ورنہ کسی انتخابی نقصان کی ذمہ دارحکمراں جماعتیں ہوں گی۔اب اقلیتوں کولالی پاپ دے کرمزیدگمراہ نہیں کیاجاسکتا۔کاروان تحفظ اردو کے جنرل سکریٹری محمدفیاض الدین نے کہاکہ اب جب کہ کیس واپس لینے سے تمام بہانے ختم ہوگئے ہیں،رکاوٹ توپہلے بھی نہیں تھی،بس نیت ٹھیک نہیں تھی،اب جب کہ وہ بہانہ بھی نہیں ہے فوراحکومت خودمداخلت کرکے معاون اردومترجم کی فائنل لسٹ جاری کراکرتقرری کاعمل آگے بڑھائے۔اورملی ادارے،اردوسے متعلق سرکردہ شخصیات،ملی شخصیات اورتنظمیں اورمسلم سیاسی لیڈران حکومت کی توجہ اس جانب کرائیں یہ حکومت کے لیے بھی بہترہوگا۔

Comments are closed.