مولانا ابوالکلام آزادنے ہندوستان کو خودکفیل نظام تعلیم عطا کیا:مولاناانیس الرحمن قاسمی  یوم تعلیم پر آل انڈیا ملی کونسل بہار کے ریاستی دفتر میں خصوصی نشست کا اہتمام 

 

پھلواری شریف11/نومبر(پریس ریلیز)

آل انڈیا ملی کونسل بہار کے ریاستی دفتر میں آج یوم تعلیم روایتی اندازمیں منایا گیا،اس موقع پر کونسل کے دفتر میں خصوصی نشست رکھی گئی جس سے گفتگو کرتے ہوئے آل انڈیا ملی کونسل کے قومی نائب صدرحضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی نے فرمایا کہ مولانا ابوالکلام آزادؒ نے ہندوستان کی آبیاری اپنے خون جگر سے کی تھی، انہوں نے پوری زندگی ہندو مسلم اتحاد کو فروغ دینے اورمضبوط سے مضبوط تر بنانے کی جدو جہد کی،ایک موقع پر مولانا آزادنے کہا تھا کہ اگر آسمان کی بدلیوں سے کوئی فرشتہ اتر کر مجھے سوراج کی یقین دہانی ہندومسلم اتحاد کی قیمت پر کروائے تو میں ایسے سوراج کو ٹھکرادوں گا،کیوں کہ مکمل آزادی میں اگر تاخیر ہوئی تو یہ صرف ہندوستان کا نقصان ہوگا اوراگر ہندو مسلم اتحاد ٹوٹ گیا تو یہ پوری انسانیت کا نقصان ہوگا۔مولاناآزادنے اسی بنیاد پر ہندوستان کو ایسا نظام تعلیم دیا جس میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کے افکارونظریات کی رعایت کی گئی۔امام الہندمولاناابوالکلام آزادہندوستان کے صف اول کے معماروں میں ہیں۔مولاناآزادبھارت کے اولین وزیرتعلیم تھے اوران کی وزارت ہی میں ہندوستان کاعظیم تعلیمی نقشہ مرتب ہوا۔ یونیورسٹیوں،کالجوں کی جورونق ملک میں نظرآرہی ہے،وہ مولاناآزادکی فکررساذہن کی رہین منت ہے۔انہوں نے ہندوستان کانظام تعلیم مضبوط بنیادوں پرکھڑاکیا؛اس لیے مولاناآزادکے یوم ولادت 11/ نومبرکوریاست بہاراورملک کے حکومتی اورعوامی سطح پریوم تعلیم کے طورپرمنایاگیا۔جب کہ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا محمد ابوالکلام شمسی جوائنٹ جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل بہار نے کہا مولانا ابوالکلام آزادکی شخصیت ہم سب کے لیے آئیڈیل ہے، ان کی بلندی فکر نے ہندوستان کو خود کفیل نظام تعلیم عطا کیا، جس کی روشنی میں ہندوستان کا تعلیمی سفرجاری ہے، اورجاری رہنا چاہیے،ہماری ذمہ داری ہے کہ ہمیں ان بنیادوں کی حفاظت کرنی چاہیے،جس پر ہندوستان کا نظام تعلیم کھڑا ہے۔مولانامفتی محمدنافع عارفی نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے ہندوستان کی تعمیر اورآبیاری کا ذریعہ علم کو تصور کیا اورانہوں نے وزیر تعلیم کی حیثیت سے ہندوستان کو ایسا خود کفیل نظام تعلیم عطا کیا،جس نے اسے کاسہ گدائی سے بے نیاز کردیا،یونیورسیٹی گرانٹ کمیشن،آئی آئی ٹی، وغیرہ انہیں کی دین ہے۔مولانا آزادکے تعلیمی نظریے اورفلسفے کی بنیاد چارچیزوں پرتھی،اتحادوترقی،رواداری اورعالمی اُخوت، مولاناآزادکی نظرمیں تعلیم کی بنیاد حریت اورانسانیت کے بنیادی اصولوں پررکھی جانی چاہیے،اسی لیے انہوں نے ہندوستان کے نظام تعلیم کو انہیں بنیادوں پر استوار کیا، جس نے ہرایک طبقہ کوپڑھنے لکھنے اورآگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا، اورہندوستان کو اُخوت کی لڑی میں پرو دیا،لیکن انہیں بنیادوں کو کھودنے کی کوشش کی جارہی ہے،ہر ہندوستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی کوششوں کو کامیاب نہ ہونے دے۔جب کہ مولانا سید عادل فریدی سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل بہار وسکریٹری ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا آزادکی شخصیت ہمہ گیر اورہشت پہلو تھی،وہ مختلف میدانوں کے شہ سوار تھے، جہاد آزادی، تصنیف وتالیف، تقریروتحریر،قوم کے لیے جیل کی صعوبتیں،ان کی زندگی کے وہ اوراق ہیں، جس کا ہر ورق ملک اورقوم کے لیے فدائیت کا سبق پڑھا تا ہے، مولانا آزادنے بحیثیت وزیر تعلیم ملک کو وہ زاویہ نگاہ عطا کیا ہے، جس میں ان کا کوئی شریک وسہیم نہیں۔جب کہ مجلس امامیہ وخطباء کے جنرل سکریٹری مولاناسید امانت حسین نے فرمایا کہ مولاناابوالکلام آزادکی ولادت مکہ مکرمہ میں ہوئی تھی،وہ بچپن ہی سے بڑے ذہین تھے،تعلیمی مرحلہ بہت جلدپورا کرلیا، انہوں نے ہندوستانیون اوربطورخاص امت مسلمہ کو شکوہ شکایت کی نفسیات سے باہر نکالا،اورانہیں خود کفیل بننے کی تعلیم دی، ان کی فکر یہی تھی کہ ہندوستان اورہندوستانی دوسروں کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنے ملک کوایسی بنیادوں پر کھڑا کریں جہاں انہیں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہ پڑے،ملک کے طول وعرض میں پھیلی ہوئی سینکڑوں یونیور سیٹیاں اورکالجز مولانا آزادکے درس فکر کے نتیجے ہیں۔اس موقع پر ادارہ خدمت خلق کے صدر حضرت مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزادکو دنیا گو کہ ایک سیاسی قائد اورمجاہد آزادی کی حیثیت سے جانتی ہے، لیکن سچی بات یہ ہے کہ مولاناآزادکا دائرہ عمل بڑا وسیع تھا،ان کا دماغ بڑا زرخیر تھا،جو ہر وقت ملک وقوم کے لیے گھلتارہتا تھا،اگر ہندوستان صحیح طورپر ان کے بتائے طریقہ پر عمل کرتا تو ہندوستان کامعیار تعلیم آج یوروپ سے کہیں بہتر ہوتا۔ جب کہ علامہ ریاض الدین،قاری انور،مولانا نجم الہدیٰ قاسمی وغیرہ نے بھی خطاب کیا،اس موقع پر مولانا رضاء اللہ قاسمی، مولانا فیضان احمد قاسمی،مولانا نسیم اختر قاسمی، ابونصرہاشم،ماسٹر محبوب،جناب سید خورشید احمد،ڈاکٹر سہیل احمد اورمحمدخالد وغیرہ کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ شریک تھے۔

Comments are closed.