کانگریس پہلے اپنا زمینی کیڈر تیار کرے
عارف عزیز(بھوپال)
اسمبلیوں کے حالیہ الیکشن نتیجہ سے بی جے پی کے حوصلے اس لئے بھی بلند سے بلند تر ہوتے جارہے ہیں کیوں کہ ملک میں مؤثر اپوزیشن نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی ہے۔ ملک کی سب سے قدیم پارٹی اور ایک عرصے تک برسراقتدار رہنے والی کانگریس در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔ اگر کہیں پارٹی، بی جے پی کو منہ توڑ جواب دیتی بھی ہے تو کچھ عرصہ بعد خود منہ کی کھاتی ہے کیوں کہ اسی کے منتخب ارکان اسمبلی بی جے پی کی آغوش میں پناہ لے لیتے ہیں۔
کانگریس برسہا برس سے ایک خاندانی پارٹی کے طور پر چلتی رہی ہے، نہرو خاندان کے علاوہ کوئی اور قائد اس پارٹی کے حق میں فائدہ مند ثابت نہیں ہوا، لیکن یہ کانگریس کی بدنصیبی ہے کہ راہل گاندھی کے بعد پرینکا گاندھی بھی کانگریس کی گرتی ساکھ کو بچانے میں ناکام رہیں۔ کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کے سیاسی میدان میں آنے سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ کم از کم اترپردیش میں کانگریس کے ہاتھ مضبوط ہوں گے لیکن ایسا ہو نہ سکا۔ اس کی کافی حد تک ذمہ دار خود کانگریس ہے، برسہا برس سے اترپردیش میں اس کا وجود برائے نام ہو کر رہ گیا ہے۔ اس کے باوجود گزشتہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے تنہا انتخابات میں حصہ لیا اور شکست کا منہ دیکھا۔ مختلف ریاستوں میں کانگریس نے اپنی غلط حکمت عملی کی وجہ سے عوام بطور خاص نوجوانوں کے درمیان اپنی مقبولیت کھو دی، اس کی اہم وجہ کسی ایسے نوجوان قائد کا نہ ہونا ہے جو ان کے درمیان رہ کر جدوجہد کرسکے۔ راہل گاندھی سے امید کی جارہی تھی کہ وہ نوجوانوں کو کانگریس کے پرچم تلے جمع کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے، لیکن ہوا یہ کہ راہل گاندھی خود جوانی سے بڑھاپے کی جانب گامزن ہیں، وہ اس قدر دلبرداشت ہوچکے ہیں کہ انہوں نے کانگریس کی صدارت قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
ملک کی بیشتر ریاستوں بشمول گجرات، پنجاب، بنگال، اتراکھنڈ کانگریس کا وجود برائے نام ہو کر رہ گیا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ کانگریس بی جے پی کی طرح پہلے اپنا زمینی کیڈر مضبوط کرے اور عوام کے درمیان جا کر پرجوش اور نئے رہنما تلاش کرے جو بے جان ہوتی جارہی پارٹی میں نئی روح پھونک سکیں۔ بی جے پی جو آج طاقتور موقف رکھتی ہے، اس کی وجہ کانگریس کی کمزوری ہے، اگر کانگریس پارٹی اندر سے مضبوط ہوجائے تو پھر بی جے پی کمزور پڑجائے گی، کیوں کہ اس نے اپنے آٹھ سالہ دور اقتدار میں ایسا کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا ہے جو عوام کے مفاد میں بہتر ہو۔
Comments are closed.